fbpx

تحریر معین وجاہت عنوان :منفی سوچ کے اثرات۔

منفی سوچ ایک ایسا زہر ہے جو جسم میں سرائیت کر جائے تو فرد معاشرے سے کٹتا ہی ہے ساتھ میں فیملی کے لئے بھی وبال جان بن جاتا ہے۔ایسے انسان سے کنارہ کش ہونا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ منفی سوچ انسان کی شخصیت کو بھی منفی بنا دیتی ہے کیونکہ ایسا فرد ہر مثبت پہلو سے بھی منفی پہلو ہی نکالتا ہے ۔اسی زہریلی سوچ کے زیر اثر انسان آہستہ آہستہ چڑچڑا پن کا شکار ہو جاتا ہے۔معاشرے سے ہٹ کے ایسے لوگ اپنوں کے لئے بھی سوہان روح بن جاتے ہیں۔ان سے لوگ بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے اور کوشش کرتے کہ اسے اپنے معاملات سے الگ رکھا جائے جس کے نتیجہ میں ایسے افراد اکیلے رہ جاتے ہیں ۔ان تمام چیزوں سے بچنے کے لئے اپنا کتھارسیس کیجئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انجانے میں آپ کا رویہ آپکی سوچ آپکو تنہا تو نہیں کر رہی؟ کہیں آپ کے اپنے آپ سے بات نہ کرنا بہتر تو نہیں سمجھ رہے؟کیا آپ کو اپنی زندگی بوجھ تو نہیں لگنے لگی ؟کہیں آپ ہر لمحہ زہنی ڈیپریشن کا شکار تو نہیں ہو رہے؟اگر ان میں سے کوئ بھی سائین آپکو نظر آ رہا ہے اور آپ نارمل زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں اگر آپ اپنے ارگرد کے ماحول کو خوبصورت بنانا اور دیکھنا چاہتے ہیں زندگی کے تمام لمحوں کی خوبصورتی کو کشید کرنا چاہتے ہیں اس کائنات کے رنگوں میں کھونا اور انہیں محسوس کرنا چاہتے ہیں ؟ آپ اپنے ارد گرد بچوں کی قلقاریوں میں زندگی کا احساس چاہتے ہیں ؟ اور اگر آپ زندگی کو صحیح معنوں میں جینا چاہتے ہیں تو پھر اپنی سوچ کو بدلیں۔اپنی سوچ کے زاویے کو درست کریں ہر منفی سوچ کو جھٹک کر اسے مثبت انداز میں ڈھالیں زندگی کو محسوس کریں اپنوں کو اپنے منفی رویے کی وجہ سے دور نہ کریں۔بلکہ ایسا رویہ اپنائیں کہ آپ کے اپنے آپ کے نزدیک رہنا جنت تصور کریں ۔ جب آپ یہ قدم اٹھائیں گے تو یقین کیجئے آپکو اپنے ارد گرد تتلیاں اڑتی ہوئ محسوس ہوں گی اور آپ خود کو نہ صرف باوقار شہری بلکہ اپنے گھر کا ذمہ دار فرد سمجھیں گے۔ اور ہر قسم کے ڈیپریشن سے آزاد ہوں گے آزمائش شرط ہے

@iamnoww50