fbpx

ڈراموں میں گلے لگانے سے منع کیا تولاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا،وکیل

ڈراموں میں گلے لگانے سے منع کیا تولاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا،وکیل
سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف از خود نوٹس پر سماعت ہوئی

عدالت نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا کیس سے ہائیکورٹ میں زیر سماعت مقدمہ متاثر سے نہیں ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا پیش ہورہے ہیں وہ وضاحت دیں گے آزادی اظہار رائے اور میڈیا رولز سے متعلق عدالت نے گزشتہ سماعت پر وضاحت مانگی ،

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس میں میڈیا رپورٹس کے متعلق عدالت سے دلچسپ گفتگو کی اور کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کی نامزدگی جنات کے زریعے ہوئی، جس پر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ جنات کو چھوڑ دیں بات دور تلک تک جائے گی. کچھ لوگ جنات کے تصور کو مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے، جنات کی باتیں کرنے والے اور جھوٹی خبر دینے والے خود اپنا اعتماد کھو دیتے ہیں، بولنے دیں جو بولتا ہے ایسی باتوں کو کون سنتا ہے،سب چاہتے ہیں شام کو انکے حق میں تبصرے ہوں،برطانیہ میں کسی کے خلاف جھوٹی خبر دینے والے کا گھر تک نیلام ہوجاتا ہے،پاکستان میں ہتک عزت کی سزا سے متعلق قوانین ہی نہیں ہیں،

وکیل نے کہا کہ پیمرا رولز کے مطابق چینلز کو ریگولیٹ کرتے ہیں،ٹی وی ڈراموں میں گلے لگانے سے منع کیا تو اسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کون ہوتا ہے گلے لگانے سے روکنے والا یہ تو خود ڈرامہ بنانے والے خیال کریں ، وکیل پیمرا نے کہا کہ فحاشی کی نہ کوئی تعریف ہے نہ حدود و قیود اس طرح ہمیں کئی مسائل کا سامنا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹی وی پر ایک دوسرے کو گالیاں دی گئیں اور پھر کہا گیا یہ لاہور کا کلچر ہے،جسٹس اعجاز الاحسن کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے

جسٹس اعجاز الاحسن نے ڈی جی ایف آئی اے سے سوال کیا کہ اب تک صحافیوں کی شکایات پر کیا اقدامات کیے،ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ صحافیوں سے ملاقات کی اور تحریری جواب جمع کرا دیا ہے،سابق صدر پریس ایسوسی آف سپریم کورٹ امجد بھٹی عدالت میں پیش ہوئے ،امجد بھٹی نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی سے خوشگوار ملاقات ہوئی اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے مسکراتے ہوئے امجد بھٹی سے سوال کیا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے آپکو چائے پلائی یا نہیں، جس پر امجد بھٹی نے کہا کہ جی ڈی ایف آئی اے نے چائے کے ساتھ ریفریشمنٹ بھی کرائی،جسٹس اعجازالاحسن نے امجد بھٹی سے مخاطب ہو کر کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے آپکو کوئی ٹوکری تو نہیں دی، جسٹس اعجازالاحسن کے استفسار پر عدالت میں قہقہے لگ گئے

آئی جی اسلام آباد احسن یونس عدالت میں پیش ہوئے ، جسٹس قاضی امین نے آئی جی اسلام آباد سے سوال کیا کہ ابصار عالم پرقاتلانہ حملہ کرنے والا پکڑا یا نہیں، آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ نادرا کو ڈیٹا بھیجا ہوا ہے ابھی تک ملزم گرفتار نہیں ہو سکا،صحافیوں کے 16 مقدمات میں سے 12 حل ہوچکے اور 4 کی تحقیقات جاری ہیں، جسٹس قاضی امین نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ دارالحکومت میں گولی چلی ملزم کو پکڑیں،ابصار عالم کو میں نہیں جانتا کسی بھی شخص پر حملہ ہو تو پولیس اس کا پتہ چلائے اسلام آباد میں پولیس پر فائرنگ ہوتی ہے ایسے واقعات کو روکنا ہوگا،

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو سنیں گے، صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز بھی اپنی رپورٹس جمع کرائیں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

انڈس نیوز کی بندش، صحافیوں کا ملک ریاض کے گھر کے باہر دھرنا

تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ملک ریاض کو کہا جائے،آپ نیوز کے ملازمین کا جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کو خط

پنجاب پولیس نے ملک ریاض فیملی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، حسان نیازی

جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

ملک ریاض کے باپ سے پیسے لے کر نہیں کھاتا، کوئی آسمان سے نہیں اترا کہ بات نا کی جائے، اینکر عمران خان

صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ عدالت