fbpx

والدین اور بچوں کا بچپن تحریر : راجہ حشام صادق

اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے کیا وجہ ہے کہ ہم بچوں کے بچپن سے ہی یہ الفاظ بولنا شروع کر دیتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر پاٶ گے تم سےنہیں ہو گا یا تم یہ نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ ۔

اس کائنات میں کوٸی بھی ایسی چیز یا کام نہیں جو ایک انسان کے لیے ناممکن ہو۔پھر ہم بچوں کے دماغ میں ایسی چیزیں کیوں ڈالتے ہیں؟؟؟
انسان کسی کام کو کرنے کی کوشش کریں اور وہ نہ ہو۔ایسا ممکن نہیں
بچہ بھی جب اٹھ کر چلنا شروع کرتا ہے تو آپ سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتے ہو کیونکہ اس کے گرنے پر آپ اسے تھام لیتے ہو شروع شروع میں بچہ لڑکھڑا بھی جاتا ہے مگر آہستہ آہستہ ماں اس بچے کو سہارا دے کر چلنا سکھا دیتی ہے آخر کار وہ صرف چلنا نہیں بلکہ بھاگنا شروع کردیتا ہے۔

ایک رینگتے بچے کو آپ چلنا سکھا سکتے ہو تو زندگی کے طویل سفر کے لیے اسے مایوس کیوں کر رہے ہو
میرے نزدیک والدین کا بہت آہم رول ہے اپنے بچے کی کامیابی میں۔

انسانی دماغ میں ہر چیز ہر لفظ ٹہر جاتا ہے اب یہ آپ کے اختیار میں کہ آپ اپنے بچے کے دماغ میں امید کی کرن کو کیسے روشن کرتے ہیں۔اگر آپ اپنے بچے کے دماغ میں ایک بات بٹھا دیں کہ تم یہ کر سکتے ہو تو یقین کریں وہ بچہ کر بھی جائے گا

اللہ تعالٰی نے انسان کو قابلیت ،صلاحیت سب کچھ عطا کیا ہے بس ہمیں تھوڑا سا پالش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے

ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں دنیا کی کوٸی طاقت انسان کو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتی جب تک انسان خود شکست تسلیم نہ کر لے۔

@No1Hasham