fbpx

والدین کی عظمت ۔ خدمت اور احساس .تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

میں نے جب جب بھی والدین کی عظمت، خدمت اور اُن کے احساس کے حوالے سے لکھا، مجھے اولاد کی طرف سے ڈھیروں ڈھیر شکوے، شکایتیں، دل شکن زیادتیوں کی رودادیں سُننے کو ملتی ہیں۔ میں بھی ظاہر ہے کہ آپ سب کا ہی ایک حصّہ ہوں، اسی معاشرے کا فرد ہوں، جس میں آپ زندگی گزار رہے ہیں، سو میں بھی اس طرح کے کئی سارے معاملات دیکھتا ہوں۔ اس حقیقت سے مُجھے کوئی انکار نہیں کہ برِّصغیری معاشرہ بالعموم بچّوں اور بالخصوص بیٹوں اور بہوءوں کیلئے ایک شدّید قسم کا استحصالی معاشرہ ہے۔ بیٹوں میں سے جو حسّاس ہو، احساسِ ذمہ داری کا مالک ہو، محنتی ہو اور تھوڑا سا اپنی شدّید محنت کے باعث باوسائل ہو، وہ ساری زندگی ایک نادیدہ چکّی میں پستا رہتا ہے اور اُسے اس چکّی کے پاٹوں میں پیسنے والے اُس کے والدین ہوتے ہیں، الّا ماشاءاللّٰہ۔ اور بہوءوں اور بیٹیوں کے ساتھ معاملات میں واضح منافقت اور دوہرا معیار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اب سوال۔یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب والدین زیادتی کر رہے ہوں تو اولاد کیا کرے؟؟ یہ سوال بہت بار مُجھ سے پوچھا گیا اور میں خود بھی بہت عرصے سے اس پہ لکھنا چاہ رہا تھا

قرآنِ حکیم میں جا بجا ربِّ کائنات نے شرک کی ممانعت کے فی الفور بعد والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حُکم دیا ہے، احسان یعنی نیکی، بھلائی، خیر خواہی۔ یعنی رب کو رب تسلیم۔کرنے کے بعد سب سے اہم کام والدین کے ساتھ بھلائی ہے۔ آج اگر والدین کے حقوق کا احساس دلانے کیلئے اولاد کو والدین کی قربانیاں گنوائی جائیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی خواہش سے یہ سب کیا، ہم پہ احسان نہیں کیا!!! جب کہ قرآنِ مجید نے ربِّ کائنات نے خود ماں کے احسانات گنوائے ہیں "اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حُکم دیا ہے، اُس کی ماں نے اُس کو بڑی مشقّت سے جنا اور اُس کو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑوانا تیس ماہ میں پورا ہوتا ہے”۔ اگر صرف اس ضمن میں قرآنی آیات ہی لکھنا شروع کر دوں تو ایک طویل تحریر مرتّب ہو جائے، احادیث اُس کے علاوہ ہیں اور والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کی بےےے تحاشہ تاکید قرآن اور حدیث شریف میں ملتی ہے۔ اب پھر وہی سوال کہ والدین زیادتی کریں تو کیا کیا جائے۔۔

پہلے بیٹوں سے بات کروں گا۔ دیکھیں حضراتِ محترم۔۔ سب سے پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ کے والدین بھی آپ۔کی طرح انسان ہیں۔ اُن سے فرشتوں والے معاملات کی توقّع رکھنا عبث ہے۔ آپ یہ سمجھیں کہ وہ ہر لمحہ، ہر وقت انصاف کا ترازو لے کے پھرتے رہیں گے کہ مُجھ سے زیادتی نہ سرزد ہو جائے تو یہ سعادت بہت کم والدین کے حصّے کے آتی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں خود اپنا احتساب کر کے، اولاد کے ساتھ اپنے معاملات چلائیں۔ والدین کی اکثرہّت ایسا نہیں سوچتی۔ اگر تو آپ باوسائل ہیں اور اپنے بیوی بچّوں کے معاملات بحُسن و خوبی چلانے کے ساتھ باقی بھائیوں سے زیادہ آپ پہ ذمہ داری کا بوجھ ڈالا جاتا ہے اور آپ وہ بآسانی اُٹھانے کے قابل۔ہوں، معاشی طور پر، پھر کہوں گا کہ اپنے بیوی بچّوں کے معاملات بحُسن و خوبی ادا کرنے کے بعد، تو میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں آپ اگر اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کریں گے تو آپ پہ اللّٰہ کی رحمت ضرور نازل ہو گی۔ لیکن اگر معاملات ایسے ہوں کہ جہاں۔آپ کو اپنے بیوی بچّوں کے لالے پڑے ہوں اور والدین غیر اخلاقی بوجھ ڈالیں تب آپ پہ سب سے پہلے اپنے بیوی بچّوں کے معاملات ادا کرنا فرض ہے۔ فرض کریں کہ آپ والدین کی کسی حقیقی زیادتی کے باعث اُن سے اپنے معاملات الگ کر چُکے ہیں، گھر کے اندر ہی یا گھر سے باہر کسی اور جگہ، تو کیا آپ کو والدین کو مُردہ تصوّر کر لینا چاہیئے؟؟ آپ سال سال بھر اُن سے ملیں نہ، بیوی بچّوں کو اُن سے نہ ملوائیں، اُن کی کسی ضرورت پہ نظر نہ رکھیں، کیا یہ ردِّ عمل ہونا چاہیئے؟؟ ہر گز نہیں!! آپ اُن سے الگ ہو کے دُنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، آپ کی بنیاد، دنیا اور آخرت کی بھلائی صرف ان دو انسانوں۔کے ساتھ منسلک ہے، جو آپ کے والدین ہیں۔ یاد رکھیں کہ اگر والدین زندگی کے کسی موڑ پہ اولاد کے ساتھ زیادتی کرتے بھی ہیں تو وہ اپنی زیادتیوں، ظلم اور ناانصافیوں کیلئے ربِّ کائنات کی بارگاہ میں از خود ذمہ دار اور جوابدہ ہیں، اُن کی زیادتی آپ کی زیادتی کیلئے کبھی جواز نہیں بن سکتی. آپ اپنے حقوق کا تحفّظ کر چُکنے کے بعد اُن کے ساتھ ہر طرح سے حُسنِ سلوک کرنے کے پابند ہیں۔ وہ ناراض ہیں تو اُنہیں منائیں، بےشک آپ اُس معاملے میں واقعتاً مظلوم ہوں، تب بھی، جہاں تک ممکن ہو اُن کی ضروریات کا ازخود خیال رکھیں اور دو گھروں میں رہ کے بھی، احساس زندہ ہو تو والدین کی خدمت کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ قرآنِ حکیم۔میں مُشرک والدین کی شرک میں اطاعت سے منع فرمانے کے بعد ربِّ کائنا ت نے دُنیاوی معاملات میں اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم دیا ہے۔ مُراد یہ کہ اُن۔کے وہ احکامات جن سے دین۔کے کسی بھی حُکم کی روح مجروح ہوتی ہو، وہاں اطاعت ساقط ہو جاتی ہے لیکن خدمت اس کے باوجود بھی فرض ہی رہتی ہے۔

اب آتا ہوں بہوءوں کی طرف۔۔! آپ کو دورِ جدید کی علم۔کی فراوانی نے یہ تو بتا دیا ہے کہ ساس سُسر کی خدمت کرنا آپ پہ شرعاً فرض نہیں لیکن کسی نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ اسلامی قانون اور فقہ کے مطابق اخلاقی فرض شرعی فرض پہ مقدّم ہوتا ہے۔ اس کی مثال علماء کُچھ یوں دیتے ہیں کہ سوءر ایک نجس العین جانور ہے، اس کو چھونا بھی ناپاکی کا باعث بنتا ہے۔ شرعاً اس کو چھونے کی سختی سے ممانعت ہے، لیکن فرض کریں کہ آپ کہیں جا رہے ہوں اور آپ کے رستے میں ایک سوءر زخمی حالت میں موجود ہے تو اُس کی زندگی بچانے کی تگ و دو کرنا آپ کا اخلاقی فرض بن جاتا ہے، یہاں اُسے چھونے کی شرعی ممانعت ساقط ہو جائے گی اور آپ کا اخلاقی فریضہ مقدّم ہو جائے گا اور آپ اُسے اُٹھا کے طبّی امداد دینے کیلئے لے کے جائیں گے۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ جن والدین کی مشقّتّوں اور رہاضتوں کا ثمر، اُن کا بیٹا آپ کی زندگی میں ہر لمحہ آسانیاں پیدا کر رہا ہے، اُن کی خدمت سے بڑا بھی کوئی اخلاقی فریضہ ہو گا؟؟ چھوٹی موٹی زیادتیوں سے ویسے ہی صرفِ نظر کر دیا کریں، جیسے شادی سے پہلے اپنی امّی کی ڈانٹ ڈپٹ اور ابّو جی کی کسی وقت کی سختی برداشت کیا کرتی تھیں۔ اگر زیادتی حد سے سوا ہو جائے تو اپنا تحفُظ ضرور کریں، اُن سے ایک فاصلہ پیدا کر لیں۔ الگ گرہستی رکھنا آپ کا حق اور آپ کے شوہر کا فرض ہے، لیکن اپنا الگ سے گھر بسانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ والدین سے قطع تعلّق کر لیا جائے، اُن کے ساتھ دل۔میں احساس، اور مروّت کا رشتہ کم از کم قائم رکھیں۔ وہ اپنی زیادتیوں کیلئے رب کی بارگاہ میں خود جوابدہ ہیں، اُن کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بارے میں آپ سے بہر صورت سوال کیا جائے گا۔ وما علینا الّا لبلٰغ۔۔