fbpx

والدین معاشرتی بگاڑ روکیں تحریر : انجینیئر مدثر حسین

بچے من کے سچے ہوتے ہیں عقل کے بھولے ہوتے ہیں اور زہن کے کچے بھی ہوتے ہیں. بچوں کے معاملات میں بچپن سے ہی احتیاط ضروری ہوتی ہے. کیونکہ جب کوئی انوکھی چیز بچے کے زہن میں اترتی ہے تو اس کے دو اثرات ہوتے ہیں. ایک اسکے زہں میں اس حرکت واقع یا چیز کے بارے کئی نے سوالات جنم لیتے ہیں تو دوسرا اس تحقیقی عمل کو بچہ ہمیشہ کے لیے اپنے زہن میں محفوظ کر لیتا ہے. اسی وجہ سے بچوں کی پرورش میں بچپن کا دور انتہائی معنی رکھتا ہے.

فی زمانہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کا زمہ سکول یا کوچنگ سنٹر پر ڈال کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں جو کہ قطعاً درست نہیں. دوسرا بچوں کو رواج اور فیشن میں انکی پسند پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے. دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے والدین رواج اور فیشن میں بچے کو اچھائی برائی کی پہچان کے بجائے خود اس کے پہناوے اور صحبت کو نظر انداز کرتے ہیں.
حدیث شریف میں حضور اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے.
تو بچے کی قربت رکھنا اور اس کی قربت میں رہنے والوں کی معلومات رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کس سے کس قسم کا اور کس حد تک تعلق اور میل جول ہے.
فیشن انڈسٹری نے پاکستان میں جس رفتار سے پنجے گاڑے ہیں اور جس بے دردی سے موجودہ جوان نسل اور چھوٹے بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کی تیاری میں مصروف ہے آج کل کے ماں باپ اس پر توجہ دینے کی بجائے الزام تراشی اور معاشرے پر اس کا زمہ ٹھراتے اور خود کی زمہ داری سے نظریں چرا رہے ہیں.
بچہ جب چھالیہ یا سپاری کھاتا ہے تو ماں باپ یہ کہ کر ٹال دیتے ہیں چلو ابھی بچہ ہی تو ہے. وہی بچہ عمر کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ جب سگریٹ نوشی تک ترقی پاتا ہے تو والدین کہتے ہیں زمانہ خراب ہے. بھئ زمانہ تو تب بھی ایسا ہی تھا جب اس نے چھالیہ کھایا. تب آپ اگر مطمئن تھے تو اب زمانے کو مت کوسئیے. بچے جب سکولوں میں رقص کرتے والدین شوق سے تصویریں کھنچواتے ہیں. یاد رکھیں یہ وہی تربیت کل اس کو جوانی میں بھی نچواے گی. زمانہ تو اب بھی ویسا ہی ہے تب بھی ایسا ہی ہو گا. زمانہ ایسا بنیا کس نے؟ آپ کی غیر زمہ داری نے.
متوسط طبقہ کے ماں باپ یہ کہکر بچوں کو چست لباس پہنا دیتے کہ آج کل بازار میں ہے ہی یہی کیا کیا جائے. جس بچی کو آپ نے آج سے ہی بنا بازو شرٹ پہنا دی ہے وہ اس کے زہن میں نقش ہو چکی ہے صاحب. کل کو اسے نافرمانی کے طعنے دینے کی بجاے اپنی غلطی پر ندامت کیجئے کیوں کہ یہ سب آپ نے ہی تو سکھایا ہے.

یاد رکھیں ایک عادت جو بچپن کی ہوتی ہے وہ کبھی نہیں بدلتی خصوصی طور پر ہر وہ عادت جسے خود فروغ دیا جائے.
فحاشی کا لباس بازاروں میں بکتا رہا. دوکاندار کو منافع خوری سے غرض، مل مالکان کو منافع خوری کی ہوس. کپڑے کا معیار گھٹیا سے گھٹیا کر دیا کی جسم کی رنگت دکھائی دیتی ہے. فیشن کے نام پر آدھا بدن ننگا کر دیا گیا. ایسا منافع دنیا میں بھی بیماریوں میں خرچ ہوتاہے اور آخرت میں بھی زوال کا باعث ہو گا. کیونکہ
اس بارے سخت وعید موجود ہے.
جو شخص چاہے قوم میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے.

کل کو یہی نسل جو بچپن سے بے حیائی کا لباس پہنتی آئی ہو گی آج بھی پہنے گی اور اس کی نظر میں اس میں کوئی برائی والی بات نہیں. اس کی مثال حالیہ وزیراعظم عمران خان کے فحاشی کےبیان پر تلملاتے لبرل فسادیوں کی بکواسیات سے لگایا جا سکتا ہے.
خدارا اپنی نسلوں کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر برباد ہونے سے بچائیے

والدین معاشرتی بگاڑ کو روکیں اور اپنی زمہ داری نبھائیں
1. بچوں کی صحبت پر نظر رکھیں.
2. کردار پر نظر رکھیں.
3. لباس پر نظر رکھیں خود سلا لیں لیکن مناسب پہنائیں اور مستقبل کی ندامت اور شرمندگی سے بچیں. تاکہ کل کو آپ کو اپنی اولاد سے لاتعلقی والی بیان بازی نہ کرنی پڑے.
4. اپنے والدین اپنے بہن بھائیوں کا ادب سکھائیں. ان سے تعلق کیسا ہونا چاہیے سکھائیں.
بلوغت میں یہ زمہ داری بھائی کے زمہ بھی آتی ہے کہ ماں باپ کی تربیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرے.
بہنوں کو بھی چاہیے کہ بحیثیت بیٹی باپ کی عزت، بحیثیت بہن بھائی کی غیرت بحیثیت بیوی شوہر کے وقار اور بحیثیت ماں بچوں کے مستقبل کی محافظ رہے.
یاد رکھئیے!
ایک مرد کا سدھرنا ایک فرد کا سدھرنا اور ایک عورت کا سدھرنا ایک نسل کا سدھرنا ہے کیونکہ عورت اپنی نسل کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے.
حضور نبی اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل بروز قیامت عورت اپنے ساتھ چار مرد جہنم میں لے کر جاے گی. باپ بھائی شوہر اور بیٹا کہ مجھے اس نے مجھے گناہ سے نہیں روکا.
فیصلہ آپکا

@EngrMuddsairH