fbpx

والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

بچے اپنے والدین کے انداز سے ہی متاثر ہوتے ہیں ۔اس طرح ہم لوگ بھی اپنے بچوں کی پرورش بھی اپنے ماں باپ کی طرح کرتے ہیں ۔ بچوں کی پرورش میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ہمیں چاہیئے کہ ہمیں اچھے ماں باپ بننے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔اس سے معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ جیسے والدین تربیت دیں گے بچے اسی طرح ماحول کو اپنائیں گے ،اسی طرح کی سوسائٹی کو اپنائیں گے ۔
آپ لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہونگے کے ہم سب اپنے بچوں سے بہت پیار کرتے اور ان کو آزادی بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنی من چاہے چیزیں کریں، پر ایک وقت آتا ہے کہ ہم اس حد کو پار کر دیتے ہیں اور پھر ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں ۔اور اس وقت سمجھ نہیں آتا کے کیا جائے ۔ جو کے سراسر غلط ہے ۔ہمیں اپنے بچوں کو ایک حد تک پیار، آزادی اور لاڈ دینا چاہیئے کیونکہ یہی پیار اور لاڈ بچے کو بگھاڑ بھی دیتا اور کھبی کھبی کھبی سنوار بھی دیتا ہے ۔ اور ان کی حدود کا تعین خود ماں باپ کو ہی کرنا چاہیئے ۔اب آپ کے ذہن میں سوال آئےگا کے "پیار کی حد کا تعین کیسے کیا جائے؟” تو جواب یہ ہے کے آپکو اپنا کردار بہتر کرنا ہوگا کیونکہ بچے اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں ۔ تو پھر جیسا والدین کا سلوک ،اخلاق اور رہن سہن ہو گا تو بچے وہی سیکھیں گے اور اپنائیں گے ۔
کچھ عرصہ پہلے جاپان میں ایک سروے کیا گیا اور کچھ لوگو کے انٹرویو لیے گے تو اس سروے کے مطابق والدین اور بچوں میں رابطہ بہت کم ہے ۔ اور والدین کا رویہ بچوں کے لیے بہت نرم بھی ہے ۔ ساتھ ہی سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک چوتھائی نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا برتاؤ بچوں کو لے کر بہت سخت ہے ۔ یہ بات صرف مشرقی ممالک تک ہی
محدود نہیں ہے ۔اس وجہہ سے بچوں اور والدین میں دوستی کا رشتہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔
والدین کو یہ بھی چاہیئے کہ بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی بھی ان پر مسلط نہ کرے۔ انکو بات بات پر نہ ٹوکا کریں ۔ انکے ہر موڈ کو تسلم کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کے تمام جذبات اور احساسات کو قبول کرنا چاہیئے تا کے جب ہم انکو غصہ کریں تو وہ پریشان نہ ہو اور اپنا دل چھوٹا نہ کریں۔ والدین کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ اسکا بچہ ہار وقت خوش رہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ ماہر نفسايات کے مطابق یہ ہے کہ آپ کا بچہ ہر وقت خوش نہیں رہ سکتا اس لئے والدین کا فرض ہے کہ بچے کے ہر موڈ کو قبول کرے اور اسکو مجبور نہ کرے کے وہ اسکی وجہ بتاۓ۔ کیونکہ اس سے انکا موڈ اور خراب ہو جائے گا اور یہ لازم ہے کہ وہ پھر اپنے ،والدین سے باتمیزی کریں۔
آپ(والدین) اپنے بچے کا انسانی عکس ہوتے ہیں ۔ہم اپنے بچوں کے ساتھ جو بھی بتاؤ کرتے ہیں وہی بتاؤ انکی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔اگر والدین کچھ اپنے بچے کو سمجھنا چاھتے ہیں تو وہ ان کو ہنسی مزاق میں اس بات کا ذکر کریں اور سمجھیں۔ کوشش کریں جب ملیں ان سے تو ہمیشہ خوشی سے ملیں۔ لیکن اگر آپ کے بچے کا رویہ برا ہے اور وہ آپکو اپنے اس رویہ سے کچھ محسوس یا کچھ بتانا چاہتا ہے تو آپکو اصل مطلب تلاش کرنا چاہیئے پھر اسکو حل کرنے کے لیے انکی مدد کریں ۔

Twittet ID: @iam_farha

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!