fbpx

سعودیہ واپسی کے منتظر پاکستانی پریشانی کا شکار تحریر ہارون خان جدون

سعودی عرب کی جانب سے کرونا کی وجہ سے ڈائریکٹ فلائٹس پر کہیں ماہ سے پابندی
کی وجہ اپنے ملک آئے ہوے پاکستانی مزدور ورکر بیچارے ذلیل و خوار ہو گئے ہیں
ابھی یہ سلسلہ جاری ہے جو بھی دو ماہ کے لیے گھر آیا تھا ہو دس دس ماہ سے گھر
بیٹھا ہوا ہے اب ہو بیچارہ کھائے گا کہاں سے؟ حکومت کو چاہیے سعودی عرب سے بات
کرکے کچھ حل نکالے

‏‎‎یورپ،امریکہ اور کنیڈا میں رہنے والے اورسیز جو وہاں مستقل رہنا چاہتے ہیں
اور پاکستان آنے کا امکان بھی نہیں اور نہ اپنے رقم کا دس فیصد بھی پاکستان
بھیجنا چاہتا ہے ان کیلئے سہولیات تلاش کیجاتی ہے لیکن جو مشرق وسطی ممالک میں
مقیم ہے اور جسمانی محنت مزدوری سے ہر سال ریکارڈ پیسہ ‏‎‎بھیجتے ہیں،جو اپنے
پیٹ کاٹ کر بچوں اور ملک کیخاطر یہاں یا پاکستان جاکر اب واپس آنے میں مشکلات
سہہ رہے ہیں ان کیلئے کوئ آواز اٹھانے والا نہیں۔۔۔

بنگلہ دیش جیسے ملک سے فلائٹس اوپن ہے لیکن ہمارے لوگ کرغزستان کے راستے آرہے,
‏‎‎بنگلہ دیش، نیپال، فلپائن، ازبکستان، تاجکستان اور بہت سارے ملکوں کی فلائٹ
ہے۔
لیکن پاکستان کو اپنا بھائ مان کر بھی فلائٹ کا اجازت نہیں دیتا۔
حکومت کو اس پر عملی اقدام اٹھانا چاہیئے ۔اور ان بیچاروں مزدوروں کی مدد کرنا
چاہیئے
اس وقت سودیہ میں سابق Dg رینجر جنرل R ‏‎بلال اکبر صاحب وہاں سفیر تعینات ہیں
انکو چاہیے کے وہ سودیہ سے آے ہوے ان ملازمت پیشہ لوگوں کے اس issue کو جلد از
جلد حل کروائیں کیوں کہ پاکستانی سفارتخانہ پہلے کا بہت ٹھنڈا ہے سعودیہ میں
انکی کوئی نہیں سنتا ہے بنگلہ دیش کرونا کے پیک میں بھی اوپن رہا اور اب بھی
نارمل فلائٹس ہیں پاکستان بنگلہ دیش سے بھی پیچھے ہے سعودیہ میں اور حکومت وقت
کی سفارت کاری بھی نا ہونے کے برابر ہے حکومت کو چاہیے کے وہ اس مسلے کو
سنجیدگی سے حل کروائیں کیوں کے لاکھوں مزدور وہاں کام کر کے اپنی family کو
سپورٹ کرتے ہیں اور انکا گھر چلتا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اکانومی کو
بھی بہت فائدہ ہے، عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے کھانے پینے کی ہر ایشاء
غریب کی پنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے بجلی گیس بھی مہنگی ہے اوپر سے کرونا کے اس
وائرس نے پوری دنیا خاص کر کے غریب ممالک میں رہنے والے مزدور طبقے پر بڑا اثر
ڈالا ہے انکی کمر ٹوٹ چکی ہے
جو لوگ پردیس میں کام کرتے ہیں انکی پوری family ان پر dependent ہوتی ہے وہی
پورے خاندان کا سرکل چلاتے ہیں
لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سوچنا چاہیے اور ‏‎جب تک پاکستانیوں کی
جعلی، ویکسین سرٹیفیکیٹ والی 2 نمبریاں نہیں رکیں گی سارے پاکستانی اسی طرح
ذلیل ہوتے رہیں گے مختلف ممالک میں۔ کڑوا سچ ہے

اس کے ساتھ جو لوگ گلف سے آے ہوے ہیں وہ وہاں کے قانون کی پاسداری کریں اور
کرونا vaccine کی دو  ڈوز مکمل لگواہیں تاکہ انکے لئے واپسی کا سفر آسان ہو
سکے کیوں کے دھوکے اور دو نمبری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس سے مزید پریشانی
بنتی ہے پاکستانیوں کو چاہیے کے وہ legal پراسس مکمل کریں اور اسکے ساتھ ساتھ
حکومت وقت وزیرخارجہ اور وہاں پر موجود پاکستانی سفیر کو پاکستانیوں کی اس
پریشانی کو سمجھنا چاہیے اور جلد از جلد اس issue کو حل کروانا چاہیے تاکہ
مزدور اپنے اپنے روزگار پر واپس جا کر اپنا کام سٹارٹ کر سکیں اور اپنی زندگی
کو معمول پر لا سکیں.

@ItzJadoon

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!