fbpx

وقت کی پابندی تحریر:‏نشاء خان

‏وقت کی پابندی

ہر کام کو وقتِ مقررہ پر کرنے کا نام وقت کی پابندی ہے۔ ہم گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہیں، آنے والے وقت کے لئے ہوائی قلعے تعمیر کرتے ہیں مگر حال کو بلکل فراموش کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں گزرے ہوئے وقت پر افسوس کرنے کی بجائے موجودہ وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ اس کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنی چاہیئے اور اس سے کام لے کر اپنے حال اور مستقبل کو روشن بنانے کی جدوجہد کرنی چاہیئے۔

اکثر لوگ وقت کی قدر و قیمت کا احساس نہیں رکھتے، کاش وہ اس حقیقت کو ذہن نشین کر لیں کہ وقت ایک انمول خزانہ ہے، اسے مفت میں نہیں گنوانا چاہیئے کیونکہ گزرا ہوا وقت کسی قیمت پر واپس نہیں آ سکتا۔ ہم محنت سے روپیہ کما سکتے ہیں، دوا،پرہیز اور عمدہ خوراک سے کھوئی ہوئی صحت واپس لا سکتے ہیں، تعلیم ، نیک چلنی اور رفاہِ عامہ کے کاموں سے عزت اور شہرت حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم اپنی تمام تر فہم و فراست ، اثر و رسوخ اور دولت و ثروت کے باوجود گزرے ہوئے وقت کا ایک لمحہ بھی واپس نہیں لا سکتے۔
ایک قول مشہور ہے کہ سکندر اعظم نے مرتے وقت کہا تھا ” کوئی میری تمام سلطنت لے لے اور مجھے جینے کے لئے چند لمحے اور دے دے ” لیکن ایسا کون کر سکتا تھا ؟

اگر ہم غور سے دیکھیں تو کائنات کا پورا نظام ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ دن اور رات اپنے مقررہ وقت پر آتے جاتے ہیں۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتے ہیں۔ چاند اپنے مقررہ وقت پر گھٹتا اور بڑھتا ہے ۔ سورج اپنے متعین وقت پر طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ فطرت کے ان عناصر کے پروگرام میں کبھی کوئی بے قاعدگی نہیں دیکھی گئ۔
وقت کی پابندی زندگی کے ہر شعبے میں ضروری ہے۔ دنیا کا کوئی شخص خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو جب تک وقت کا پابند نہیں ہوگا کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکے گا۔

مختصر یہ کہ جن لوگوں نے وقت کی قدر نہ کی، زمانہ ان سے روٹھ گیا۔ دولت اور حکومت ان سے منہ موڑ گئ۔ وہ خاشاک کی طرح بحرِ زندگانی میں بے مقصد بہتے رہے اور پھر اسی حالت میں ختم ہو گئے۔ عقل مند انسان وہی ہے جو وقت کی قدر و قیمت کو سمجھے اور کوئی لمحہ بیکار نہ گزارے۔ انسان کو بیکار رہنے کے لئے نہیں بنایا گیا ، بلکہ فطرت بھی اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی کام اپنے وقتِ مقررہ پر کرتا رہے۔

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
سدا عیشِ دوراں دکھاتا نہیں