fbpx

وسیم اکرم پلس کے کارنامے سامنے آنے لگ گئے،200 سے زائد گھر مسمار کروا کر زمینوں پر قبضہ کر لیا

وسیم اکرم پلس کے کارنامے سامنے آنے لگ گئے،200 سے زائد گھر مسمار کروا کر زمینوں پر قبضہ کر لیا

ڈیرہ غازیخان ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے کارنامے سامنے آنا شروع ہو گئے، وزیراعلیٰ بننے کے پانچ روز بعد ہی آبائی علاقے میں غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا،وزیراعلیٰ بننے کے 5 روز بعد ساکرموڑ منگروٹھہ روڈ پرسرکاری مشینری کی مدد سے دھاوابول کر200 سے زائد گھرمسمارکرکے پٹرول پمپ سمیت 80 مربع زمین پرقبضہ کرلیا،پٹرول پمپ کوپنجاب پولیس کی چوکی میں تبدیل کردیا گیا،زمین پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے پنجاب پولیس کی حدودمیں بارڈرملٹری پولیس کا تھانہ بنا دیا گیا،سردارعثمان خان کا دعویٰ ہے کہ یہ ہماری خاندانی زمین تھی جس پرقیصرانی قبیلے کے لوگ زبردستی قابض تھے ،ہم نے عدالت سے مقدمہ جیت کراپنارقبہ واگذارکرایا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں سابق وزیراعلی سردارعثمان خان بزدارکے دادا سردارپائند خان بزدارنے یہاں کے مقامی پنچائتی جرگہ میں تسلیم کیا اورلکھ کر دیا تھا کہ اس رقبہ پربزدارقوم کاکوئی حق نہیں ہے اورانہوں نے اس پر قیصرانی قبیلے کا حق ملکیت تسلیم کیا۔

ڈیرہ غازیخان تحصیل تونسہ شریف سے منتخب ہونے والے رکن پنجاب اسمبلی سردارعثمان احمد خان بزدار نے 21 اگست 2018ء کوبطوروزیراعلیٰ پنجاب حلف اٹھایا تھا،جسے سابق وزیراعظم عمران خان نے وسیم اکرم پلس قراردیا تھا نے محض وزیرااعلیٰ بننے کے 5روزبعد ساکرموڑمنگروٹھہ روڈپرسرکاری مشینری کی مددسے دھاوا بول کر قیصرانی قبیلے کے 200 سے زائد گھروں پرمشتمل آبادی کومسمارکرا دیا اورساتھ ہی پٹرول پمپ سمیت 80 مربع زمین پرقبضہ کرلیا۔پٹرول پمپ کو پولیس چوکی میں تبدیل کردیاگیا۔قیصرانی قبیلے کے لوگوں کا کہنا ہے قبضہ کی گئی زمین ان کی ملکیت ہے ،جبکہ بزدارکہتے ہیں کہ یہ زمین ہماری ہے کیونکہ ہم نے اس زمین کا کیس عداکت سے جیتا ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے اس علاقہ میں جنتا زمین قبضہ میں لی ہے اس کے مقابلے میں اس علاقہ میں ان کی اتنازمین نہیں ہے،قبضہ شدہ سینکڑوں کنال زمین قیصرانی قبیلے کے غریب مزدوروں کی ہے جس پرسردارعثمان بزدارنے وزیراعلیٰ بننے کے فوراََ بعد بزورِطاقت قبضہ کرلیا۔

ساکرموڑپنجاب پولیس کی حدودمیں واقع ہے یہاں پرسابق وزیراعلی عثمان بزدار نے سرکاری وسائل کا ناجائزفائدہ اٹھایا،اس قبضہ شدہ رقبہ پر اپنا قبضہ مستحکم اورحفاظت کرنے کیلئے پنجاب پولیس کی حدود میں کروڑوں روپے خرچ کرکے بارڈر ملٹری پولیس کی ایک نئی چیک پوسٹ تعمیرکی گئی جسے بعدمیں بی ایم پی تھانہ ساکرمیں تبدیل کردیا گیاجہاں ایس ایچ اوسمیت نفری بھی تعینات کردی گئی۔ تمن قیصرانی میں بنائے گئے غیرقانونی بی ایم پی تھانہ کی حدودبنانے کیلئے چار موضعے شامل کئے ،اس علاقہ مین اثراورقبضہ شدہ زمین کی حفاظت کومدنظررکھتے ہوئے تمن بزدارکے دوموضع جات شامل کئے گئے تاکہ تمن بزدارسے تعلق رکھنے والے بی ایم پی اہلکاراورایس ایچ اوتعینات کئے جاسکیں ،اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے علاقہ میں بی ایم پی کاتھانہ بنانا بھی قواعدوضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔بی ایم پی تھانہ بننے کے باوجود سردارعثمان خان بزدارکواس علاقہ میں ایک مستقل رہائش کی ضرورت تھی کیونکہ انہیں معلوم تھاکہ وزارت اعلی کی کرسی کسی بھی وقت چھن جائے گی تواس ضرورت کوپوراکرنے کیلئے سب پہلے بی ایم پی رسالداروں کی دواضافی سیٹیں پیداکی گئیں ان میں سے ایک سیٹ پراپنے چھوٹے بھائی عمرخان بزدار کوترقی دیکر رسالداربنا دیا کیونکہ اس نے بطور رسالدارتمن بزدارمیں اپنی ڈیوٹی سرانجام دینا تھی توتھانہ ساکرکے ساتھ بی ایم پی رسالدار کی رہائش کیلئے سرکاری فنڈزکا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے ایک عالی شان عمارت بنوانے کے احکامات دئے گئے تا کہ اقتدارجانے کے بعد قیصرانی قبیلے کے لوگ سرنہ اٹھا سکیں اوراگروہ اپنی زمین کا قبضہ چھڑانا چاہیں توبذریعہ بی ایم فورس جوکہ رسالدار (جس کاگریڈ ایک ڈی ایس پی کے برابرہوتا ہے)کی زیرکمان ہوتی ہے اسے بروقت اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیاجاسکے۔

ذرائع کابتاناہے کہ جس زمین پرقبضہ کیا گیا وہ قدرتی معدنیات سے مالامال ہے۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ اس رقبہ کی آبپاشی کی ضروریات کوپوراکرنے کیلئے کسی آبادی کے نام پرایک واٹرسپلائی سکیم منظورکرائی گئی جوکہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیرہ غازیخان نے تعمیرکی،کیونکہ رہائشی گھروں کی آبادی توپہلے مسمارکردی گئی تھی ،اس نئی تعمیرشدہ واٹرسپلائی سکیم سے پانی کی سپلائی کیلئے کوئی ایک گھربھی موجودنہیں ہے تویہ واٹرسپلائی صرف زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہوگی۔تونسہ سے ساکرموڑتک کا فاصلہ 9 کلومیٹر ہے ،اس قبضہ شدہ رقبہ کی ویلیوبڑھانے اوراپنی آمدورفت میں آسانی کیلئے37 کروڑروپے کی لاگت سے بہترین 9 کلومیٹرلمبی نئی کارپٹ سڑک بنوائی گئی۔

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ سردارعثمان خان کے ایک داداسردارپائندخان بزدارنے مقامی پنچائتی جرگہ میں لکھ کردیا تھاکہ یہ زمین بزدارقوم کی نہیں ہے اوراس زمین پرقیصرانی قبیلے کاحق ملکیت تسلیم کیاتھا۔سردارعثمان بزدارکا خاندان مسلسل پرپیگنڈہ کررہاہے کہ ہم لوگ کمزورتھے توہماری زمینوں پر قیصرانیوں نے قبضہ کرلیاتھا،یہاں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کیا چیف سردارکمزورہوتا ہے ؟سردارعثمان خان بزدار کے والد سردارفتح محمد خان بزدارجنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں مجلسِ شوراکے رکن تھے ،کئی بارممبرپنجاب اسمبلی رہے اورخودعثمان خان بزدار دوبارتحصیل ناظم رہے ،اس کے علاوہ 2013سے 2018 تک مسلم لیگ ن کے دورِحکومت میں اِس علاقہ کے سیاہ وسفیدکے مالک تھے ،سوچنے کی بات تویہ ہے کہ اتنا کچھ اختیارات حاصل ہونے کے باوجودسابق وزیراعلیٰ سردارعثمان خان بزدارغریب دیہاڑی دارمزدورطبقہ سے اگران کارقبہ ہوتا توکیا ایسے لوگوں سے واگذارنہیں کراسکتے تھے۔

پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار

لانگ مارچ،متحرک کارکنان کی فہرستیں تھانوں کو مل گئیں

پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے