وطن عزیز اور ہم تحریر راجہ حشام صادق

0
63

اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے اچھے اور برے حق اور باطل کے درمیان فرق کی پہچان سکھلائی آزادی کے بعد جس طرح بڑے بڑے جاگیرداروں نے اس ملک خداداد پر اپنا تسلط قائم کیا اس ملک کو اپنی جاگیروں میں تقسیم کر دیا۔

صوبائی اور لسانیت میں قوم کو منتشر کر کے دلوں میں نفرتوں کے بیج بوئے گئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے دن سے ہی اس کا وجود ختم کرنے کے لئے سازشوں نے جنم لینا شروع کر دیا تھا اقتدار کے لئے عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلا گیا۔ کوئی مذہبی تو کوئی سیاسی میدان میں آ گیا قسمت کے مارے غریب ، مظلوم اور لاچار لوگوں نے جسم کو ڈھانپنے کے لئے اور پیٹ بھرنے کے لئے انگریزوں کے بعد ایک اور غلامی قبول کر لی ۔اس وقت کسی کو یہ شعور نہیں تھا کہ وہ ایک بار پھر اپنی نسلوں کو غلام بنانے چلا ہے۔ فکر تھی تو معاش کی اپنا اور اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے کی۔

کسی بھی عام آدمی کے نزدیک ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اس وقت جہالت اس قدر تھی کہ ملک کو چند افراد کی جاگیر سمجھتے تھے۔ اس ملک کے مسائل کا حل بھی چند افراد کا حق سمجھتے تھے۔ہماری قوم کے پاس وقت ہی کہاں تھا کہ وہ خود اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر اس ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ لوگوں میں اتنا شعور بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے حق کے لئے آواز اٹھا سکیں۔میرے خیال میں شاید کچھ اس طرح ذہن سازی ہو چکی تھی کہ ہم پیدا ہی غلامی کرنے کے لئے ہوئے ہیں۔

بس یہی سوچ ہے کہ آج تک چلتی آ رہی ہے اس وقت بھی ہماری قوم نے خود کو اپنے حکمرانوں کا غلام بنائے رکھا اور حکمرانوں نے خود کو دوسرے ممالک کا غلام بنا رکھا ہے۔

میرے عزیز ہم وطنوں یہی سوچ ایک عام آدمی سے چلتی ہوئی اقتدار کے ایوانوں تک جا پہنچی جو اس قوم کے محافظ تھے۔ اس مٹی اس دھرتی کے آمین تھے وہی بزدل اور غدار ثابت ہوئے۔اور اب بات تیہتر سال بعد اس ملک کو بلیک لسٹ کرنے تک جا پہنچی اس کا عملی مظاہرہ میری قوم نے حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کے اندر دیکھا جہاں ایک سو نوے افراد نے اس ملک اپنی جان سے پیاری دھرتی ماں کے خلاف نہ صرف ووٹ دیا بلکہ اس وطن عزیز کے وجود اس کی سلامتی کے دشمنوں کو یقین دہانی کروائی کہ وہ آج بھی اپنی مٹی اپنی دھرتی ماں کے غدار ہیں یہ سب دیکھ کر میرا اپنی قوم کی سوچ ان کی ترجیحات پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔

یاد رکھیں یہ وطن عزیز ہے تو ہم ہیں اس کی سلامتی کے ساتھ ہی ہم سب کا جینا مشروط ہے۔ جس غدار یا بیرونی دشمن نے اس کی طرف میلی آنکھ دیکھا یا اس کی سلامتی پر حملہ کیا ۔تو اس دن اس قوم کا بچہ بچہ اپنی وفاداری ثابت کرے گا۔ جب تک ایک محب وطن زندہ رہے گا وہ اپنی آزادی کی جنگ لڑتا رہے گا ۔ اپنی آزادی کے تحفظ کے حصول کے لئے اس دھرتی پر موجود ہر شخص اپنا دفاع سچے دل اور جذبے کے ساتھ کرتا رہے گا ۔

لیکن ڈر لگتا ہے اگر اس قوم نے اب بھی اپنا احتساب نہ کیا تو اس وقت بھی خواب غفلت میں رہے تو۔ پھر ہم پر وہ جنگ مسلط کی جائے گی جس کے خلاف اپنی جانوں کی قربانی دینی ہو گی ہمارا زندہ رہنا اس وطن عزیز کی سلامتی کے ساتھ ہے وطن عزیز کی سلامتی اور حفاظت کے لئے ہمیں اب ایک قوم بننا ہو گا۔ اپنی سوچوں کو بدلنا ہو گا حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا ہو گا۔

اللہ تعالٰی سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

@No1Hasham

Leave a reply