fbpx

وزیر اعظم ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان پہنچ گئے

وزیر اعظم محمد شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او ) کے سربراہانِ مملکت کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے 2 روزہ دورے پراسلام آباد سے ازبکستان پہنچ گئے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ سمرقند ایئرپورٹ پہنچنے پر ازبکستان کے وزیر اعظم عبداللہ اریپوف نے وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کیا. وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ (سی ایچ ایس) کے 22ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان کے 2 روزہ دورے پر سمرقند پہنچے ہیں۔

ازبکستان کے 2 روزہ دورے کے لیے سمرقند اپنی روانگی سے قبل وزیر اعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے متعلق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ایک پیغام میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی بدحالی نے ایس سی او رکن ممالک کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت کا اجاگر کیا ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ ‘ایس سی او وژن’ دنیا کی 40 فیصد آبادی کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ‘شنگھائی اسپرٹ’ کے اپنے عزم کا اعادہ کرتاہے، باہمی احترام و اعتماد مشترکہ ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم آفس کےمیڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم سمرقند ایئر پورٹ سے حضرت خضر کمپلیکس جائیں گے جہاں وہ نہ صرف مسجدِ خضر بلکہ اسلام کاری-موف کے مزار پر بھی جائیں گے جس کے بعد وزیرِ اعظم صدر تاجکستان امام علی رحمٰن ،صدر ازبکستان شوکت مرزیوف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کریں گے۔


وزیرِ اعظم ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، بیلا روس کے صدرالیگزینڈر گریگوری-وچ لوکا-شینکو اور صدر کرغستان سیدر جاپاروف سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزیرِ اعظم ازبک صدر کی طرف سے سربراہانِ ممالک کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے میں شرکت کریں گے۔ عشائیے کے بعد وزیرِ اعظم ترکیہ کے صدر رجب طیب اردون سے بھی ملاقات کریں گے۔