fbpx

وزیراعظم کا اخباری صنعت کو مشکلات سے نکالنے کے لئے بڑے پیکج کا اعلان

وزیراعظم شہبازشریف سے آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائیٹی (اے پی این ایس) کے وفد نے ملاقات کی ملاقات میں وزیراعظم نے اخباری صنعت کو مشکلات اور بحران سے نکالنے کے لئے بڑے پیکج کا اعلان گیا.

وزیراعظم شہبازشریف نے30 جون تک سابق حکومت کے تشہیر ی واجبات ادا کرنے کی ہدایت کی، اس موقع پروزیراعظم نے پی ٹی آئی دورکے اخبارات اور تشہیری کمپنیوں کے حکومتی واجبات ادا کرنے کا حکم دیا.

وزیراعطم شہباز شریف نے کہا کہ وہ سیاسی انتقام میں یقین نہیں رکھتے، اس سے ملک کو بہت نقصان پہنچا ہے، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مہنگائی کے تناسب سے تشہیری نرخ میں مناسب اضافہ کریں گے.بجٹ میں اخباری صنعت پر کوئی نیا ٹیکس یا ڈیوٹی نہیں لگائیں گے،اخباری صنعت کو بحران سے نکالنے کے لئے اضافی ریلیف بھی فراہم کریں گیا جائے گا.

ملاقات میں وزیراعظم شہبازشریف کے علاوہ وزیراطلاعات مریم اورنگزیب اوروزیراعظم کے معاون خصوصی فہد حسین بھی موجود تھے جبکہ اے پی این ایس کے صدر سرمد علی کی قیادت میں وفد میں سیکریٹری جنرل ناز آفرین سہگل لاکھانی شامل تھیں،ملاقات میں سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، جمیل اطہر، شہاب زبیری کے علاوہ محترمہ رمیزہ نظامی بھی شریک ہوئیں ،عمرمجیب شامی، امتنان شاہد، ممتاز طاہر، محسن بلال، اویس خوشنود، وسیم احمد، منیر گیلانی اور ہمایوں گوہر بھی ملاقات میں موجود تھے.

قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے انڈس ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ قومیں محنت ‘صف بندی اور پلاننگ سے بنتی ہیں جس کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا’ صحت اور تعلیم پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے، آئی ٹی اور دیگر شعبے ہیں جن میں پاکستان بہت آگے بڑھ سکتا ہے، معیشت کا پہیہ چلائیں گے، معیشت مضبوط کرنے کے لیے آگے بڑھنا ہو گا’ملک کو آگے چلانے کیلئے ہمیں گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ،اچھے لوگ کسی بھی حکومت کیساتھ کام کریں تو اسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے، ہمیں اپنی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر اور ذاتی انا کو مار کر ملکی مفاد اور قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیےکام کرنا ہو گا، اس وقت دنیا میں ہمیں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، سابقہ حکومت نے پی کے ایل آئی جو خطے کا بہترین ہسپتال تھا اسے سیاست کی نظر کردیا، ہم نے بڑی کوشش کی لیکن دل پر پتھر رکھ کر قیمتیں بڑھانی پڑیں، میں پوری کوشش کروں گا کہ غریب شہریوں پر بوجھ نہ پڑے۔