fbpx

وزیراعظم کےافغانستان مؤقف کی بین الاقوامی تائید اورافغانستان میں طالبان حکومت تحریر : سید محمد مدنی

وزیراعظم کی بائیس سال کی سیاسی جدوجہد یہ بائیس سال کہنا تو بہت آسان ہے مگر گزارنا قدرے مختلف وزیراعظم نے بارہا کہا صرف مقامی خبروں کے چینلز پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی خبروں کے چینلز پر بھی متعدد بار یہی کہا کے افغانستان کا حل جنگ نہیں بات چیت ہے. اس مؤقف کو ہر جگہ اجاگر کیا گیا یہاں تک وزیراعظم کو طالبان خان کہا جانے لگا اس کی وجہ کے وزیراعظم نے افغانستان جنگ کی مخالفت کی اور کہا افغانستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف بات چیت ہی میں ہے.

امریکہ کی اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس نے تاریخ سے کبھی نہیں سیکھا ویت نام ہو عراق ہو ایران کویت ہو یا افغانستان ہر جگہ گھسے جنگ کی اور بلا آخر کچھ بھی حاصل نا ہؤا اور واپس گئے اور آج ایک بار پھر افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء شروع ہو چکا ہے جب روس یو ایس ایس آر تھا تب بھی افغانستان میں امریکہ گیا اور سوائے نقصان کے کچھ حاصل نا ہؤا.

آج زرا نئے امریکی صدر جوبائیڈن پر نظر ڈالیں تو وہ بھی یہی کہتا نظر آئے گا کے جنگ مسائل کا حل نہیں اور امریکی صدر نے یہ بھی کہا کے میں اب نئے آنے والے صدر پر ایک بار پھر افغانستان کا مسئلہ نہیں ڈالنا چاہتا میرے ملک کی افواج نے وہاں جانیں دیں اور مزید کیوں جانیں دے جب افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی اور فوج بجائے لڑنے کے بھاگ گئی اگرچہ امریکہ کی نیت پر بھروسہ تو نہیں کیا جا سکتا مگر حالات اب کچھ ایسے ہی نظر آتے ہیں کے امریکہ اس بار واقعی سنجیدہ ہے اور افغانستان سے واپس جا رہا ہے.

جو ملک سب سے زیادہ تباہ ہؤا وہ پاکستان ہے کیونکہ اس نے دہشتگردی کا سامنا کیا ٹی ٹی پی اور جیسی کئی دہشتگرد تنظیموں نے پاکستان پر حملے کئے اب یہاں کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کے اب طالبان آگئے پھر سے حالات خراب ہوں گے افغان طالبان نے پاکستان پر حملے نہیں بلکہ امریکہ اور بھارت نے مل کر وہاں ایسے دہشت گرد بنائے جس نے پاکستان پر حملے کئے اور اب افغان طالبان کے ترجمان نے واضح کہا اور پاکستانی میڈیا پر کہا کے اب ہم افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ہم سب ممالک سے امن اور اچھے تعلقات کے حامی ہیں اس بیان سے سب سے زیادہ بھارت کو نقصان ہؤا ہے کیونکہ اشرف غنی کے دور حکومت میں افغانستان بھارت کے زیر اثر تھا بھارت نے وہاں انویسٹمنٹ کی دراصل وہ بیٹھا ہی پاکستان کو کنٹرول اور سینڈوچ کرنے کے لئے تھا لیکن حکمت عملی اور قدرت کا کچھ ایسا کرنا ہؤا کے امریکہ نے افغانستان سے ہاتھ اٹھایا اور یوں افغانستان سے اب پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی جنگوں کا بھی اختتام ہوگا
کل وزیرستان میں پاکستان آرمی کے جوان پر فائرنگ کی گئی اور ایک جوان شہید ہؤا اب بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کے شائد ابھی بھی افغانستان سے دہشتگردی ہو رہی ہے لیکن ایسا نہیں دراصل کچھ ایسے عناصر جو پاکستان میں پہلے ہی سے داخل ہوکر یہاں زندگی بسر کر رہے ہوں گے انھی کی کارستانی ہے.

اب ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور ہے ہے اور اس میں خبروں کو انٹرنیٹ پر ایسے دکھایا جاتا ہے کے گویا وہ خبر درست ہو کچھ عرصے سے ہمارے سوشل میڈیا پر افغانستان سے متعلق باقاعدہ غلط خبروں کا سلسلہ شروع ہے کے لو جی طالبان آگئے اب پاکستان میں یہ ہوگا وہ ہوگا تو محترم قارئین اس بات کو بھی زیہن نشین کرلیں کے ایسی خبریں بھارت عناصر ہی پھیلائیں گے کیونکہ بھارت کو بہت نقصان ہؤا ہے اس کا پاکستان کو اکیلا کرنے اور پراکسی جنگ جاری رکھنے کا خواب الحمد لله چِکنا چُور ہوگیا ہے وہ غلط خبریں پھیلانے میں کسی بھی حد تک جائے گا مجھے امید ہے بلکہ یقین ہے کے اب افغانستان میں تبدیلی آئے گی ابھی جس وقت میں یہ کال م لکھ رہا ہوں تو کل یا کچھ دن پہلے بھارتی وزیراعظم کی کابینہ کا اہم سیکورٹی اجلاس اور افغانستان کی صورتحال پر جائزہ لیا گیا اس ویڈیو میں باڈی لینگویج بہت کچھ بتا رہی تھی کے بھارت کا کتنا نقصان ہؤا ہے.

بھارتی وزیر خارجہ کل پرسوں دوحا قطر میں موجود تھے انھوں نے اپنے ہم قطری ہم منصب سے ملاقات کی اور افغانستان ڈسکس کیا اور مبصرین کے مطابق افغانستان میں تبدیلی اور بھارت کے پیچھے رہ جانے کتمے بعد بھارت دیگر راستے تلاش کرنے میں مصروف ہے.

پاکستان کی معیشت کے امکانات روشن ہیں افغانستان میں امن آنے کو ہے اور وسطی ایشیائی ممالک ( براستہ افغانستان) ، میں اپنی تجارت کو فروغ دے گا ان شاء ﷲ پھلتا پھولتا پاکستان.

آمین.

Twitter id : @ M1Pak