fbpx

ہم کھڑے ہیں . علی چاند کا بلاگ

جناب 30 منٹ کھڑے کیوں ہونا ہے ؟
جواب ملا قوم کو بیدار کرنے کے لیے ۔
جناب قوم تو پہلے سے ہی بیدار ہے اپنے ضمیر پر سے پیسے کے لالچ کا بوجھ اتاریں تاکہ آپ کا ضمیر بیدار ہو ۔

قوم کو بہت بہت مبارک ہو کہ میری قوم ابھی بھی زندہ ہے لیکن دکھ تو یہ ہے کہ صرف 30 منٹ کھڑے ہونے کے لیے زندہ ہے ، نعرہ تکبیر کہہ کر آگے بڑھنے کے لیے نہیں ۔ آج قوم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر بتا دیا کہ ہم آج بھی کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم کشمیریوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ، ہم اپنی کشمیری بہنوں کی عزتوں کے لیے ابھی بھی فکر مند ہیں ، ہم آج بھی کشمیریوں کے لیے جان دینے کو تیار کھڑے ہیں ، ہم آج بھی کشمیریوں سے وفا نبھانے کو تیار کھڑے ہیں ۔ آج قوم نے اپنے حکمرانوں اپنے لیڈروں سمیت ثابت کر دیا کہ ہم آج بھی اپنے کشمیری بھاٸیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مبارک ہو میری قوم کو کہ آج ہم نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے دیا ہے دنیا والوں کو ۔

میرے کشمیری لوگو فکر نا کرنا بس ابھی دیکھنا ابھی مودی کا فون آٸے گا کہ پاکستانیوں تم نے 30 منٹ کھڑے ہوکر ہمیں بہت زیادہ خوف زدہ کر دیا ہے لے لو پلیز لے لو ہم سے کشمیر واپس ، میری کشمیری بہنوں دیکھنا ابھی انڈیین آرمی والے تمہاری عزتوں کو تار تار کرنے کی بجاٸے تمہارے محافظ بن جاٸیں گے اور ہاتھ جوڑ کر تمہارے سامنے اعتراف کریں گے کہ پاکستانی قوم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر ہمیں بہت خوفزدہ کر دیا ہے ، میرے کشمیری بوڑھوں فکر نا کرو ہم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر انڈیا والوں کو اس قدر ڈرا دھمکا لیا ہے کہ وہ آٸندہ کبھی تمہارے جوانوں کو شہید کر کے اجتماعی قبروں کے قبرستان نہیں بناٸیں گے ، میری کشمیری ماٶں آج سر فخر سے بلند کر لو کہ ہم پاکستانیوں نے 30 منٹ کھڑے ہوکر انڈین فوجیوں کو اتنا خوف زدہ کر دیا ہے کہ وہ اب تمہارے جوان بیٹوں کو کبھی شہید نہیں کریں گے ، کبھی تمہارے سر سے آنچل نہیں کھینچے گے ، میری کشمیری بیٹیوں خوش ہوجاٶ کہ آج کے بعد کبھی تم یتیمی کی زندگی نہیں گزارو گی ، آج کے بعد ہندو تمہیں کبھی پریشان نہیں کریں گے ، آج کے بعد کبھی تمہارے گھروں میں گولی اور بارود نہیں آٸے گا ، آج کے بعد کبھی تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آٸیں گے ، آج کے بعد تم میں سے کوٸی معزور نہیں ہوگا ، میری کشمیری بچیوں آج کے بعد کوٸی دکھ تمہارے قریب نہیں آٸے گا کیونکہ آج تمہارے پاکستانی بھاٸی تمہارے لیے 30 منٹ کھڑے ہوٸے ہیں ۔

پاکستانیو ! مبارک ہو ہم نے بالآخر وہ طریقہ ڈھونڈ ہی نکالا جس کا علم نا محمد بن قاسم کو تھا ، نا محمود غزنوی کو تھا ، نا صلاح الدین ایوبی کو تھا یہ طریقہ تو صرف اور صرف پاکستانی حکمرانوں کے پاس ہے کہ بغیر ہتھیار اٹھاٸے ، بغیر جنگ کٸیے ، بغیر خون خرابہ کیے کس طرح کشمیر فتح کر لیا ہے آج ہم نے کہ دنیا کفر ہمارے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے ، میری اپنے حکمرانوں سے گزارش ہے کہ اپنی افواج سے جدید ترین ہتھیار ، بلکہ ہر قسم کے ہتھیار لے کر واپس بلا لیں اور ہر جمعہ پاکستانی قوم کو 30 منٹ کے لیے کھڑا کر دیا کریں تاکہ عالم کفر ہم سے خوف زدہ رہے ۔ میری پیاری پاکستانی قوم کبھی تم لوگوں نے محسوس نہیں کیا کہ ہم پاکستانی کم اور کوفی زیادہ ہیں ۔ میدان کربلا میں ایک ایک ہیرا کٹتا رہا اور اہل کوفہ کیسے خاموش رہے تھے جانتے ہو کیسے تھے ؟ بالکل ہم جیسے ، جیسے ہم ہیں ویسے ہی اہل کوفہ تھے ۔ کشمیری ہمارے پرچم کے ساتھ شہید ہوتے رہے ، عزتیں لٹاتے رہے ، جانیں دیتے رہے ، اور ہم ان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں وہی جو اہل کوفہ نے سادات کے ساتھ کیا تھا ۔ شاید ہم انڈیا کے ساتھ تجارت بند کرتے ، فضاٸی حدود بند کرتے ، یا نعرہ تکبیر بلند کر کے اعلان جہاد کرتے تو ہم انڈیا کو اتنا نقصان نہ پہنچا پاتے جتنا ہم نے 30 منٹ کھڑے ہوکر انڈیا کا نقصان کر دیا ہے ۔میری اپنے حکمرانوں سے گزارش ہے کہ آٸیندہ جب 30 منٹ کھڑے ہونے کا اعلان کریں تو عالم کفر کو زیادہ خوف زدہ کرنے کے لیے قوم کے مردوں سے کہے کہ وہ ہاتھوں پر مہندی لگا کر ، چوڑیاں پہن کر اور سر پر دوپٹہ لے کر 30 منٹ کھڑیں ہوں تاکہ 30 منٹ کھڑے ہونے کی نوبت ہی نا آٸے بلکہ یہ مسلہ 3 4 منٹ میں حل ہوجاٸے ۔

محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی کی منتظر قوم کو ایسی بہادری مبارک ہو جس میں صرف 30 منٹ کھڑے ہوکر ہماری قوم نے کشمیر کے ساتھ ساتھ مسٸلہ فلسطین و مسٸلہ برما اور دیگر تمام مساٸل حل کر لیے ہیں ۔