fbpx

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کریں گے: اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی

لاہور:لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کریں گے: پرویز الٰہی نے اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز شریف کے حلف سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اسمبلی میں توالیکشن ہی نہیں ہوا،اسی لیے عدالتوں میں انصاف لینے گئے، فیصلہ آیا ہے اس کو چیلنج بھی کریں گے، گورنرپنجاب کا بھی مجھے فون آیا ہے، صدر مملکت، گورنر پنجاب بھی آئین کے تحت کام کر رہے ہیں، انا کی جنگ سے معاملہ کہیں اور جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکرقومی اسمبلی کس فورم پر جا کر حلف لے گا؟ ایسے حلف تو سڑکوں پر نہیں ہوتے، الیکشن کا فورم اسمبلی تھا، حلف گورنرہاؤس ہونا ہوتا ہے، صبح عدالتیں کھلیں گی تو وکلا جا کر پیش ہوں گے، ایسے تھوڑا ہو گا ایک دم سارا کچھ ختم ہوجائے گا۔ یہ نہیں ہوسکتا گھربیٹھے ہی حلف ہوجائے۔ صبح عدالتیں کھلیں گی توفیصلہ چیلنج ہونا ہے۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ عثمان بزدارکے نوٹی فیکشن میں لکھا ہے جب تک نیا حلف نہیں ہوتا وہ کام کرتے رہیں گے، ابھی تک 26 منحرف اراکین کا فیصلہ نہیں آیا، اگر منحرف اراکین کا فیصلہ آجاتا ہے تو یہ سارا الیکشن ہی ختم ہوجائے گا، 26 منحرف اراکین کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد ان کے پاس میجورٹی نہیں رہے گی، وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن گیلری میں ہونا بالکل غلط ہے، مجھ پر تو حملہ کیا گیا، یکطرفہ الیکشن نہیں ہوسکتا۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے اسمبلی پرحملے کے براہ راست حکم دیئے، آج انہوں نے سیکرٹری اسمبلی کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، یہ کچھ پنجاب میں ہو رہا ہے، ابھی توانہوں نے حلف نہیں اٹھایا اورلوگوں کو اندر کرانا شروع کر دیا ہے۔ شریف فیملی کو 22 دن تک انتظارکرنا چاہیے تھا، اس طرح نہیں ہوتا کہ چیزوں کو بلڈوز کر دیا جائے، اس حلف کا کوئی فائدہ نہیں گوالمنڈی میں جا کر لے لیں، اس طرح نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر مملکت، گورنر پنجاب ایکشن لیں گے، صدرمملکت،گورنرپنجاب کوبائی پاس نہیں کرسکتے؟ اس طرح نہیں ہوسکتا کہ یکطرفہ فیصلہ کر دیا جائے، مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد ہے، اللہ کی عدالت تو ہر وقت کھلی ہوتی ہے، ہوسکتا ہے ہمارے وکلا آج رات ہی پٹیشن دائر کر دیں، یہ کوئی طریقہ نہیں اسمبلی سٹاف کو اندر کر دیا جائے، اب یہ معاملات میں عدالتوں کولے آئے ہیں۔