fbpx

ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

11، 12، 13، 14، 15، 20،  22، 23،  25 ، 43، 45،  91، ، 93،9، 94۔۔۔۔ جیو اسٹار، نیا وقت، اچھا وقت، ، اے آر زیڈ، سماں،  میری جنگ، تیری جنگ، کرائم کنٹرول، اینٹی کرپشن، اینٹی کرائم۔ دوستو  ابتدائی حروف سے نہ سہی ، الفاظ کی گردان سے تو آپ کی سمجھ میں کچھ نہ کچھ معاملہ تو آہی گیا ہوگا،،، جی ہاں یہ وطن عزیز میں پھیلی اس نئی وبا یعنی ویب ٹی وی  میں سے چند ایک کے نام ہیں۔ اب میں انہیں وبا کیوں کہہ رہاہوں اسکا کچھ قصہ ہوجائے۔ پاکستان میں اکیسویں صدی کی ابتداء کے ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا تیزی سے پھلا پھولا، ایک کے بعد ایک سیٹلائٹ ٹی وی چینلز  منظر عام پر آئے۔  ہر لمحہ بریکنگ نیوز کی دوڑ نے عوام کے لیے نئی مصروفیت کا سامان کیا۔ ریٹنگ کے چکر میں ان چینلز کی  خبریں بعض اوقات ڈرامے سے بھی زیادہ سنسنی لیے  ہوتیں،،، صاف ستھرے چمکدار اسٹوڈیوز میں بیٹھے نیوز کاسٹرز اور اینکرز کو فنکاروں سے زیادہ شہرت ملنے لگی۔ ترقی کے خواہش مند ہر نوجوان کا دل اینکرنگ کو مچلنے لگا لیکن کیا کیجئے کہ ایک انار سو بیمار کے مصداق چند ایک چینلز تھے اور انکے کچھ درجن اینکرز۔ ٹی وی میزبان بننا مقابلے کا امتحان پاس کرنے سے زیادہ کٹھن اور قسمت کا کھیل سمجھا جانے لگا اور ہزاروں امیدواران میں سے کچھ حسد اور کچھ رشک کرتے رہ گئے۔

ان سب من ہی من میں تیار اینکرز اور  صحافیوں نے قسمت کا لکھا جان کر صبر کرلیا تھا کہ اسمارٹ فون کی آمد سے ایک نیا در  وا ہوگیا،،،  موبائل یا کمپیوٹرز میں ایڈیٹنگ سافٹ وئیر انسٹال کریں،،، دیوار پر ایک رنگ کا کپڑا لگائیں،،، کسی بھی موضوع پر ویڈیو ریکارڈ کریں اور اس کی ایڈیٹنگ کرکے پس منظر میں اسٹوڈیو بنا لیں،،، آپکا چینل تیار ہوگیا،،، شروع میں یہ چینل مقبول بھی ہوئے کیونکہ غیر روایتی انداز میں کام کرنے والے یہ چینلز پیمرا اور دیگر حکومتی کنڑول سے آزاد تھے ۔ یہاں بغیر کسی رکاوٹ کے حکومت پر تنقید ممکن تھی اور لائیو نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ شدہ ہر اسٹوری چلانا ممکن تھا،،، روایتی میڈیا کے تربیت یافتہ صحافیوں کا  شروع کردہ یہ سلسلہ جب غیر تربیت یافتہ، کم پڑھے لکھے اور دیہاڑی دار صحافیوں تک پہنچا تو وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوا کہ الامان۔

خود کو صحافی کہلانے والی یہ مخلوق معروف چینلز سے مشابہ لوگو اٹھائے  ہر چھوٹے بڑے شہروں کی گلی محلوں، دفاتر ، دکانوں اور فیکٹری کارخانوں پر یلغار کرتی نظر آتی ہے۔ خبر لینے کے بہانے یہ حضرات جب کسی تاجر کے پاس جاتے ہیں تو مفت جلیبیاں یا پکوڑے نہ ملنے پر  بھی ناراض ہوجاتے ہیں۔ یہ غصہ ویڈیو ریکارڈ کرکے اسی دکاندار کو دکھانے اور پیسے اینٹھنے پر ہی ختم ہوتا ہے،  ہر آتے جاتے عام و خاص کے سامنے منہ میں گھسیڑنے کی حد  تک مائیک دے ڈالنا اور اپنے بے تکے سوالات کا جواب مانگنا یہ صحافی اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ کسی کی نجی زندگی اور قانونی و غیر قانونی کافرق ان  کو بالکل نہیں معلوم ہوتا۔ سارا دن صحافت کے نام پر بھتہ خوری کےبعد شام کو یہی  فیس بکی اور یوٹیوبی "سینئر صحافی  "ہر مسئلے کا طوق  حکومت کے گلے ڈال کر  خود ہاتھ جھاڑ پرے  ہولیتے ہیں۔

حکومت کی دیگر پالیسیوں پر لاکھ اختلاف  سہی لیکن ایسے بے مہار چینلز اور منہ پھاڑ صحافیوں کا قبلہ درست کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ ایسے گلی محلے کے چینلز کی رجسٹریشن وقت کی ضرورت ہے،،، اس امر کے لیے مالکان کی اہلیت  اور شہرت  کو مدنظر بھی نہایت اہم ہوگا ورنہ میڈیا کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نہ ہو ان لفافی صحافیوں کے چکر میں حقیقی صحافی اور میڈیا سے وابستہ دیگر کارکن اپنی عزت بچانے کو شعبے کو خیرآباد کہہ دیں اور  پھر میڈیا کے نام پر ان  بہروپیوں کے کرتب ہی باقی بچیں

@hidesidewithak

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!