fbpx

عالمی معاشی فورم نے خواتین کے حقوق کی صنفی تفریق کی رپورٹ شائع کردی ، پاکستان کونسے نمبر پر

عالمی معاشی فورم نے خواتین کے حقوق کی صنفی تفریق کی رپورٹ شائع کردی ، پاکستان کونسے نمبر پر

باغی ٹی وی : عالمی معاشی فورم نے صنفی تفریق کے بارے میں رپورٹ شائع کر دی ہے جس کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے وعدوں کے باوجود ، صنفی عدم مساوات پر پاکستان کو 156 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے ، عالمی معاشی فورم کے (ڈبلیو ای ایف) نے گلوبل جینڈرگیپ نے 2021 ، رپورٹ میں کچھ تجاویز بھی پیش کی ہیں.

رپورٹ میں سال 2021 میں اس صورتحال کی وجوہات میں کئی بڑی آبادیوں والے ممالک میں بڑھتا سیاسی صنفی فرق شامل ہے ۔ اس رپورٹ کے انڈکس میں شامل 156 ممالک میں سے نصف سے زائد میں یہ صورتحال اگرچہ بہتری کی جانب گامزن نظر آتی ہے لیکن پھر بھی دنیا بھر میں اب بھی پارلیمانی نشستوں میں سے 1ء26 فیصد خواتین کے پاس ہیں جبکہ وزارتی عہدوں میں 6ء22 فیصد خواتین موجود ہیں ۔ سیاسی صنفی فرق کے خاتمے کا تخمینہ جاتی عرصہ 5ء145 برس ہے جبکہ 2020 کی رپورٹ میں یہ عرصہ 95 برس رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا ۔ اس تناظر میں درکار عرصہ میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے –

سال 2020 کی نسبت نئی رپورٹ میں صرف اقتصادی صنفی فرق میں کچھ بہتری نظر آئی ہے اور یہ فرق 6ء267 برس میں ختم ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ یہ سست پیشرفت بعض مخالف رحجانات کی وجہ سے ہے جبکہ ہنرمند پروفیشنلز میں خواتین کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے ، آمدنی میں عدم توازن برقرار ہے جبکہ مینجر سطح پر خواتین کی نمائیندگی بھی معمولی ہے – تعلیمی و صحت شعبہ میں صنفی فرق تقریبا ختم ہونے والا ہے ۔ تعلیم کے شعبے میں دنیا کے 37 ممالک نے صنفی برابری حاصل کرلی ہے اور دنیا میں مزید 2ء14 برس بعد یہ فرق ختم ہوجائے گا ۔ صحت کے شعبے میں فرق 95 فیصد ختم ہوچکا ہے تاہم گزشتہ برس کی نسبت اس رحجان میں قدرے کمی دیکھنے میں آئی ہے – عالمی اقتصادی فورم کی ایم ڈی سعدیہ زاہدی کا کہنا ہے کہ عالمی وباء کی وجہ سے صنفی مساوات پر بنیادی اثر پڑا ہے جوکہ کام کرنے کی جگہ اور گھر دونوں مقامات پر مرتب ہوا ، یہ صورتحال گزشتہ کئی برس کی محنت کو ضائع بھی کرگئی ہے ۔

اگر ہم نے مستقبل کی موثر معیشت کا پانا ہے تو آنے والے کل میں خواتین کو ملازمت دینا ہوگی ، آج اس بات کی اشد ترین ضرورت ہے کہ اس موضوع پر قیادت اپنی توجہ مرکوز کرے ، موثر اہداف کیلئے پرعزم بنیں اور وسائل کو متحرک کیا جائے ۔ یہ وقت ہے کہ بحالی کے عمل میں صنفی فرق کے خاتمے کو یکجان بنایا جائے – عالمی وباء کی وجہ سے مردوں کی نسبت خواتین پر زیادہ اثرات مرتب ہوئے ۔ آئی ایل او کے تخمینہ کے مطابق عالمی وباء سے 9ء3 فیصد مردوں کی ملازمت ختم ہوئی جبکہ خواتین میں یہ شرح 5 فیصد ہے ۔ امریکا کے ڈیٹا کے مطابق وہ خواتین جوکہ تاریخی طور پر نسلی اور لسانی گروہ بندی سے متاثر ہیں اس صورتحال میں بہت شدید متاثر ہوئی ہیں – ایسے شعبے جو تاریخی طور پر خواتین کی کم شرح رکھتے ہیں وہ آنے والے کل میں تیزی سے بڑھتے نظر آرہے ہیں ۔ مثال کے طور پر کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں خواتین کل ورک فورس کا 14 فیصد ہیں ،

انجینئرنگ جہاں خواتین 20 فیصد ہیں ، ڈیٹا و مصنوعی ذہانت جہاں خواتین 32 فیصد ہیں ۔ ان شعبوں میں ابھرتے کردار کو اپنانے میں مردوں کی نسبت خواتین کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہے – کل کیلئے ملازمتیں کے موضوع میں صنفی مساوات کیلئے پیشرفت جاننے کی خاطر اس رپورٹ میں نئے میٹرکس پیش کیئے گئے ہیں ۔ اس کے ساتھ تعلیم اور نگہداشت کے کردار بھی مستقبل کی ترقی اور اس میں خواتین کو موثر ترین شمولیت کے حوالے سے اہم ہیں تاہم دیگر شعبوں کی نسبت ان میں اجرت قدرے کم ہوتی ہے – عالمی وباء سے خودکار نظام میں ترقی پر دہرا اثر مرتب ہوا ہے ، کام اور نگہداشت میں دہری شفٹ بڑھی ہے ۔ اس کی وجہ سے خواتین کیلئے اقتصادی مواقع پر طویل مدتی اثرات مرتب ہونگے جن میں معمولی دوبارہ ملازمت کے امکانات کو لاحق خطرات اور آمدن میں مسلسل کمی شامل ہیں –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.