fbpx

ایرانی جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے مغربی حکام مایوسی کا شکار

واشنگٹن: مغربی حکام نے ایران کے جوہری معاہدے کی تجدید کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس معاملے سے باخبر ذرائع نے کہا کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کو کیسے محدود کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق بظاہر مغربی طاقتیں اس معاہدے سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہوئیں، جہاں ایران نے اقتصادی پابندیوں ہٹائے جانے کے عوض اپنے جوہری پروگرام کو روک دیا تھا لیکن یہ خیال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے کہ شاید اس کے باوجود بھی معاہدے کی دوبارہ تجدید نہ ہو سکے۔چار مغربی سفارت کاروں نے کہا کہ ایران کا 2015 میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا ہونے والا معاہدہ ختم ہو رہا ہے

یہ معاہدہ مارچ کے اوائل میں طے پاتا ہوا نظر آ رہا تھا بات چیت آخری لمحات میں روس کے مطالبات اور اس بات پر تعطل کا شکار ہو گئے کہ آیا امریکا ایران کے پاسداران انقلاب کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم کی فہرست سے نکالے گا۔پاسداران انقلاب ایران کی اعلیٰ مسلح اور انٹیلی جنس فورسز کو کنٹرول کرتا ہے جس پر واشنگٹن عالمی دہشت گردی کی مہم کا الزام لگاتا رہا ہے۔

پاسداران انقلاب کو اس فہرست سے نکالنے کے امریکی مطالبے کی بہت سے امریکی قانون سازوں نے مخالفت کی ہے کیونکہ وہ ایرانی تردید کے باوجود اسے ایک دہشت گرد ادارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔بظاہر روسی مطالبات تو مان لیے گئے ہیں لیکن پاسداران انقلاب کے حوالے سے ایران کے مطالبے کا پورا مشکل نظر آتا ہے۔

بائیڈن کے معاونین نے واضح کیا ہے کہ ان کا پاسداران انقلاب کو فہرست سے نکالنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے تاہم اس کو خارج از امکان قرار نہیں دیا اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران چاہتا ہے کہ واشنگٹن اس معاہدے کی بحالی کے علاوہ ایسا کوئی قدم اٹھائے تو ایران کو معاہدے کے علاوہ امریکی خدشات کو دور کرنا ہوگا۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ کیا یہ معاہدہ دم توڑ گیا ہے ہے؟ ہم ابھی تک نہیں جانتے اور ہمیں نہیں لگتا کہ ایران بھی اس بارے میں جانتا ہے۔
ایک ایرانی سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ یہ ہماری ریڈ لائن ہے اور ہم اس پر راضی نہیں ہوں گے۔متعدد ذرائع نے بتایا کہ کوئی بھی فریق یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتا کہ تقریباً ایک سال تک بالواسطہ چلنے والی بات چیت ناکام ہو چکی ہیں۔

ایک مغربی سفارت کار نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی یہ کہنا چاہتا ہے کہ بس بہت ہو گیا، ہو سکتا ہے کہ یہ غیر معینہ مدت تک جاری رہے اور کوئی فریق یہ تسلیم نہ کرے کہ معاہدہ ختم ہو گیا ہے؟۔