سپریم کورٹ کی کیا حیثیت ہےکہ وہ الیکشن قوانین کا جائزہ لےکراس میں ترمیم کرے:شاہد خاقان عباسی

لاہور:سپریم کورٹ کی کیا حیثیت ہےکہ وہ الیکشن قوانین کا جائزہ لےکراس میں ترمیم کرے،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آئین میں ترمیم نہیں کرسکتے۔ الیکشن اسی طرح ہونے چاہیے جو آئین کے مطابق ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کا اجلاس ہوا جس میں سیاسی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی ۔ اجلاس میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہونے سے متعلق بھی غور کیا گیا ۔

اجلاس میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، ایاز صادق نے شرکت کی، اجلاس میں رانا ثنااللہ، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب کی بھی شریک ہوئے ۔ اجلاس میں شاہد خاقان عباسی نے بڑے جارحانہ انداز سے سپریم کورٹ کوچیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی کیا حیثیت ہے کہ وہ سینیٹ الیکشن کے قانون کا جائزہ لے کراس میں ترمیم کرے ،

بعد ازاں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آئین میں ترمیم نہیں کرسکتے ہیں ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئین کی شق 226 میں سینیٹ کے انتخابات کا طریقہ کار محفوظ ہے ۔متفقہ فیصلہ ہوا کہ آئین میں تبدیلی کا حق صرف پارلیمان کو حاصل ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی سپریم کورٹ میں رائے ہی سینیٹ انتخابات کرانے کا طریقہ ہے ۔طریقہ کار میں کسی قسم کی تبدیلی آئین میں ترمیم کے مترادف ہوگی ۔ سینیٹ انتخابات میں تبدیلی مکمل طورپر بدنیتی اور پارلیمان کو مفلوج کرنے کیلئے ہے ۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں سینیٹ انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ میں زیرالتوا معاملے پر غور کیا گی

یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخارچوہدری نے کئی ایسے قوانین پرسپریم کورٹ کے ذریعے اپنا حکم صادر کیا تھا جن میں کسی شخص ادارے کے بنیادی حقوق متاثرہونے کاخدشہ تھا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.