خادم حسین رضوی کے بعد تحریک لبیک اپنا مقام برقراررکھ سکے گی؟ نئےسربراہ سعد حسین رضوی کن خوبیوں کے مالک ہیں

لاہور:تحریک لبیک کے نئے سربراہ سعد حسین رضوی اپنے باپ کے نقش قدم پرچلیں گے یا پھراپنا سکّہ چلائیں گے،اہم رپورٹ ،اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کے سابق سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد اب ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا ، تحریک لبیک کے نئے سربراہ سعد حسین رضوی اپنے باپ کے نقش قدم پرچلیں گے یا پھر باقی مذہبی جماعتوں‌کی طرح چلائیں‌ گے یا پھراپنا سکّہ چلائیں گے

اس کے ساتھ ساتھ یہ بحث بھی زورپکڑ رہی ہے کہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد کیا یہ جماعت اپنا وقاراورمعیار اسی طرح برقرار رکھ پائے پائے گی یہ پھر یہ جماعت ایک علامتی جماعت بن کر رہ جائے گی ، اس جماعت کا مستقبل کیا ہوگا اس کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی

اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ تحریک لبیک کے مرحوم سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی کم و بیش چار سالہ سیاسی زندگی نے ریاست پاکستان پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ اب ان کی وفات کے بعد یہ سوال فطری طور پر جنم لے رہا ہے کہ ان کی جماعت کا مستقبل کیا ہوگا؟

کیا یہ جماعت ایسے ہی پاکستان بھر میں بالعموم اور پنجاب میں باالخصوص شدت پسندانہ رجحان والے مذہبی نظریات کو فروغ دے کر ملکی معاشرت و سیاست پر اثرانداز ہوگی یا پھر ماضی کی ان مذہبی سیاسی جماعتوں کی فہرست میں شامل ہو گی جو اپنے قائدین کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد ماضی کا قصہ بن کر رہ گئیں۔

ویسے تو آج لاہور میں خادم رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کے عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ اپنے والد کے نظریات سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے

آج علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد تحریک لبیک کی اٹھارہ رکنی شوری نے ان کے بیٹے سعد حسین رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا۔ان کے سربراہ کے طوراعلان کے بعد دنیا اس وقت مختلف قیاس آرائیوں کی لپیٹ میں ہے ، بعض کا کہنا ہے کہ سعد رضوی علامہ خادم حسین کے فرزند ارجمند ہیں‌لیکن وہ ریاست کی رٹ کوچیلنج کرنے میں‌ شاید وہ عجلت نہ دکھائیں جوعلامہ خادم حسین رضوی دکھاتے رہے

تحریک لبیک کے نئے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے فرزند ارجمند سعد حسین رضوی لاہور میں اپنے والد محترم کے مدرسہ جامعہ ابوزرغفاری میں درس نظامی کے آخری سال کے طالبعلم ہیں۔ وہ طالب علم تو ضرور ہیں لیکن وہ اس مدرسے کے مہتمم بھی ہیں‌ اوربہت کامیاب مہتمم کے طورپرجانے جاتے ہیں‌، اپنے والد محترم کی موجودگی اورغیرموجودگی میں مدرسے کے سارے انتظامات خود سرانجام دینے کے ماہر بھی تھے اورعادی بھی

یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ سعد حسین رضوی ہی تھے جواپنے والد محترم کی رہنمائی کرتے تھے ان کے سکرپٹ رائٹربھی سعد رضوی ہی تھے ،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ مولانا خادم حسین رضوی اپنے فرزند ارجمند سے بہت زیادہ مشاورت بھی کیا کرتے تھے ۔

علامہ خادم حسین رضوی نے پچھلے تین چار سال سے اپنے اس بیٹے کو قیادت کے لیے تیارکرنا شروع کردیا تھا ، یہی وجہ ہےکہ تحریک کے تمام فیصلوں میں سعد رضوی کی مشاورت اور پھررضامندی کو سعادت سمجھا جاتا تھا،

سعد حسین رضوی پچھلے تین چار سال سے سے عملی طور پر تحریک لبیک کے تنظیمی امور چلا رہے تھے اس لیے ان کے لیے اس جماعت کو چلانا کوئی نئی بات نہیں ہوگی کیونکہ وہ اکثر معاملات کو پہلے سے خود جانتے اور نگرانی کرتے رہے ہیں۔

سعد‌ حسین رضوی تعلقات عامہ کے بڑے ماہر جانے جاتے ہیں ان کے علمی طبقے کے بہت سے لوگوں سے مضبوط رابطے تھے اورہیں ، یہ بھی بات کھل کرسامنے آئی ہے کہ ان کی سوشل نیٹ ورکنگ بہت کامیاب ہے ،

اپنے والد محترم کی طرح وہ شاعری سے خصوصی شغف رکھتے اور سب سے اہم یہ کہ وہ جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے بھی خوب واقف ہیں اور فیس بک اور ٹویٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس چلاتے ہیں۔

علامہ خادم حسین رضوی کی وفات پران کے مخالفین بھی غمگین ہوئے ہیں اکثرکا کہنا ہےکہ ہمیں ان کے جارحانہ انداز سے اتفاق نہیں تھا لیکن ان کے مشن سے اختلاف بھی نہیں تھا ، ان حالات کی موجودگی میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سعد رضوی کی دیگرجماعتوں میں عزت ان کے باپ کے مشن کی وجہ سے کی جائے گی

پاکستانی سیاست ، مذہبی جماعتوں کا یہ المیہ رہاہےکہ وہ اپنے قائد کے جانے کے بعد پٹڑی سے اترجاتے ہیں لیکن اس جماعت میں اس چیز کا امکان کم ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایک ہی نظریہ ہے اوروہ نظریہ ایک مسلمان کا عقیدہ اورایمان ہے کہ حرمت رسول پرجان بھی قربان ہے ، اس نظریے کواس جماعت نے اگرتھامے رکھا تو اس جماعت کے سفراورمعاشرے پراثرات میں کوئی کمی نہیں آئے گی

یہ بات بھی سچ ہے کہ پاکستانی سیاست میں پیدا ہونے والے اس خلا کو بعض مبصرین کے مطابق سنی بریلوی عقیدہ کی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے بہت تیزی سے پر کیا تھا۔ جس کی قیادت اب عملی طور پر نوجوان سعد رضوی کے ہاتھ میں آگئی ہے۔

اس جماعت کی مقبولیت کا اندازہ پہلے بھی ہرکوئی کرچکا اب بھی علامہ خادم رضوی کا جنازہ بتارہا ہے کہ یہ جماعت مستقبل میں اپنی سٹریٹ پاور کے ساتھ پاکستان کے فیصلہ سازوں پر اثرانداز ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ وہ واحد جماعت جس نے پاکستان کی ’سنی العقیدہ جماعتوں کے خلا کو پر کیا ہے جو ریاست نے دوسری تنظیموں سے دوری اختیار کر کے پیدا کیا تھا۔‘

اس دوران یہ جماعت عملی طور پر پاکستان کی اکثر مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے سربراہ یعنی علامہ خادم رضوی کے گرد ہی گھومتی رہی۔جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرانسان کا اپنا مقدر ہوتا ہے جواندازبیان ، جرات ، بہادری اوروفا علامہ خادم حسین رضوی کے حصے میں وہ شاید اب بعد میں آنے والے کے مقدر میں نہ ہو

تحریک کی طرف سے خادم رضوی کے بیٹے سعد رضوی کو جماعت کا نیا سربراہ مقرر کرنا جماعت کے ووٹ بینک اور چاہنے والوں کو یکجا رکھنے کی کوشش نظر آرہی ہے۔ کسی اور کی جانشینی کی صورت میں جماعت کے اندر مختلف گروہ بن سکتے تھے مگر خادم رضوی کے بیٹے کا نام سامنے آنے سے جماعت کو گروہوں میں تقسیم ہونے سے بظاہر بچالیا گیا ہے۔

سعد رضوی کی تعیناتی کے بعد تحریک لبیک میں موروثیت کا قیام اپنی جگہ لیکن اصل سوال اس جماعت کے پلیٹ فارم سے شدت پسندی کا مبینہ فروغ ہے جو جماعت کا نیا قائد آنے کے بعد فی الحال نئی اور شاید توانا شکل ضرور اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

علامہ خادم رضوی کے حکومت کے ساتھ معاہدہ بھی سعد رضوی کوایک ہیروبھی بناسکتا ہے اورزیربھی لیکن یہ فی الحال ابتدائی تصورات ہیں‌ اس بات کا آگے چل کرپتہ چلے گا کہ سعد کس خوبی کے مالک ہیں‌

لیکن ایک بات جوسامنے آئی ہے وہ کافی قابل غور ہے ، وہ یہ ہے کہ اس ملک میں جس طرح خانقاہوں میں گدی نشینی بھی نسل درنسل باپ سے بیٹے کومنتقل ہوتی رہی ہے ، ایسے ہی سیاسی جماعتوں کا المیہ ہیے ، باپ کے بعد بیٹا وارث بن جاتاہے ، آج یہی صورت حال تحریک لبیک میں دیکھی گئی کہ علامہ خادم حسین رضوی کے بعد ان کے بیٹے کوقیادت سونپ دی گئی ، اس سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہےکہ کیا اٹھارہ رکنی کمیٹی میں بڑے بڑے علما ، قابل اورفہم وفراست کا مالک کوئی بھی شخص نہیں تھا جسے یہ ذمہ داری اداکرنے کا کہا جاتا

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سعد ملک میں‌ مذہبی شدت پسندی کے خلاف ہیں لیکن اصل امتحان تب ہوگا جب 18 رکنی کمیٹی کواپنے پیچھے پیچھے چلانے میں کامیاب ہوں گے ، یہی 18 رکنی کمیٹی ہی سعد کے عروج اورزوال کا سبب بنے گی

تحریک لبیک پاکستان تحفظ ناموس کے نام پر سیاست تو کررہی تھی اور سندھ اسمبلی میں اس کے دو براہ راست طور پر منتخب اور ایک مخصوص نشست پر اراکین صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے جو نہ تو حکومت کا حصہ تھے اور نہ اپوزیشن کے کسی اتحاد کا حصہ۔

عملی طور پر تحریک لبیک پاکستان کو صرف بڑی سیاسی جماعت جمعیت العلمائے پاکستان سے ہی نہیں بلکہ سنی العقیدہ دیگر جماعتوں سے بھی خطرہ ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کی شخصیت نے ان جماعتوں کی چودھراہٹ کا ستیا ناس کردیا ، یہ جماعتیں اسی وجہ سے خادم حسین رضوی کے خلاف ایک سوچ رکھتی ہیں‌،

ان میں سب سے اہم ڈاکٹر آصف جلالی کی جماعت تحریک لبیک ہے جسکا مرکز بھی لاہور اور گرد ونواح کے علاقے ہیں۔ یہ ڈاکٹر آصف جلالی وہی ہیں جو کسی زمانے میں علامہ خادم رضوی کے ہمراہ تحریک لبیک پاکستان کے قائدین میں شامل تھے۔ مگر بعض تنظیمی امور پر اختلافات کے باعث دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں۔

علامہ خادم رضوی کی جماعت کے پیروکارخطاب کے دوران مرحوم کی سخت اور بعض اوقات قابل اعتراض زبان کے بھی دلدادہ تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا والد کی طرح بیٹا بھی اپنی جماعت کے پیروکاروں میں اضافے کے لیے والد کی طرح طرز خطاب اپناتے ہیں یا وہ اس میں کوئی میانہ روی متعارف کرواتے ہیں؟

ان حالات میں جبکہ ایک طرف حرمت رسول کی وجہ سے تحریک لبیک نے اپنا منہج دنیا کے سامنے رکھا ، ان کے ملکی سیاست میں اندازسے حکومت ، اداروں اوردیگراہم شخصیات کواختلاف ضرور تھا لیکن ان کے مشن سے کوئی اختلاف کا سوچ بھی نہیں سکتا ان کی وفات پرجس طرح ملک کی مقتدرشخصیات ،مذہبی رہنماوں نے ان کی وفات پرگہرے دکھ کا اظہارکیا یہی ان کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے

بشکریہ :بی بی سی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.