fbpx

ہیکر کی کہانی کیا ہے؟ہیکر کا خصوصی انٹرویو،اہم انکشافات

لاہور:ہیکر کی کہانی کیا ہے؟ہیکر کا خصوصی انٹرویو،اہم انکشافات نے سب کی آنکھیں کھول دیں‌ کہ کس طرح کسی کی کال اور ویڈیو کو ہیک کیا جاتا ہے، اس حوالے سے سینیئرصحافی مبشرلقمان نے ایک ہیکر سے گفتگو کی ہے جو کہ بہت ہی دلچسپ ہے ،

سنیئرصحافی مبشرلقمان نے ملک میں‌ آڈیو لیکس کےحوالے سے پائی جانے والے بے چینی کو جس طرح ایک ہیکرکے تجربات اورخیالات کی مدد سے کم کیا ہے یہ واقعی قابل تعریف ہے ،کیوں کہ اس سے پہلے اس قسم کی معلوماتی اور تکنیکی گفتگو کہیں سےبھی سننے کو نہیں ملی

ہیکر کا نام شاہ میر ہے اور ان سے سوال کرتے ہوئے مبشرلقمان نے پوچھا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعظم ہاوس میں ہونے والی گفتگو اور سرگرمیوں کو کس نے ریکارڈ کیا اور کیسے کیا اس حوالے سے شاہ میر کا کہنا تھا کہ یہ تین طریقوں سے ممکن ہے ، ایک تو وزیراعظم ہاوس میں اس وقت جب بات ہورہی ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی شخص موبائل سے یہ ریکارڈنگ حاصل کرتا ہے

شاہ میر نے ساری گفتگو کا نچوڑ بیان کردیا ہے ، جس سے یہ ظاہر ہے کہ کہ شہبازشریف کے ارد گرد بیٹھنے والے لوگوں میں سے کسی کا کام ہے ، شاہ میر کہتےہیں کہ یہ جو لیکس سامنے آرہی ہیں یہ واضح ہے کہ یہ موبائل فون سے ریکارڈنگ کی گئی ہے اور یہ ریکارڈنگ گفتگو کرنے والے کے بہت قریب سے کی گئی ہے ، اس لیے یہ کہنا ہے کہ اس کےلیے کوئی خصوصی انتظامات یا ہیکنگ کی گئی ہوگی ، شاہ میر کہتے ہیں کہ میرا خیال نہیں کہ ایسے ہو

ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کے ارد گرد بیٹھنے والوں میں سے کسی نے کیا اس کے بارے میں وہ کسی کے بارے میں رائے قائم نہیں کرسکتے

 

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس دوران اس جگہ کوئی نہ کوئی ایسی ڈوائس ہوگی جو یہ سب کچھ ریکارڈ کررہی ہوگی اور تیسری صورت یہ ہےکہ کسی نے وہ کال ریکارڈ کیں لیکن کسی دوسرے شخص نے وہ ہیک کرلی ہوں

شاہ میر کا کہنا تھاکہ یہ وزیراعظم کے اردگرد رہنے والے لوگ ہی کرسکتے ہیں جن کو وہاں تک براہ راست دسترس حآصل ہے ، شاہ میر نے مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ڈارک ویب ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں بعض ہیکر اپنا مواد بیچ کر مال بنانے کے چکروں میں ہیں‌،یہاں ہیکر ہیک ہونے والی کالز ، ویڈیوز اور دیگر ڈیٹا فروخت کرکے مال بناتے ہیں‌

شاہ میر نے مزید بتایا کہ اس قسم کا ڈیٹا چوری کرنے والےاس ملک کےمخالف ملکوں کو بیچتےہیں ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ حساس معاملہ ہے جس پرحساسیت ہی ضروری ہے، شاہ میر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف کے دفتر سے ریکارڈ ہونے والی کالز اور وڈیو کسی ہیکر نے چوری کی ہیں جو ان کے ذریعے کچھ مفادات حاصل کرنا چاہتاہے

ڈارک ویب سے ایک سوال کے جواب میں شاہ میر نے کہا کہ ڈارک ویب پرتو پھر غیراخلاقی اور غیرقانونی انٹرنیٹ ڈیٹا ہوتا ہے جس کی کی کسی بھی صورت اجازت نہیں ہوتی ، جہاں تک تعلق ہے کہ پاکستان کی ان تازہ ترین لیکس کا تو یہ ڈارک ویب پر نہیں یہ ایک علیحدہ پلٹ فارم ہے جہاں سے یہ چیزیں مل رہی ہیں ، ان حالات کے نتاظر میں کہا جاسکتا ہےکہ یہ لیکس وزیراعظم ہاوس سے ہوئی ہیں کس طرح ہوئی ہیں یہ جو تین طریقے بیان کیے جاچکےہیں ان میں سے کوئی نہ کوئی ضرور استعمال کیا گیا ہے