اگلی بڑی جنگ کہاں ہوگی،تیاریاں مکمل ہوچکیں‌:مبشرلقمان نے حقائق سے پردہ اٹھادیا

لاہور:اگلی بڑی جنگ کہاں ہوگی،تیاریاں مکمل ہوچکیں‌:مبشرلقمان نے حقائق سے پردہ اٹھادیا،اطلاعات کے مطابق اس وقت دنیا کے دفاعی تجزیہ نگار،ماہرین اورجنگ کے کھلاڑی اس بات پرپریشان ہیں کہ اگلی ہونے والی جنگ دنیا کواپنی لپیٹ میں‌لے لے گی، لیکن ساتھ ساتھ یہ بحث بھی زورپکڑرہی ہےکہ یہ جنگ کہاں اورکن ممالک کے درمیان ہوگی اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے خطے کے معاشی ،معاشرتی اوردفاعی حالات کی منظرکشی کی ہے

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ !۔ بندرگاہیں اور آبی راستے قوموں کی ترقی میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں کیونکہ بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں ان ہی کی مرہون منت ہیں۔

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مثال میں آپکو دے دیتا ہوں ۔ ایک امریکی رپورٹ کے مطابق 2018ء تک چین کی 84 فیصد تجارت آبنائے ملاکا (Strait of Malacca)کے ذریعے کی گئی ہے اور اب امریکا کی نظریں اسی ۔۔ سٹریٹ آف ملاکا ۔۔۔ پر جمی ہوئی ہیں۔ سٹریٹ آف ملاکا انڈونیشیا اور ملائیشیا کے مابین اسٹریٹجک بحری گزرگاہ ہے ۔ چین کی زیا دہ تر امپورٹس ۔۔۔ سٹریٹ آف ملاکا ۔۔ سے ہی گزرتی ہیں۔ بحر ہند کی طرف دیکھیں تو یہ 45 ملین مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور رابرٹ ڈی کپلان امریکا اور اس کی حلیف طاقتوں کی ۔۔۔ بحر ہند میں کشمکش ۔۔۔ کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کر چکا ہے کہ کل کا جنگی میدان جرمنی یا آسٹریا نہیں اور نہ ہی یہ روس اور امریکا کی فضائوں اور سمندروں میں ہو گا بلکہ بحیرہ ہند کا یہی حصہ ”Center Stage for The 21st Centuary‘‘ بنے گا۔

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ امریکا گوادر پورٹ، سی پیک اور سٹریٹ آف ملاکا کو اپنے نشانے پر رکھنے کے لئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ بحر ہند میں شاید انہی مقاصد کے لئے فوجی اڈے اور باہمی مشقیں کراتے ہوئے کمال چالاکی سے آسٹریلیا اور بھارت کو استعمال کرتے ہوئے انہیں سینٹرل ایشیا، جنوبی ایشیا، پیسیفک ایشیا اور بحر ہند کی حکمرانی دینے کے خواب دکھا رہا ہے۔

۔ اس وقت امریکہ دنیا کو بظاہر تاثر دے رہا ھے کہ ھم یعنی امریکہ، جاپان، بھارت اور آسٹریلیا مل کر کرونا لاک ڈاؤن کے بعد کے معاشی معاملات کو سنبھالنے سے متعلق ایک فورم پر اکٹھے ھوئے ھیں۔ جبکہ کھلی سچائی یہ ھے کہ اس وقت امریکہ چین کی بڑھتی ھوئی معاشی و فوجی طاقت کے سامنے بندھ باندھنا چاھتا ھے۔ چاھے چین کی تجارتی ناکہ بندی کرنی پڑے یا چاھے کھلی جنگ کرنی پڑے۔

۔ امریکہ کا ھمیشہ یہ وطیرہ رہا ھے کہ کسی بھی ملک کے خلاف جنگ میں امریکہ اکیلا نہیں کودتا۔ بالخصوص چین جیسی فوجی طاقت جو جنگ کی صورت میں امریکی سٹیلائیٹس تک کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ھے۔ اسکے خلاف امریکہ اکیلا کیسے جنگ چھیڑ سکتا ھے۔ لہذا اسی مقصد کے تحت امریکہ نے مشرقی ملک جاپان، چین کے قریب ترین ھمسایے بھارت اور نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے ملک اسٹریلیا کو ساتھ ملایا ھے۔

 

۔ اس وقت ان چاروں ممالک پر مشتمل ۔۔۔ quad ۔۔۔ اتحاد کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ ساؤتھ چائنہ سی میں چین کی تجارت کو روکنا کیسے ھے۔ پلان کے تحت ۔۔۔ نیکو بار جزیرے ۔۔۔ پر بیٹھ کر بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر۔۔۔ اسٹریٹ آف ملاکا ۔۔۔سے گزر کر آنے والی چینی تجارت کی ناکہ بندی کر کے چینی تجارت کو روکنے کی کوشش کریگا۔ جبکہ امریکہ جاپان کے ساتھ مل کر ویتنام اور ساؤتھ چائنہ سی میں بھی چین کو روکے گا۔۔ امریکا نے بڑی ہی خاموشی سے تائیوان کے ساتھ 620ملین ڈالر اسلحہ کے فروخت کی ڈیل کی ہے جس میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے پیٹریاٹ میزائل بھی شامل ہیں تاکہ چین کے مقابلے میں اسے ہر طرح سے تیار کیا جا سکے۔ چین نے اسلحہ کی اس ڈیل کے جواب میں امریکا کے دفاعی کنٹریکٹر ۔۔ Lockheed Martin۔۔ پر پابندی عائد کرتے ہوئے امریکا کو وارننگ دی ہے کہ ۔۔ تم دیکھو گے کہ بہت جلد تائیوان چین کا حصہ ہو گا کیونکہ وہاں کی اکثریت چین کے ساتھ شامل ہونے کے لئے بے تاب ہے۔

مبشرلقمان جائزہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح گلوان میں بھارت چینی فوج کے قبضے پر بھارت اچھل کود رہا ہے۔ سائوتھ چائنہ سمندر کےParacelجزیرے میں چینی فوج کی بڑھتی ہوئی تعداد اور وہاں F-6J بمبار کی deployment پر ویتنام پھنکار رہا ہے۔ چین کی اس پیش قدمی کا مقصد امریکا کو سخت جواب دینا ہے۔ ۔ چین نے اس ۔۔۔quad۔۔۔ اتحاد کا زور توڑتے ھوئے ھمسایہ ملک کمبوڈیا کے ساتھ بڑے معائدے کر لیے ھیں۔ چین نے quad alliance کیخلاف بڑا ایکشن لیتے ہوئے کمبوڈیا کیساتھ ایک بڑا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت چین کمبوڈیا میںnaval base تعمیر کرے گا۔ جہاں سے چین بھارت اور امریکہ پر بیک وقت نظررکھے گا۔ بھارت جو اپنے۔۔ نیکو بار آئی لینڈ ۔۔ پر بیٹھ کر سٹریٹ آف ملاکا بند کرنے جا رہا تھا۔ اب چین کمبوڈیا میں بیٹھ کر بھارتی و امریکی سمندری راستے آسانی سے بند کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف کمبوڈیا نے چین کے ساتھ معاہدے کے فوری بعد وہاں موجود american naval baseکی عمارت بھی گرا دی ہے۔ اب اس جگہ پرchinese naval baseکی تعمیر ہونے جا رہی ہے، کمبوڈیا نے چین کو 99 سال کیلیے لیز پر یہ نیول بیس دیا ھے۔ کمبوڈیا کے ساحلی علاقوں کی کمانڈ چین کو دی جا رہی ہے۔ جو اس چار ملکی امریکی الائنس کیلئے خطرہ ہے۔ چین8.3 ارب ڈالرز سے کمبوڈیا کے ساحلوں پر سیاحت کے فروغ کیلیے ریزورٹس اور ہوٹلز تعمیر کر رہا ہے۔ اور کمبوڈیا کو تجارتی حب بنانے کی تیاری جاری ہے۔

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مائک پومپیو کا کہنا ہے، کمبوڈیا میں چینی نیول بیس کے قیام کے بعد indo pacific strategy کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ جس سے ہمارے اتحادیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ کمبوڈیا کے ساتھ معائدے کے بعد اب ساؤتھ چائنہ سی میں پاور گیم الٹ چکی ہے۔ کیونکہ اب چار ملکی چین مخالف اتحاد بےاثر ھونے جا رہا ھے۔ادھر اسٹریٹ آف ملاکا میں ناکہ بندی کر کے چین کی تجارت روکنے کی کوشش کرنے والوں کو یہ نہیں پتہ کہ چین belt and road initiativeکے ساتھ سی پیک اور ون بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹس کو منسلک کر کے دنیا کے ستر ممالک کے ساتھ مختصر ترین زمینی رابطے بحال کرنے جا رہا ھے۔ جو چین کی تجارت کو چار چاند لگا دے گا۔

سٹریٹجکلی پاکستان بحرہند میں سٹریٹ آف ہرمز کیلئے بہت اہم گیٹ وے ہے اور اسی سٹریٹ سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی لیے گوادر پورٹ کے بننے سے پاکستان ایک معاشی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ اگر ہم اس کی اہمیت فوجی لحاظ سے دیکھیں تو اس بندر گاہ سے بحیرہ عرب پر ہمارا تسلط قائم ہوتا ہے۔ خاص طور پر بھارت سے ہمارا فاصلہ 460 کلو میٹر بڑھ جاتا ہے۔ ہم بھارت کی آنکھوں سے دور اور وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو گیا ہے کیونکہ گوادر پورٹ سے سی لائنز آف کمیونیکیشنز ( Sea Line of Communications )کو مانیٹر کرنے میں مدد ملے گی۔۔ اسی لیے یہ بندرگاہ جہاں وسط ایشیائی ریاستوں اور چین کی آنکھوں کا تارا ہے تو وہاں کچھ ممالک کی آنکھوں کا کانٹا بھی ہے۔

اگر امریکہ ملاکا سٹریٹ بند کردیتا ہے تو چین کیلئے بحرہند اورمغربی ایشیاکی تجارت صرف گوادر پورٹ سے ہی ممکن ہے۔ چین بھی اس لئے اس بندر گاہ میں دلچسپی رکھتا ہے کہ اس سے نہ صرف وہ بھارتی نیوی کی نگرانی کرسکتا ہے بلکہ خلیج فارس سے اپنی توانائی کی 60 فیصد ضروریات بھی پوری کرسکتا ہے کیونکہ اس کا صفیانہ آئل فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا آف شور آئل فیلڈ ہے۔ اسی لیے اس اکنامک کوریڈور کو سڑک، ریل اور آپٹک فائبر کے ذریعے باہم منسلک کیا جا رہا ہے جبکہ تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کی تعمیر بھی اس منصوبے کا حصہ ہے ۔

ایک اندازے کے مطابق گوادر پورٹ اور اکنامک کوریڈور کام شروع کرتے ہی چین کو سالانہ تیل کی درآمد کی مد میں 20 ارب ڈالر سالانہ کا فائدہ دینے لگیں گے جبکہ پاکستان کو محض محصول کی وصولی پر 5 ارب ڈالر سالانہ کا فائدہ ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ جو ممالک چین کے اس منصوبے کا حصہ بننے جا رہے ھیں وہ یقینی طور پر چین کے مضبوط دفاعی اور اسٹریٹیجک اتحادی بھی بن جائیں گے۔ یہی ممالک ان شاءالله اب امریکہ و بھارت کہ بجائے چین کے ھمدرد اور اتحادی ھوں گے۔ جیسے نیپال بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں شامل ھو کر بھارتی دباؤ سے نکل رہا ھے۔ ایران بھی امریکہ بھارتی کیمپ سے نکل کر چینی کیمپ میں آچکا ھے۔ افغانستان جو اب طالبان کا ملک بننے جا رہا ھے وہ بھی اب چین کے ساتھ کھڑا ھو گا۔ روس پاکستان پہلے ہی چین کے ساتھ کھڑے ھیں۔

نقشے میں دیکھ لیجیے پورے خطے کے ممالک اس منصوبے کا حصہ ھیں لیکن بھارت کو اس منصوبے سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا ھے۔ چین کے مشرق و مغرب میں بلکہ مشرقی یورپ تک اب چین کے اتحادی ممالک کا جال بچھنے جا رہا ھے۔ کہاں کہاں روک سکتا ھے امریکہ چین کو؟ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کے تمام ممالک تجارت کے ساتھ ساتھ دفاع میں بھی چین کے اتحادی ھوں گے۔ چین کی طاقت کا مطلب ھے امریکہ کی موت۔ اسی طرح چین نے ایران، نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش کو اپنے ساتھ ملا کر بھارت کا بھی خطے میں ذلالت اور تنہائی سے حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ھے۔اسی لیے رابرٹ ڈی کپلان نے دس برس پہلے اپنی رپورٹ میں مغرب اور امریکا کو خبردار کیا تھا ۔ تم لوگ ایک ایسے سمندر کو نظر انداز کر رہے ہو جو بہت جلد توانائی، دفاعی اور تجارتی مقاصد کے لئے انتہائی اہمیت اختیار کرنے جا رہا ہے اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ تم نے بحر ہند جیسے اس اہم۔۔ جیوگرافک اوشن ۔۔کے گرد سینٹرل ایشیا اور افریقہ میں وجود میں آنے والے نئے ممالک اور وہاں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو نظر انداز کر رکھا ہے۔

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ پاکستان نے چین کا ساتھ دے کر ساری دنیا کی دشمنی مول لے لی۔ کہا جا سکتا ہے کہ سی پیک سے پہلے پاکستان کے لئے چین کی سپورٹ ٹیکٹیکل حجم کی حامل تھی لیکن اعلانِ سی پیک کے بعد یہ سائز سٹرٹیجک مقدار اور معیار کا حامل ہو گیا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.