fbpx

وزیراعظم کے معاون خصوصی کے بچوں کوزہرکس نے دی اورپلاننگ کس نے کی؟تفصیلات آگئیں

لاہور:وزیراعظم کے معاون خصوصی کے بچوں کوزہرکس نے دی اورپلاننگ کس نے کی؟تفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کی رہنماءوزیراعظم کے معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ کے بچوں کوزہردینے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ،

اس حوالے سے جمشید اقبال چیمہ کی اہلیہ محترمہ مسرت چیمہ کا کہنا ہے کہ کُک اور ڈرائیور نے مجھے اور بچوں کو زہر دینے کی پلاننگ کی، ملازم غلام عباس نے کک، ڈرائیور سمیت 4 ملازمین کی زہر دینے کی باتیں مجھے بتائیں، پولیس نے ملازم غلام عباس اور محمد رمضان کا بیان قلمبند کر لیا ہے۔

دوسری جانب پولیس کی جانب سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ کے بچوں کومبینہ طو رپر زہردینے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، بچوں کے خون اور معدے کے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دئیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ میں بچوں کو زہر دینے یا نہ دینے کی تصدیق کی جائے گی اورزہر یا زہریلی چیز کی نوعیت بارے رپورٹ میں حقائق کا پتہ چلے گا۔

پولیس نے مقدمہ درج کر کے چھ ملازمین کو حراست میں لے رکھا ہے جن سے تحقیقات کا عمل جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق 31 اگست کو جمشید چیمہ کی اہلیہ مسرت جمشید چیمہ کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ ان کے 9 سالہ بیٹے آحل کو طبیعت بگڑنے پر ہسپتال لے گئے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے زہر دیا گیا ہے، گھر پہنچے تو دوسرے بیٹے 8 سالہ آرش کو گلے اور آنتوں میں تکلیف ہو گئی، اسے بھی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق گھریلو ملازم رمضان اور عباس نے بتایا کہ خانساماں اقبال، ڈرائیور وقار، سکیورٹی گارڈ دولت باز اور دوسرا ڈرائیور اقبال یہ کہہ رہے تھے کہ بچوں کو انھوں نے زہر دیا ہے۔آئی جی پنجاب انعام غنی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔پولیس نے جمشید چیمہ کے 6 ملازمین کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے ،اہل خانہ کے مطابق اب دونوں بچے تندرست اور گھر پر ہیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!