پولنگ شروع ہوگئی،جلدنتائج آناشروع ہوجائٰیں‌گے

واشنگٹن :کون بنے گا امریکی صدر: پولنگ شروع ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق امریکا میں 59 ویں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی قطاریں لگی ہوئی ہے۔

مختلف امریکی ریاستوں میں صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہوگیا ہےسب سے پہلے کینیڈا کی سرحد کے قریب ریاست نیو ہیمپشائر کے چھوٹے سے گاؤں سے ووٹنگ کا آغاز ہوا ۔

 

ماہرین نے اس مرتبہ توقع سے زیادہ ٹرن آؤٹ کی پیش گوئی کی ہے جب کہ قبل از وقت ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے تقریباً 10کروڑ سے زائد امریکی اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قبل ازوقت ووٹ کاسٹ کرنے والوں میں 45 فیصد لوگوں وہ ہیں جو ڈیموکریٹس یعنی جو بائیڈن کے حامی ہیں جب کہ 30.5 فیصد ری پبلکن جماعت یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایری زونا، جارجیا، وسکونسن، پنیسلوینیا اور فلوریڈا کے علاوہ ٹیکساس، شمالی کیرولائنا، اوہایو، مشی گن اور منی سوٹا کی ریاستیں ‘سوئنگ اسٹیٹس’ ہیں یعنی یہاں کسی ایک امیدوار کی برتری نہیں اور ملے جلے رجحان کے باعث کوئی بھی جیت سکتا ہے جس سے الیکشن میں بازی پلٹ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ زیادہ ووٹ لینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ امیدوار صدر بن جائے گا کیونکہ امریکا میں صدر کا انتخاب براہ راست عام ووٹر نہیں کرتے بلکہ یہ کام الیکٹورل کالج کا ہے۔

امریکا کی ہر ریاست میں الیکٹورل کالج کے ارکان کی تعداد اس کی آبادی کے تناسب سے طے ہے اور الیکٹرز کی کل تعداد 538 ہے۔امریکہ کا صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 538 میں سے 270 یا اس سے زیادہ الیکٹرز کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.