fbpx

میرے خلاف فیصلہ دینےکی جرات کیوں؟نواز شریف کی سابق چیف جسٹس ثاقب نثارسازشوں سےپردے اٹھنےلگے

اسلام آباد: میرے خلاف فیصلہ دینے کی جرات کیوں ؟نواز شریف چیف جسٹس ثاقب نثار سے سخت انتقام لینا چاہتے تھے:سازشوں پرمبنی نئے انکشافات،اطلاعات کے مطابق نوازشریف کے اپنے اٹآرنی جنرل نے ایسے انشکافات کیئے ہیں کہ جن کوجھٹلانا اب نوازشریف اورن لیگ کے لیے ممکن نہیں رہا ، اس حوالےسے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کہتے ہیں‌کہ سابق وزیراعظم نواز شریف چیف جسٹس ثاقب نثار کو ہٹانا چاہتے تھے۔

نوازشریف دورکے اٹارنی جنرل اشتراوصاف کہتے ہیں کہ بعد ازاں صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور میں‌ نے مخالفت کی تو ریفرنس ختم کر دیا گیا۔

اشتراوصاف کہتے ہیں کہ ثاقب نثار نے نااہل قرار دے کر نواز شریف کی حکومت ختم کی اور انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹایا تو معزول وزیراعظم نے ان سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہا لیکن ان کے جانشین شاہد خاقان عباسی نے انہیں اپنی کوششوں سے باز رہنے پر قائل کیا اس وقت کے صدر ممنون حسین نے بھی ریفرنس کی کاپی دیکھ کر چونک گئے۔

سابق اٹارنی جنرلز طرح اشتر اوصاف بتاتے ہیں کہ نواز شریف کو مسلم لیگ ن کی حکومت میں کچھ عناصر نے گمراہ کیا۔جن کی انہوں نے نشاندہی سے گریز کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنے تحفظات سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو آگاہ کیا تو انہوں نے فیصلہ تبدیل کر لیا۔

اشترا او صاف کے مطابق یہ 2017 کے آخر یا 2018 کے شروع کی بات ہے جب شاہد خاقان عباسی نے اٹارنی جنرل کو اپنے دفتر طلب کیا اور ریفرنس کی کاپی دکھائی تو انہوں نے پڑھنے سے گریز کیا اور ان سے آگے نہ بڑھ جانے کے لیے کہا۔

اشترا اوصاف کے مطابق ان کا موقف جاننے کے بعد شاہد خاقان عباسی نے ان سے اتفاق کیا، اشترا اوصاف نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ایسا کوئی ریفرنس قابل قبول نہیں ہو گا کیونکہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوتے ہیں۔یہ بھی بتایا گیا کہ ایسے کسی اقدام کا قانونی حلقوں میں خیر مقدم نہیں کیا جائے گا