fbpx

نورمقدم نے قتل ہونے سے پہلے 7 لاکھ روپے کیوں‌ اورکس سے منگوائے؟تہلکہ خیزانکشافات

اسلام آباد:نورمقدم نے قتل ہونے سے پہلے 7 لاکھ روپے کیوں‌ اورکس سے منگوائے؟تہلکہ خیزانکشافات ،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قتل ہونے والی نور مقدم کیس میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق نور مقدم 18 جولائی کو رات سوا 9 بجے گھر سے نکلی اور رات 10بجے ظاہر جعفر کے گھر پہنچ گئی تھی۔

تحقیقاتی ذرائع نے بتایاکہ نور مقدم کا اپنی والدہ سے رابطہ تھا اوراس نے 20 جولائی کو صبح 10 بجے والدہ سےٹیلی فون پر بات بھی کی۔

نور مقدم نے 19جولائی کو پیر کی صبح 9 بج کر 50 منٹ پر اپنے ڈرائیور خلیل کو فون کیا جس کے بعد اس کا کئی بار ڈرائیور سے رابطہ ہوا۔

نور مقدم کے ڈرائیور خلیل نے جیو نیوز سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ نور مقدم نے اسے فون کال کی اور کہا کہ اسے فوری طور پر 7 لاکھ روپے چاہئیں جن کا والدین کو پتہ نا چلے۔

ڈرائیور کے مطابق اس نے نور مقدم سے کہا کہ وہ سات لاکھ کا انتظام نہیں کر سکتا جس پر نور نے کہا کہ پیسے بہت ضروری چاہئیں، کسی دوست سے لے لو، اپنے جاننے والوں سے انتظام کر دو۔

ڈرائیور نے بتایا کہ اس نے تین لاکھ روپے کا انتظام کیا اور 19 جولائی کو پیر کے روز دوپہر کے وقت نور مقدم کی جانب سے دیے جانے والے پتے پر وہ ظاہر جعفر کے گھر پہنچا تومقتولہ کو فون کیا تو انہوں نے کہا میں باہر نہیں آ سکتی، پیسے خانسامے کے حوالے کر دو جس کے بعد ڈرائیور نے تین لاکھ روپے خانسامے کو پکڑا دیے۔

ڈرائیور خلیل کے مطابق اس نے پولیس کے سامنے ملزم ظاہر جعفر کے خانسامے کی شناخت کر دی ہے۔ڈرائیور نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جب نور مقدم نے اسے پہلی بار فون کیا تو کہا کہ والدین کو بتا دو کہ میں لاہور جا رہی ہوں۔

ڈرائیور جب وہ والدین کو لاہور سے متعلق بتانے گھر کے اندر گیا تو نور مقدم کی والدہ نور مقدم کے والد سے اسی معاملے پر بات کر رہی تھیں اور والد کہہ رہے تھے کہ کل عید کا دن ہے اورنور لاہور کیوں جا رہی ہے؟

ڈرائیور کے مطابق وہ سمجھ گیا کہ نور مقدم نے اپنی والدہ کو فون کر دیا ہے تو اس لیے وہ کچھ کہے بغیر وہاں سے واپس آ گیا۔

تحقیقات کرنے والے ذرائع کے مطابق نور کا اپنی والدہ سے رابطہ تھا اور مقتولہ نے اپنی زندگی کے آخری روز یعنی 20 جولائی کو منگل کے دن صبح 10 بجے اپنی ماں سے ٹیلی فون پر بات بھی کی۔