fbpx

پیشگی اطلاع پربھی انتظامیہ کیوں سوئی رہی؟کیا مری انتظامیہ پُرانی عادتیں چھوڑنے کے لیے تیارنہیں؟

مری:محکمہ موسمیات نے پانچ جنوری کو طوفان کی پیشگی اطلاع دی ،تو انتظامیہ کیوں سوئی رہی؟ اطلاع کے باوجود سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد کو مری داخل کیوں ہونے دیا گیا ؟ ہلاکتوں نے کئی سوال کھڑے کردیئے۔

محکمہ موسمیات نے شدید برفباری کا پہلا الرٹ 31 دسمبر 2021 کو جاری کیا تھا، محکمہ موسمیات نے 5جنوری کو دوسرا الرٹ جاری کیا تھا، محکمہ موسمیات نے پہلے ہی وزیراعظم آفس کو برفباری سے متعلق آگاہ کر دیا تھا۔

محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری نے تمام متعلقہ اداروں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی تھیں، جنوری کے آغاز سے ہی مری میں شدیدبرفباری، راستوں کے بند ہونے کے خدشے سے آگاہ کیا گیا تھا، 6سے7جنوری کے درمیان مری گلیات میں شدید برفباری کا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

6 سے 9 جنوری کے درمیان مری کی سڑکیں برفباری کےباعث بند ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، وزارت ہوابازی کوبھی مری میں شدید برفباری سے متعلق آگاہ کر دیا گیا تھا ، چیئرمین این ڈی ایم اے،پی ڈی ایم اے،ایس ڈی ایم اے کوبھی برفباری سےمتعلق آگاہ کیاگیاتھا۔

دوسری طرف کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت مری سے متعلق ہنگامی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں عثمان بزدار نے راولپنڈی انتظامیہ اور پولیس پر اظہار برہمی کیا۔

ذرائع کے مطابق عثمان بزدار نے چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب پر بھی برہمی کا اظہار کیا، اور کہا کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ کے باوجود انتظامیہ اور پولیس نے کچھ نہ کیا، راولپنڈی انتظامیہ اور پولیس نے انتظامات کیوں نہ کیے۔

وزیر اعلیٰ آفس کے ذرائع نے بتایا کہ عثمان بزدار نے استفسار کیا کہ سیاحوں کی تعداد بڑھنے پر گاڑیاں روکی کیوں نہیں گئیں، ابتدائی رپورٹ کے مطابق سردی، طوفان، اور راستے بند ہونے سے اموات ہوئیں۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے معاملے کی انکوائری کے احکامات صادر کیے، اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ ملک کے اہم ترین سیاحتی مقام مری میں جب شدید سرد موسم اور برف باری کی وجہ بڑا سانحہ پیش آیا، وہاں وزیر اعلیٰ پنجاب پارٹی کے لیے تنظیم سازی میں مصروف تھے، اس حوالے سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ مری میں شدید برفباری کے باعث 22 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جو اپنی نوعیت کا ایک بڑا اور سنگین واقعہ ہے، جس میں 2 خواتین اور 8 بچے بھی شامل ہیں۔