fbpx

‏آخر پٹرول اور ڈالر کی اتنی اونچی اڑان کیوں؟ تحریر: چودھری عرفان رانا

گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر دو چیزیں بہت زیادہ گردش کررہی ہے، جن میں سے ایک پٹرول اور دوسرا ہے ڈالر، لفظ پیٹرولیم لاطینی زبان کا لفظ ہے جس میں پیٹرا کے معنی چٹان اور اولیم کے معنی تیل کے ہیں، یعنی چٹانوں سے حاصل والی تیل، اور یہی تیل کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے تیل کو "کالا سونا” بھی کہا جاتا ہے پاکستان اپنے ضرورت کا 70 فیصد سے زائد تیل درآمد کرتا ہے، حکومت نے گزشتہ چند ماہ سے  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کافی حد تک اضافہ کیا، جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا، ہر کوئی حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کافی پریشان ہے،ایسے میں جب ملک میں شرح مہنگائی پہلی ہی 11 فیصد سے تجاوز کر گئی، اس اضافے سے عوام پر کافی بوجھ بڑھ گیا ہے اور عوام ایک کمر توڑ مہنگائی کے نیچے دب گیا ہے، اگر ہم پٹرول کی بنیادی قیمت اور ان پر لگے ٹیکسز پر نظر دوڑائیں تو اس وقت ملک میں پٹرول کی قیمت 123.3 روپے ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی 5.62 اور سیلز ٹیکس 11.76 ہے یعنی کل ٹیکس 17.38 اور پٹرول کی بنیادی قیمت 105.92 ہے، اس طرح کل بنیادی قیمت 123.3 روپے بنتا ہے، ن لیگ کی حکومت میں یہ ٹیکس کی شرح 52 فیصد تھا، کسی بھی ملک کی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کی حساب سے طے کرتی ہیں، گزشتہ سال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کافی گر چکی تھی، جس کی وجہ سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی جنگ قرار دے دی گئی، یاد رہے سعودی عرب تیل نکالنے پر سب سے کم خرچ کرتا ہے اس لیے اس نے روس کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے عالمی منڈی میں ضرورت سے زیادہ تیل کی رسد شروع کی، جس کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں کافی گر گئی، جس کا زیادہ فائدہ چین کو ہوا کیونکہ چین تیل درآمد کرنیوالا دنیا کا پانچواں ملک ہے، تاہم روس کی معیشت پر تیل کی اتار چڑھاؤ کا زیادہ اثر نہیں ہوتا، 

اب آتے ہیں ڈالر کی اونچی اڑان پر، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ڈالر کی اونچی اڑان ہے دنیا میں زیادہ تر تجارت ڈالر اور سونے میں ہوتا ہے، ہر ملک میں اوپن مارکیٹ ڈالر کی قیمت متعین کرتا ہے، جو قومی ریزرو اور ڈالر کی رسد اور کمی کو دیکھ کر متعین کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں ڈالر کا ریٹ  دو طریقوں سے متعین کیا جاتا ہے جسمیں سے ایک انٹر بینک اور دوسرا اوپن مارکیٹ ہے، انٹر بینک اپنے انڈر تمام بینکوں کیلئے ڈالر کا ریٹ متعین کرتا ہے، اور اسی طریقے سے بینکوں کے درمیان ڈالر کی خریدوفروخت ہوتی ہے، دوسرا طریقہ اوپن مارکیٹ ہے جہاں عام لوگوں کیلئے ڈالر کا ریٹ متعین کیا جاتا ہے، اس وقت پاکستان میں ڈالر کی قیمت 168 روپے کے آس پاس ہے،ڈالر کی قیمت میں اس اضافے سے بیرونی قرضوں میں 1170 ارب روپے کا اضافہ ہوا، اس طرح ڈالر کے بڑھنے سے شرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے، ڈالر کے معاملے میں سٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ کیلئے اپنے ہدایات جاری کر سکتا ہے، لیکن سٹیٹ بینک حکومت کے پابند نہیں ہے, ڈالرکی ریٹ تب بڑھتا ہے جب ڈالرکی رسد کم اور ڈیمانڈ زیادہ ہوجاتا ہے، اس کی عمدہ مثال میلے میں ٹماٹر کی قیمت ہے، جب میلے میں ٹماٹر کم ہوجاتی ہے تو ریٹ زیادہ ہوجاتا ہے، اور جب باہر سے زیادہ ٹماٹر کی سپلائی میلے میں آجائیں تو پھر ٹماٹر کی قیمت کم ہوجاتی ہے، یہی مثال ڈالر کی بھی ہے، جب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کم ہو جاتے ہیں تو اس کی قیمت کنٹرول کرنے کے لیے سٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ میں ڈالر بھیجتے ہیں،جس سے ڈالر کی قیمت کنٹرول ہوجاتی ہے  لیکن حکومت کے پاس ڈالر کا سٹاک جسے  فارن ریزرو کہا جاتا ہے کم پڑ جاتے ہیں، یہی طریقہ ڈالر کی مصنوعی قیمت برقرار رکھنا بھی کہلاتی ہے، یاد رہے اسحاق ڈار پر بھی یہی الزام لگایا گیا تھا، ڈالر کے ریٹ بڑھنے کی ایک وجہ افغانستان کی صورتحال ہے، جن کے ساتھ ہمارے برآمدات رک گئے ہیں اور یہاں کے ڈالر وہاں منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں، دوسری وجہ سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے مطابق اس سال پاکستان کا 20 ارب ڈالر قرض کی واپسی ہے، اس لیے کرنسی ڈیلر ڈالر کی کمی اور قیمت بڑھنے سے بچنے کیلئے پہلے سے ڈالر خرید لیتے ہیں، تیسری وجہ درآمدات ہے جن میں کرونا ویکسین، گندم، چینی کپاس ، تیل اور مشینری جیسی درآمدی اشیاء شامل ہیں،اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے ماہ پاکستان کی درآمدات 4 بلین ڈالرز سے بڑھ کر 6 بلین ڈالرز ریکارڈ کی گئی ہے، یاد رہے سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے ایک انٹرویو میں ڈالر اور شرح سود بڑھانے کی اصل وجہ درآمدات کو کنٹرول کرنا قرار دیا تھا،  چوتھی وجہ ڈالر کی بلیک مارکیٹ ہے، پانچویں وجہ ذخیرہ اندوزی ہے، چھٹی وجہ 30 جون کو ایمنسٹی اسکیم کی بندش ہے، اس اسکیم کے ذریعے بھی زیادہ ڈالر پاکستان منتقل ہوئے، یہ ہے کچھ وجوہات، پٹرول اور ڈالر کی ڈالر کی اونچی اڑان کی،یہ سارے وجوہات مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں

Chaudhry Irfan Rana Twitter

‎@Ipashtune

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!