fbpx

وفاقی بجٹ، اپوزیشن کیا پروگرام بنا رہی ہے؟ شہباز شریف سے کس نے امید لگا لی؟

وفاقی بجٹ، اپوزیشن کیا پروگرام بنا رہی ہے؟ شہباز شریف سے کس نے امید لگا لی؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بجٹ میں ایک روز باقی ہے، حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالہ سے تیاریاں جاری ہیں تا ہم اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی ہدایت کی منتظرہے

قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے تاحال اپوزیشن جماعتوں سے رابطے نہیں کیے، بجٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے سے متعلق پی ڈی ایم م کی حکمت عملی تیار نہیں ہوئی،بجٹ سے متعلق شہبازشریف نے تاحال پیپلزپارٹی سے بھی رابطہ نہیں کیا، پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں شہبازشریف کو بجٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا ٹاسک سونپا تھا تا ہم ابھی تک شہباز شریف نے پیپلز پارٹی سمیت کسی سے بھی رابطہ نہیں کیا

وفاقی حکومت کا بجٹ کل قومی اسمبلی میں پیش ہونا ہے،بجٹ کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتوں کا کوئی مشترکہ لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، بجٹ کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتیں بیانات تو دے رہی ہیں لیکن عملی طور پر بجٹ منظور کروانے یا نہ کروانے کے لئے کیا کردار ادا کرنا ہے کیا حکمت عملی ہونی ہے اس پر کوئی بات چیت ابھی تک نہیں ہوئی

بجٹ کے حوالہ سے پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلواسطہ ٹیکس سے 242 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہی، تباہی سرکار اب پیٹرولیم لیوی کو ایف بی آر کی وصولی میں شامل کر رہی ہے، پیٹرولیم لیوی کی رقم این ایف سی میکینزم کے مطابق فیڈرل ڈویژبل پول میں شامل نہیں ہوگی،اپوزیشن عوام دشمن بجٹ کو مسترد کردے گی، کیا آئی ایم معیشت چلائے گی؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا اب میکرو اکنامک شعبے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے،

دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مملکت زرتاج گل کا کہنا ہے حکومت ملک کے عوام کے تحفظات دُور کرنے کے لئے تمام تر کوششیں کر رہی ہے۔ آئندہ بجٹ عوام دوست ہو گا جس میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

پنجاب کا بجٹ کیسے پاس ہو گا؟ گورنر پنجاب متحرک، اہم ٹاسک مل گیا

آئی ایم ایف بجٹ مسترد، فوج کی تنخواہوں میں 175 فیصد اضافہ کیا جائے، بلاول

بجٹ قریب آتے ہیں اتحادی جماعت کو بزدار نے کیا یقین دہانی کروا دی؟

بجٹ کے بعد کونسا وفاقی وزیر استعفیٰ دینے والا ہے؟ مبشر لقمان کا تہلکہ خیز انکشاف

کمپنی کو بجٹ کون دیتا ہے اصل مقصد کیا ہے؟ چیف جسٹس

واضح رہے کہ آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ کل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار ارب روپے سے زائد ہوگا۔ بجٹ میں 500ٹیرف لائنزختم کرنےکےساتھ ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ زیرغور ہے۔بجٹ خسارہ 35ارب روپے متوقع ہے،دفاع کیلئے 1320ارب روپے مختص کئے جاسکتے ہیں۔آئندہ مالی سال معاشی ترقی کا اندازہ 4اعشاریہ 8فیصد ہوگا،زراعت کا ساڑھے 3فیصد،صنعتی شعبے کا ساڑھے 6فیصداور خدمات کے شعبے کی ترقی کا تخمینہ 4اعشاریہ 8فیصد لگایا گیا ہے۔

پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے کتنے نکات پر عمل کر لیا، حماد اظہر نے بجٹ تقریر میں بتا دیا

وفاقی بجٹ میں پی ٹی وی کی بھی سن لی گئی،کیمروں اور آلات میں جدت لانے کیلئے بڑی رقم مختص

بجٹ میں بڑے رہائشی گھروں پر فی کنال ٹیکس عائد کرنے کی تجویز،فارم ہاؤسز پر بھی ہو گیا ٹیکس

وفاقی بجٹ، سگریٹ، انرجی ڈرنکس مہنگے، سیمنٹ، موبائل فون سستے