fbpx

وفاقی کابینہ اجلاس، پنجاب میں نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے ناموں کی منظوی

وفاقی کابینہ اجلاس، پنجاب میں نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے ناموں کی منظوی
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 15 نکاتی ایجنڈے پرغور کیا گیا وفاقی کابینہ اجلاس میں کورونا، ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا چیف سیکریٹری اورآئی جی پنجاب کوتبدیل کرنےکی منظوری دے دی گئی چیف سیکریٹری پنجاب کیلئے کامران علی افضل کی منظوری دی گئی آئی جی پنجاب کیلئے راؤسردارکی منظوری دی گئی کامران علی افضل اس وقت وفاقی سیکریٹری انڈسٹریزہیں

آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی کے تبادلے کا فیصلہ کرتے راؤ سردار علی خان کو نیا آئی جی پنجاب تعینات کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا تھا راؤ سردار علی مینجنگ ڈائریکٹر سیف سٹیز اتھارٹی پنجاب ہیں،سیکرٹری صنعت و پیداوار ڈویژن کامران علی کا تبادلہ کرتے انہیں چیف سیکرٹری پنجاب تعینات کیا گیا ہے

تبدیلی سرکار جب سے آئی تبادلے ہی کر رہی ہے، وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہورکے بعد افسران کی شامت آ جاتی ہے، اور انکا تبادلہ کر دیا جاتا ہے، پنجاب میں 3 سال میں 4 چیف سیکریٹریز، 6 آئی جیز تبدیل ہوئے ،کامران علی افضل پی ٹی آئی پنجاب حکومت کے پانچویں چیف سیکریٹری ہیں پی ٹی آئی حکومت میں پہلے چیف سیکریٹری پنجاب اکبر خان درانی تھے چیف سیکریٹری اکبر درانی کو ہٹا کر یوسف نسیم کھوکھر کو تعینات کیا گیا تھا اعظم سلیمان کو ہٹا کر جواد رفیق نئے چیف سیکریٹری پنجاب تعینات کیے گئے تھے

اسی طرح سی سی پی او لاہور کا بھی کئی بار تبادلہ ہو چکا،سابق آئی جی پنجاب انعام غنی کو آئی جی ریلوے پولیس لگا دیا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے

وفاقی حکومت نے سردار علی خان کو انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے عہدے پر تعینات کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔ سردار علی خان ان دنوں ایم ڈی پنجاب سیف سٹی اتھارٹی لاہور کے عہدے پر فرائض سر انجام دے رہے تھے۔سردار علی خان اس سے قبل ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس پنجاب، سی پی او کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکے ہیں۔سردار علی خان کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع لودھراں سے ہے۔ انہوں نے 1990میں بطوراے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی۔ ان کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان کے اٹھارہویں کامن سے ہے۔کیرئیر کے آغاز میں سردار علی خان نے اے ایس پی یوٹی، کوئٹہ، ایف سی بنوں اور ایس ڈی پی او، قائد آباد، کوئٹہ میں خدمات سر انجام دیں۔انہوں نے ایس ڈی پی او سمہاڑی، جعفر آباداور فیروز والہ کے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے۔ ایس پی رینک پروموشن کے بعد انہوں نے بطور ایس پی فیصل آباد،بہاولپور، سرگودھا، رحیم یار خان، سپیشل برانچ، چکوال اور میانوالی میں فرائض سر انجام دئیے۔
بطور اے آئی جی ڈویلپمنٹ، اے آئی جی لاجسٹکس کے عہدوں پر فرائض سر انجام دینے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد چلے گئے۔ بطور ڈی آئی جی پروموشن کے بعد انہوں نے بطور سی پی او فیصل آباد، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، آر پی او سرگودھا، آر پی او بہاولپورکے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے۔انہوں نے 5سال سے زائد عرصہ تک انٹیلی جنس بیورو میں بھی اپنی خدمات سر انجام دیں۔ایڈیشنل آئی جی کے عہدے پر پروموشن کے بعد وہ ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس تعینات رہے جبکہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کے عہدے کا اضافی چارج ان کے پاس رہا۔ سردار علی خان نے8ماہ یو این مشن اور 2سال آسٹریلیا میں بھی فرائض سر انجام دئیے۔

قادیانی آئین کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کا مسلسل ارتکاب کر رہے ہیں، حافظ عاکف سعید

مندر کی تعمیر کے خلاف مزید دو درخواستیں، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع