وفاقی وزراء کے لئے بڑی مشکل، وزیراعظم نے کیا رپورٹ طلب کر لی

وفاقی وزراء کے لئے بڑی مشکل، وزیراعظم نے کیا رپورٹ طلب کر لی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ٹیم کی کارکردگی جانچنے کا فیصلہ کر لیا

وزیر اعظم عمران خان نےوفاقی وزراسے ان کی کارکردگی رپورٹ مانگ لی،وزارت میں کتنا وقت گزارا؟ کتنے اجلاس کیے؟ کیا فیصلے ہوئے؟ وزیر اعظم نے رپورٹ مانگ لی،وزیر اعظم وزرا کی کارکردگی رپورٹ پر کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ کریں گے،وزراکو اپنی کارکردگی رپورٹ آج شام تک وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے.

مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے تمام اراکین سے رپورٹ مانگی ہے کہ جب سے وہ وزیر بنے ہیں اسوقت سے لے کر وزارت کے تمام اقدامات کی رپورٹ جمع کروائی جائے، ہر وزارت مستقبل کی منصوبہ بندی کی رپورٹ بھی جمع کروائے،وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ کابینہ اراکین کی کارکردگی تسلی بخش نہیں.

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ میں متعدد بار تبدیلیاں کر چکے ہیں، وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ وزرا کام کریں اور عوام کو ریلیف ملے. وفاقی وزرا کی جانب سے وزارتوں کی رپورٹ وزیراعظم ہاؤس میں جمع کروائی جائے گی جس کے بعد وزیراعظم عمران خان اہم فیصلے کریں گے

میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

قیدیوں کی رہائی کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا، بڑا حکم دے دیا

کابینہ کے 49 ارکان کا مطلب،وزیراعظم کچھ جانتا ہی نہیں،حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو سرینڈر کر دے، سپریم کورٹ

مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل بھی وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں کیں ، اب بھی وزیراعظم کی جانب سے نئے حکم کے بعد ایک بار پھر کابینہ میں تبدیلیاں متوقع ہیں.

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کا حجم بڑھ گیا اور ارکان کی کل تعداد 48 تک پہنچ گئی،کابینہ میں شامل وفاقی وزراء کی تعداد 25 ہوگئی ہے جبکہ 4 وزیرِ مملکت اور مشیروں کی تعداد 5 ہے۔2 معاونین خصوصی ثانیہ نشتر اور ارباب شہزاد کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہے جبکہ ارباب شہزاد کو آج معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ تعینات کیا گیا ہے۔

شہزاد ارباب کی شمولیت کے بعد وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تعداد 14 ہوگئی جبکہ وفاقی کابینہ میں شامل 19 ارکان غیرمنتخب ہیں جن میں وزیراعظم کے 5 مشیر اور 14 معاون خصوصی شامل ہیں

کرونا وائرس کے حوالہ سے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا،وزراء اور مشیروں کی فوج در فوج ہے، مگر کام کچھ نہیں،مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سر ایسی بات نہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے طور مبینہ طور پر ان کو کرپٹ کہا ہے،ہم نے حکم دیا تھا کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرے،

غیر منتخب افراد وزیراعظم کے معاون خصوصی کیوں؟ عدالت میں درخواست دائر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.