fbpx

ندیم ملک ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں گے یا نہیں؟ بتا دیا

لاہور:ندیم ملک ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں گے یا نہیں؟ بتا دیا،اطلاعات کے مطابق نجی ٹی وی چینل ’’سماء‘‘ کے فلیگ شپ پروگرام ’’ندیم ملک لائیو‘‘ کے میزبان اور معروف صحافی ندیم ملک کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جانب سے طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

ندیم ملک نے اس نوٹس کے حوالے سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے ’’کہ وہ کسی قمیت پر بھی ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوں گے اور اگر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) انھیں گرفتار کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے آفس میں موجود ہیں، جس نے پکڑنا ہے، آ کر پکڑ لے۔‘ندیم ملک ریاستی اداروں کے سامنے اکڑگئے

ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ نے ندیم ملک کو اپنے ایک بیان کی وضاحت اور متعلقہ معلومات فراہم کرنے کے لیے منگل (آج) کے روز پیش ہونے کا حکم دیا تھا ۔

ندیم ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ دہشت گرد ہوں جو انہیں نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد اگر فوج کے بعد کسی نے قربانیاں دی ہیں تو وہ ملک کے صحافی ہیں۔ ندیم ملک کا کہنا تھا کہ میں 6 جولائی کو ایف آئی اے میں پیش نہیں ہوں گا کیوں کہ صحافی کو اپنی خبر کی سورس بتانے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

ندیم ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں الیکشن دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنے کمیشن کے سربراہ جسٹس ناصرالملک نے واضح طور پر لکھا تھا کہ جرنلسٹ کو سورس بتانے کےلیے مجبور نہیں کیا جاسکتا تو مجھے کس قانون کے تحت بلایا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے میری خبر کی تردید بھی نہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خبر درست ہے۔ ندیم ملک نے سوال اٹھایا کہ ویڈیو اسکینڈل پر ایف آئی اے کی بھی انکوائری ہو رہی تھی اس کی رپورٹ اب تک پبلک نہیں کی گئی۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش ایف آئی اے کے نوٹس پر دو جولائی کی تاریخ درج ہے جب کہ یہ طلبی مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت کی گئی ہے۔ نوٹس کے مطابق ’28 اپریل 2021 کو کیے گئے شو میں آپ نے بتایا کہ آپ کے پاس اہم معلومات ہیں جو اوپر ذکر کیے گئے مقدمہ کی تفتیش کے لیے ایجنسی کی معاون ہوں گے۔‘

اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عظمت خان کے دستخط سے تین جولائی کو جاری کردہ نوٹس میں ٹیلی ویژن میزبان سے کہا گیا ہے کہ وہ چھ جولائی کو ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں واقع انسداد دہشت گردی ونگ کے دفتر میں تمام متعلقہ معلومات، دستاویزات اور ثبوتوں کے ساتھ پیش ہوں۔

واضح رہے کہ 28 اپریل کو آن ایئر ہونے والے اپنے ایک پروگرام میں ندیم ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ ایف آئی اے کے چند سینیئر اہلکاروں نے انھیں بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا دلوانے کے لیے اس وقت کی اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو ’شاہراہ دستور پر واقع ایک عمارت میں طلب کیا گیا تھا۔‘

ندیم ملک کے بقول اس عمارت میں فوج کے حساس ادارے کے دو سینیئر افسران موجود تھے، جنھوں نے احتساب عدالت کے جج کو ان کی 30 سال قبل ملتان میں بنائی گئی ’قابل اعتراض ویڈیو‘ دکھائی اور دھمکی دی کہ اگر انھوں نے اس ریفرنس میں فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق نہ دیا تو وہ یہ ویڈیو ’وائرل کر دیں گے۔‘

ندیم ملک نے اس انکشاف میں فوج کے حساس اداروں کے افسران کے نام ظاہر نہیں کیے اور نہ ہی فوج نے اس پر کوئی بیان جاری کیا ہے۔ اپنے بیان میں اینکر نے کہا کہ یہی ویڈیو پاکستان مسلم لیگ نواز کے ’ہتھے بھی چڑھ گئی، جس کی بنیاد پر یہ جماعت ارشد ملک سے اپنے حق میں فیصلہ چاہتی تھی۔‘