fbpx

افغانستان سے فوجی انخلا ایک ‘غلطی ہے :افغان طالبان واشنگٹن تک پیچھے آئیں‌ گے سابق امریکی صدر جارج بش

واشنگٹن :افغانستان سے فوجی انخلا ایک ‘غلطی ہے :افغان طالبان واشنگٹن تک پیچھے آئیں‌ گے سابق امریکی صدر جارج بش بھی چیخ اٹھے ،اطلاعات کے مطابق امریکا کے سابق صدر جارج بش نے افغانستان سے نیٹو افواج کی دستبرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو طالبان کے ‘قتل عام’ کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

سابق امریکی صدر جارج بش نے جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ‘میں اور لارا بش نے افغان خواتین کے ساتھ بہت وقت گزارا اور وہ بہت خوف زدہ ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ نہ صرف امریکی فوج بلکہ نیٹو افواج کی مدد کرنے والے اور تمام ترجمانوں کو ایسا لگتا ہے کہ بہت ہی ظالم لوگوں کے ذریعے قتل کرنے کے لیے چھوڑا گیا ہے اور اس سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے’۔

جارج بش سے سوال کیا گیا کہ کیا افغانستان سے فوجیوں کا انخلا ایک غلطی تھی تو انہوں نے کہا کہ ‘ہاں میں ایسا ہی سمجھتا ہوں’۔جارج بش نے کہا کہ دیکھ لینا امریکی حکومت کواس غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اورپھر افغان طالبان امریکیوں کے پیچھے واشنگٹن تک آئیں گے

نیویارک اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں 11 ستمبر 2001 کو بدترین حملوں کے بعد 2001 میں ہی امریکی فوج کو افغانستان بھیجنے والے سابق ری پبلکن صدر کا کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ جرمن چانسلر اینجیلا مرکل بھی ‘ایسا ہی سوچتی ہیں’۔

بش کا کہنا تھا کہ مرکل نے ‘بہت اہم پوزیشن کو ایک کلاس اور عزت بخشی ہے اور بڑے سخت فیصلے کیے ہیں’۔ جرمن چانسلر اینجیلا مرکل 16 سال حکمرانی کے بعد رواں برس کے آخر میں سیاست سے ریٹائر ہوجائیں گی۔

خیال رہے کہ امریکا اور نیٹو فورسز نے رواں برس مئی کے شروع میں افغانستان سے انخلا کا آغاز کردیا تھا اور 20 سال تک جنگ زدہ ملک میں رہنے کے بعد 11 ستمبر تک مکمل طور پر دستبردار ہو جائیں گی۔