عورت—–از — حافظہ قندیل تبسم

عورت کا وجود انسانیت کے ارتقاء کے وقت سے ہی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ عورت ہی مرد کی پہلی ہمنشیں ٹھہری اور زمین پر آتے ہی انسان کو اس عورت کے فراق کا مزہ چکھنا پڑا۔ اسی عورت کے ذریعے نسل انسانی پروان چڑھی اور اسی عورت کی وجہ سے ہی پہلی معرکہ آرائی سامنے آئی جب ہابیل اور قابیل باہم متصادم ہوئے ۔ اس تصادم کا نتیجہ پہلا انسانی قتل، اس کے پیچھے کار فرما محرک بھی عورت ہی تھی۔

کبھی گردش زمانہ میں ایسے ایام بھی آئے کہ بنی اسرائیل میں حکم سا دیا گیا کہ لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے تو کبھی ایسا بھی ہوا کہ انھی لڑکیوں کو بچپن میں ہی زندہ درگور کر دیا گیا۔ الغرض زمانے کے پیچ و تاب کے ساتھ عورت بھی مختلف حالات سے گزرتی رہی ہے۔

فی زمانہ بھی عورت کئی روپ میں نظر آتی ہے۔ کہیں ننھی زینب کی شکل میں بے رحم معاشرہ اس کا جسم تار تار کرتا ہےتو کہیں قریبی رشتہ دار اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ کہیں تو یہ عورت عزت پاتی ہے اور کہیں بے آبرو کر دی جاتی ہے۔ انہی متضاد کیفیات و حالات میں سے ایک حالت نیکی و پارسائی کی ہے جب یہ عورت اللہ تعالیٰ کے احکامات بجا لاتے ہوئے دین کے احکام کی پاسداری کرتی ہے اور ایک حالت وہ ہے جس میں یہ عورت پابندیوں سے آزادی مانگتی سر بازار نازیبا لباس میں نظر آتی ہے۔

معاشرے میں عورت کے کئی رنگ ہیں۔ ہر رنگ کی اپنی ہی الگ داستان ہے۔ کوئی شادی کے لیے رشتے کی تلاش میں بوڑھی ہو رہی ہے تو کوئی شادی کے بغیر آزاد زندگی سے خوش نظر آتی ہے۔ کہیں عورت طلاق سے خوفزدہ ہے اور طلاق کے ڈر سے بہت کچھ برداشت کر جاتی ہے اور کہیں طلاق یافتہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔ ایک عورت حقوقِ نسواں کی آواز اٹھاتی ہے تو دوسری اسی کے مقابل چادر اور چار دیواری کی بات کرتی ہے۔ ایک نے بیواؤں کا سہارا بننے کی بات کی تو ایک نے اس لیے شادی سے انکار کیا کہ وہ کسی کی سوتن بننے پر آمادہ نہیں۔ اپنی بیٹی کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی جب ساس کے روپ میں آتی ہے تو عورت کا معنی ہی بھول جاتی ہے۔

شاعر نے کیا خوب کہا تھا
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی ایک مصرعہ پر غور کر لیا جائے تو صنف نازک کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔ ذرا غور کیجئے ایک مصور کمال مہارت سے کینوس پر ایک تصویر بناتا ہے اور پھر اس میں کئی طرح کے رنگ بھر دیتا ہے۔ رنگوں کا یہ امتزاج اس تصویر کی خوبصورتی کئی گنا بڑھا دیتا ہے مگر ذرا تصور کیجیے اگر ان رنگوں کے استعمال میں توازن و تناسب کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو تو یہ تصویر دیکھنے والے کو کیسی لگے گی؟ کیا دیکھنے والا اس تصویر کے محاسن پر نظر کرے گا یا رنگوں کے عدم تناسب پر؟؟؟

خوب جان لیجیے یہی راز زندگانی ہے۔ اضداد کسی مسئلہ کا حل ہے اور نہ ہر جگہ جچتا ہے۔ اس کے بر عکس امتزاج ہر ایک کو بھاتا ہے اور دیکھنے میں دلکش معلوم ہوتا ہے۔ تو زندگی میں رنگ بھریے مگر حسین امتزاج میں نہ کے غیر متناسب اضداد میں۔

عورت
حافظہ قندیل تبسم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.