عورت آزادی مارچ ٹرینڈ بن گیا:2021 کا عورت مارچ کیسا ہوگا:حالات واضح ہوگئے

لاہور:عورت آزادی مارچ ٹرینڈ بن گیا:2021 کا عورت مارچ کیسا ہوگا:حالات واضح ہوگئے،اطلاعات کے مطابق اس سال عورت آزادی مارچ کے حوالے سے مقررہ تاریخ آنے سے پہلے ہی مہم شروع ہوگئی ہے اورنہ صرف پاکستانی میڈیا بلکہ عالمی میڈیا بھی پاکستان میں عورت مارچ کے حوالے سے اس مہم میں حصہ لے رہا ہے

 

 

اس حوالے سے ٹویٹرپرایک ٹرینڈ بن رہا ہے جس میں سال 2021 میں عورت آزادی مارچ کے‌حوالے سے مختلف قسم کے خیالات وواقعات سامنے آرہے ہیں، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مرتبہ عورت مارچ کو پہلےسے زیادہ غیر ملکی آشیرباد حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ بی بی سی بھی پاکستان میں عورت مارچ کےحوالے سے اہم رپورٹس جاری کررہا ہے

 

 

یاسراقبال نامی صارف کہتے ہیں کہ عورت آزادی مارچ کے نام پربے حیائی اورحرام زدگی کو پروان چڑھایا جاتا ہے اس کےعلاوہ عورت مارچ میں کچھ نہیں عورت کوجوعزت اسلام نے دی اس سے بڑھ کراورعزت اورکیا ہوسکتی

 

 

 

ڈاکٹربلال لودھی کہتے ہیں کہ عورت کو اپنے بچوں ، بجو ں کی تعلیم وتربیت اورگھریلوں امورپرتوجہ دینی چاہیے اس کی دنیا اس کی اولاد اس کا سکون عورت کا گھر،عورت کو عورت آزادی مارچ جیسے قبح امور سے دور رہنا چاہیے جو عورتیں ایسا سوچتیں ہیٰں ان کی عزت بھی معاشرے میں نہیں رہتی اوروہ دنیا والوں کے لیے کھلونا بن جاتی ہیں

 

 

فرحان نامی صارف نے اپنا نقطہ نظربیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ممبر پر بیٹھ کر ھم کو بیواہ اور طلاق یافتہ سے شادی کا درس دیتا اور خود 14سالہ لڑکی سے شادی کر لی، مولانا صاحب کو معاشرے کے لیے نمونہ بننا چاہیے

 

 

 

فواد سادات کہتے ہٰیں کہ دنیا میں اسلام کے مقابلہ میں کوئی دین نہیں۔۔۔ اور جو آزادی اسلام نے عورت کو دی ہے وہ کسی اور مذہب نہیں دے سکتا۔۔۔ اسلیے عورت کو اسلامی لیمٹس میں رہ کر حقوق مانگے نہ کہ اس سے زیادہ۔۔۔

 

 

 

 

ایک صارف محمد فیصل کہتے ہیں کہ واہ کیا خوب کردارادا کیا خلیل الرحمن قمر نے بڑی بہادری سے حق سچ بیان کیا ، وہ آج تک ہمارے دلوں میں ہیں اورہم ان کو بہت زیادہ مس کررہے ہیں

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.