ورلڈ ہیڈر ایڈ

کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر

آپ لوگوں نے جہاز کو ائیرپورٹ کی حدود میں ٹیکسی کرتے عموماً دیکھا ہوگا۔ اس وقت جہاز کی رفتار بہت مدھم اور سست ہوتی ہے۔ کیونکہ اس وقت جہاز اپنے انجنوں کی پوری قوت استعمال نہیں کررہا ہوتا

جہاز سست رفتاری سے رینگتا ہوا مین رن وے کے شروعاتی پوائنٹ تک پہنچتا ہے، اپنی سمت کو درست کرتا ہے اور اسکے بعد بھرپور طاقت سے اپنے انجن کو اسٹارٹ کرکے ٹیک آف اسپیڈ پکڑتا ہے۔ یہ رفتار اور طاقت کچھ ہی سیکنڈز بعد اسے آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔

کاروبار کی بھی بلکل یہی مثال ہے۔۔۔

کاروبار کی شروعات سست ہوتی ہے۔ کیش فلو بہت کم ہوتا ہے، منافع کی دھار ہلکے ہلکے بن رہی ہوتی ہے۔ آپ دھیرے دھیرے قدم جما رہے ہوتے ہیں۔ لمبی اڑان (بڑے منافع) کے لیے رن وے (صحیح سمت اور موقع) پر آرہے ہوتے ہیں۔

کاروبار کے رن وے پر کامیابی سے پہنچنے کے بعد آپ کو "انجن” پوری طاقت کے ساتھ اسٹارٹ کرنا ہوتا ہے۔۔۔

بہت سے کاروباری، کامیابی سے رن وے تک پہنچنے کے باوجود "انجن” کو اسٹارٹ نہیں کرپاتے۔ یہ رن وے پر بھی سست رفتار سے دوڑتے رہتے ہیں۔ جب کہ اسمارٹ اور زہین کاروباری، رن وے پکڑتے ہی، انجن اسٹارٹ کرکے آسمانوں کی بلندیوں پر نکل جاتے ہیں

کیا آپ جانتے ہیں کہ کاروبار کی اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے کیا مراد ہے؟

نہیں جانتے؟

میں آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔

کاروباری اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے مراد ہے،

کاروبار کے مختلف پراسسز کو delegate کرنا۔۔۔

آسان الفاظ میں، اپنے کام خود کرنے کی بجائے، دوسروں سے کروانا

مثال کے طور پر، مائیکروسافٹ کے شروعاتی دور میں، بل گیٹس اپنے سافٹ ویئر خود کوڈ کرتا تھا لیکن مائیکروسافٹ کے جہاز کے رن وے پر چڑھتے ہی اس نے developers ہائیر کرنا شروع کئیے جو مائیکروسافٹ کی پروڈکٹس کو کوڈ کرتے اور بل گیٹس کی ساری توجہ بزنس گروتھ پر لگنے لگی۔

کے ایف سی کے فاؤنڈر، کرنل سینڈرز خود فرائیڈ چکن بنایا کرتے تھے، لیکن پھر انھوں نے کاروبار کے پھیلتے ہی ورکرز رکھنے شروع کئیے اور خود کو بزنس کی گروتھ کے لیے وقف کرلیا۔

پاکستانی چیف جسٹس کوویزا جاری نہیں کریں گے، امریکہ

آپ Elon Musk کو دیکھ لیجیے۔ وہ صرف گروتھ اور نت نئے بزنس آئیڈیاز پر کام کرتا ہے، باقی ہر کام کے لیے اس نے ٹیمیں تشکیل دی ہوئی ہیں۔

یہ تو بلین ڈالر کمپنیوں کی مثالیں تھیں۔ چھوٹے بزنس اس کو کیسے اپلائی کرسکتے ہیں؟

مثال کے طور پر، آپ نے چھوٹے پیمانے اور کم بجٹ سے ای کامرس میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بجٹ محدود ہونے کی بناء پر، سارے کام آپ کو خود کرنے پڑتے ہیں۔

آپ ہول سیل پر پراڈکٹ خرید کر لاتے ہیں، پھر انھیں پیک کرتے ہیں، کسٹمر کی کالز اور میسجز کو خود مینج کرتے ہیں، پیک کرکے ڈیلیوری کمپنی تک پہنچاتے ہیں۔ باقی فیس بک پیج یا ویب سائٹ بھی آپ مینج کررہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

شروع میں یہ سب کچھ آپ ہی کو مینج کرنا پڑے گا۔ لیکن، کچھ عرصے پرافٹ میں چلنے کے بعد آپ کو ان تمام پراسس ورک کے لیے کسی کو ہائیر کرنا ضروری ہے تاکہ آپ اپنا "تمام” فوکس بزنس گروتھ اور ڈیویلپمنٹ پر لگاسکیں۔

اپنےآپ کو خودکش دھماکے میں اڑانے والے کون تھے ؟

جتنا بھی ممکن ہوسکے، ہر شعبے کے لیے ہیلپر یا ماہر افراد رکھتے جائیے۔ اگر کسی کام کے لیے فل ٹائم بندہ ہائیر نہیں کرسکتے تو پارٹ پوزیشن آفر کیجیے۔ یہ بھی مشکل لگتا ہے تو آؤٹ سورسنگ کی طرف جائیے۔ اسکے علاوہ کسی کو پارٹنر بنا کر یا اسٹیک آفر کیجیے اور اپنے کام میں ساتھ ملا لیجیے۔

دھیرے دھیرے ٹیم ڈیویلپ کرنا، پراسسز کو delegate کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکے بناء آپ بڑا کاروبار نہیں کھڑا کرسکتے۔

یاد رکھئیے، چھوٹا بزنس delegation، مطلب کے دوسروں کو کام سونپنے سے ہی بڑا بنتا ہے یعنی کے ٹیک آف کرپاتا ہے۔ اگر آپ صرف پیسے بچانے کے لیے سارے کام خود سے کرنے پر لگے رہیں گے تو کئی سالوں بعد بھی رن وے پر ہی رینگ رہے ہوں گے۔۔۔!!!

کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.