fbpx

سیلاب سےہرطرف تباہی،صدمےکےاظہارکیلئے’الفاظ‘ نہیں،دنیاہماری مددکرے:وزیراعظم کااقوام متحدہ میں خطاب

نیویارک:وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب نے پاکستان میں ہرطرف تباہی ہی تباہی پھیلا دی ہے ،اس وقت صدمے میں میرے پاس الفاظ نہیں کہ ہم کس طرح اس صدمے کا اظہارکریں ، یہ وقت ہے دنیا آگے بڑھے اور ہماری مدد کرے ، وزیراعظم نے اس موقع پر کہا ہے کہ اب بھی یہی محسوس ہورہا ہے کہ میں سیلاب سے متاثرہ سندھ یا پنجاب کسی علاقے کا دورہ کررہا ہوں،

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں پاکستان کی اسٹوری بتانے کے لیے موجود ہوں، میرا دل اور دماغ وطن کی یاد چھوڑنے کو تیار نہیں ہے، میں اب بھی یہی محسوس ہورہا ہے کہ میں سیلاب سے متاثرہ سندھ یا پنجاب کسی علاقے کا دورہ کررہا ہوں، کوئی الفاظ صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے جس سے ہم دوچار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں پر موسمیاتی آفات سے تباہ کاریوں کی شدت کو بتانے آیا ہوں، جس کی وجہ سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے، 40 دن اور 40 رات شدید سیلاب نے صدیوں کے موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیے ہیں، ہمیں اس آفات اور اس سے نمٹنے کے بارے میں آگہی ہے، آج بھی پاکستان کا بیشتر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بچوں اور خواتین سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو صحت کے خطرات درپیش ہیں، حاملہ خواتین خیموں میں 650 بچوں کو جنم دیا، 1500 سے زیادہ لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں، جس میں 400 بچے بھی شامل ہیں، لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد آج بھی خیمہ لگانے کے لیے خشک جگہ کی تلاش میں ہیں، متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو دل دکھا دینے والے نقصانات ہوئے ہیں، ان کا روزگار آنے والے لمبے عرصے کےلیے چھن گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق 13 ہزار کلومیٹر کی سڑکیں اور 10 لاکھ سے زائد گھر تباہ ہو ئے اور مزید 10 لاکھ کو جزوی نقصان ہپنچا، جبکہ 370 پل بہہ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے 10 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے، 40 لاکھ ایکٹر رقبے پر فصلیں تباہ ہوئیں، تباہی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے گلوبل وارمنگ کی تاریک اور تباہ کن اثرات کی مثالیں نہیں ہیں، پاکستان میں زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو چکی ہے، میں نے ہر تباہ کن علاقے کا دورہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام پوچھتے ہیں کہ یہ تباہی کیوں ہوئی اور کیا جاسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے، ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ ہماری وجہ سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہی ہیں، جنگلات جل رہے ہیں اور ہیٹ ویو 53 ڈگری سے بڑھ گئی ہیں اور اب ہم غیرمعمولی جان لیوا مون سون کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز نے کہا کہ ایک بات بڑی واضح ہے کہ پاکستان میں جو ہوا، ہم پاکستان میں اسٹے نہیں کرسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ایسے 10 سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ شکار ہوسکتے ہیں جبکہ ہم گرین ہاؤسز گیسز کا 1 فیصد سے بھی کم اخراج کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس لیے اس نقصان اور تباہی پر انصاف ملنے کی توقع کرنا بہت مناسب ہے،

سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس