fbpx

واہ سیاست تیرے رنگ:ادھرحکومت سے جنگ ادھرoic کےسنگ،شہبازشریف کابیان،قوم رہ گئی دنگ

اسلام آباد:واہ سیاست تیرے رنگ:ادھرحکومت سے جنگ ادھرoic کےسنگ،شہبازشریف کابیان،قوم رہ گئی دنگ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں تاریخی اجلاس اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے اور آج رات برادرملکوں کے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ،ادھرپاکستان کی حزب مخالف جماعتوں کے سربراہ شہازشریف نے ایک ایسا بیان جاری کیا ہے کہ جس کو جان کرہرذی شعورپاکتسانی دنگ رہ گیا ہے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس امت مسلمہ کے لیے ایک اہم واقعہ ہے۔ پوری اپوزیشن بالعموم اور ن لیگ بالخصوص عالم اسلام کے تمام بھائیوں اور بہنوں کو خوش آمدید کہتی ہے۔ وہ ہمارے معزز مہمان ہیں۔

شہبازشریف کے ان الفاظ کے بارے میں جان کرپاکستانی جہاں دنگ رہ گئے ہیں وہاں ان کا ردعمل بھی قابل دید نظرآرہا ہے ، شہبازشریف نے بیان داغا ہے اس کے حوالے سے سوشل میڈیا پرایک انتہائی نپا تلا ردعمل سامنے آرہا ہے ،

 

عوام الناس کا کہنا ہے کہ عجیب حُسن اتفاق ہے کہ ایک دوسرے کو چورکرپٹ اوردونمبر کہنے والے سب اکٹھے ہوگئے اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ دھمکی دے دی کہ وہ اوآئی سی کا اجلاس خراب کرنے کی کوشش کریں گے

عوام الناس کا کہنا ہے کہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف اسلام آباد میں آصف علی زرداری کے ساتھ ملک کردھمکیاں دی جاتی ہیں کہ وہ اوآئی سی کا اجلاس نہیں‌ ہونے دیں گے ،اورعدم اعتماد کے لیے اجلاس بلانے کے لیے طرح طرح کی دھمکیاں‌دی جارہی ہیں‌ کہ اگراجلاس نہ بلایا تو اسلام آباد میں آو آئی سی کا اجلاس نہیں ہونے دیں‌ گے دوسری طرف میاں شہبازشریف بلاول کے ساتھ ملکر پاکستان کے اس تاریخی ایونٹ کو ناکام کرنے کی دھمکیاں دے رہیں اور ساتھ ہی ساتھ قوم کو گمراہ کرنے کےلیے جھوٹے الزامات تراشے جارہے ہیں‌

یاد رہےکہ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیر کے روز عدم اعتماد پر کارروائی نہ ہوئی تو دھرنا دیں گے، پھر دیکھتے ہیں او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہونے والے اپوزیشن کے ظہرانے میں شرکت کی، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، اختر مینگل، بشری گوہر، جہانزیب بلوچ، شاہد خاقان عباسی، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، شیری رحمان، نیئر بخاری، رضا ربانی، نوید قمر اور سلیم مانڈوی والا بھی طہرانے میں موجود تھے۔

اجلاس کے دوران رہنماؤں کے درمیان تحریک عدم اعتماد، حکومتی بوکھلاہٹ سمیت ملکی سیاسی صورت حال پر اہم ترین مشاورت کی گئی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکی دے رہا ہے اگر اسے نہ کھیلنے دیا گیا تو کسی کو نہیں کھیلنے دے گا، پاکستان کا ہر شہری اور سیاسی جماعتیں عمران کو وارنننگ دے رہا ہے گھر چلے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اجلاسوں میں شرکت سپیکر کے منصب کی توہین ہے۔ سپیکر کو وارننگ دیتا ہوں آپ کا بیان نامناسب ہے۔ اگر سپیکر نے پیر تک عدم اعتماد کی تحریک پیش نہ کی تو ہم اس ہال سے نہیں اٹھیں گے۔ اگر قومی اسمبلی کا قانون اور آئیں کو فالو نہیں کرینگے تو ہم بھی اسی فلور پر بیٹھیں گے جب تک ہمارا حق نہ ملا۔ پھر دیکھیں گے او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے۔