fbpx

پیڑاں ہور تے پھکیاں ہور تحریر نسیم کھیڑا

یہ خبر آج کل ہر چینل کی زینت بنی ہوئی ہے ہر کوئی اس کی coverage کرکے اپنے آپ کو انسانی حقوق, خواتین کے حقوق کا علم بردار ثابت کرنے کی کوشیش کر رہا rating بڑھ رہی ہے اور خوب رونق لگی ہوئی ہے اور ہم بھولے بھالے عوام گوں مگوں کی کیفیت میں مبتلا ہیں کہ کس کو سچ مانیں اور کس کو چھوٹ.
جو ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے.
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
آج کے جدید دور کو, جسے ہم ترقی یافتہ دور بھی کہتے ہیں حالانکہ ترقی مادی لحاظ سے ہے روحانی طور پر ہم ہم تنزلی کی جانب گامزن ہیں اس میں کوئی خبر چاہے چھوٹی ہو یا سچی, چُھپ نہیں سکتی اور اس خبر کے حوالے سے مزید خبریں ,تبصرے, آراء اور ہمدردیاں سامنے آتی ہیں. یہ بات ازل سے ثابت ہے کہ خیر اور شر دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اچھائی نہ ہو تو برائی کی پہچان ممکن نہیں برائی نہ ہو تو اچھائی کی شناخت کرنا ممکن نہیں
اب آتے ہیں اس خبر کی طرف خبروں سے خبریں نکلتی ہیں اور ان خبروں سے حقائق سامنے آتے ہیں پنجابی میں کہاوت ہے.
” کملا گل کرے ,سیاڑاں قیاس کرے ”
یہ لڑکی جو خود کو مظلوم کہتی ہے اور جس کے ساتھ ان اوباش نوجوانوں نے جو کچھ کیا کسی طور بھی اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا. ہم اس لڑکی کی بد کرداری , بدچلنی یا کسی بھی قسم کی کردار کشی کا گھر بیٹھ کر کوئی جائزہ فتویٰ یا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہمیں ہمارا مزہب اور قانوں اجازت دیتا ہے. لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس پورے معاملے میں لڑکی معصوم نہیں. اس نے خود اپنے fans / follower کو بلایا کہ ہم سب یومِ آزادی کو مل کر منائیں گے تم سب میرے دیوانے پروانے آجاؤ تمارے درمیان میں اپنی tik tok بناؤں گی اور مشہور ہوجاؤں گی. لیکن………… جناب گیم ہوگئی الٹی. وہ سب social media کے فرینڈز جھلائے ہوئے کتوں کی طرح اس پر چڑھ دوڑے
"بھیڑ جب بھیڑیوں میں جائے گی تو کیسے جان کی امان پائے گی”

اور اس بہتی گنگا میں جس نے نہیں بھی ہاتھ دھونے تھے دھولئے . اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد اس نیک پروین لڑکی نے کسی تھانے میں اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی شکایت نہ کی لیکن جب بد سلوکی کی وڈیو تشتِ ازبام ہوئی تو تیسرے دن اس نے یاسر شامی اور اقرار الحسن سے رابطہ کیا کہ مجھے آپ بھائی لوگ انصاف دلائیں. یہ اور اس قسم کے کئی لوگ تو پہلے ہی تیار بیٹھے ہوتے ہیں کہ:
” کوئی خبر لگے اور ہمارا دھندہ چلے ”

اس کے پیچھے کیا اسباب, واقعات اور حقائق ہوتے ہیں ؟ اس بات سے انھیں کوئی غرص نہیں ہوتی.
بس اِس کے بعد کیا ہوا میں آپ تین چار روز سے دیکھ رہے ہیں نیوز چینل, انسانی حقوق, عورت فاؤنڑیشن, اداکار, اداکارئیں اینکرز غرض جس کو نہیں بھی بولنا بول رہا ہے اور اس واقعہ کی آڑ میں پوری دنیا کو بتا رہا ہے کہ ہمارا پاکستانی معاشرہ دنیا کا غلیظ ترین معاشرہ ہے یہاں بائیس کروڑ انساں نہیں بلکہ بھیڑے رہتے ہیں . اور ہماری بُزدار حکومت( فارسی میں بُز’ بکری’ کو کہتے ہیں ) کی دوڈیں لگی ہوئی ہیں. ہماری پنجاب پولیس افراد کے نامعلام جم غفیر کی تلاش میں سرگرداں ہیے اور ایک 79 سالہ بزرگ کو بھی شاملِ تفتیش کرلیا ہے اور جلد مجرموں کو کیفرے کردار تک پہنچائے گی.
پیڑاں ہور تے پکھیاں ہور.
میں آپ اس معاشرے میں رہتے ہیں برے لوگوں کے ساتھ اچھے بھی لوگ ہیں عورتوں کا ادب احترام کرنے والے بھی ہیں ہمارا معاشرہ اتنا بھی گندہ نہیں جتنا ہم اسے ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں. ہر خبر کو دیکھیں سنیں لیکن یقین سمجھ بوجھ سے کریں
‎@Naseem_Khera