fbpx

کنٹونمنٹ انتخابات میں پی ٹی آئ کی کارکردگی تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

کنٹونمنٹ انتخابات میں بحیثیت ایک سیاسی جماعت کے،

اگرچہ پی ٹی آئ نے پورے ملک میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ نشستیں لی ہیں،

مگر پنجاب میں اسے شدید دھچکہ لگا ہے۔

یہاں پر نواز لیگ سیٹوں کے لحاظ سے آگے ہے۔

راولپنڈی،ملتان اور لاہور میں بھی 

پی ٹی آئ کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اگرچہ خیبر پختونخواہ ،بلوچستان اور سندھ میں نتائج اچھے رہے،

جس کے باعث مجموعی برتری تو 

پی ٹی آئ کو ملی مگر پنجاب میں شکست بہت زیادہ الارمنگ ہے۔

اسکے آئندہ انتخابات پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئ کے لئے مرکز میں حکومت بنانا پنجاب میں کامیابی سے مشروط ہو گا۔

عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلی واجبی سی کارکردگی کی جھلک ان انتخابات میں بھی نظر آئ۔

بُزدار پر ہر طرف سے تنقید کے باوجود کپتان کا اعتماد اُس پر قائم ہے۔

یہی اندھا اعتمادکپتان کی اننگز کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

عمران خان کو حقیقی بنیادوں پر بُزدار کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے،

وگرنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ پنجاب میں حکومت ہونے کے باوجود اسی طرح نواز لیگ پھرجیت گئی،

جس طرح کئی ضمنی انتخابات میں اس نے پی ٹی آئ کو ہرا کر اپنے میدان میں ہونے کا ثبوت دیا۔

نہ تو ان ضمنی انتخابات کی شکستوں سے سبق سیکھا گیا اور نہ ہی کنٹونمنٹ الیکشن کی پنجاب میں اس ہار  سے سبق سیکھنے کی کوئ امید ہے۔

وجہ اسکی یہ ہے کہ عمران خان کے ارد گرد بھی کچھ خوشامدیوں کا حصار ہے،

جو ہر تباہی کے بعد خود ساختہ دلائل سے سب اچھا کی رپورٹ دے دیتے ہیں۔

موجودہ کنٹونمنٹ انتخابات میں اپنی خراب کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لئے جو سب سے بڑالولی پاپ دیا جا رہا ہے،

وہ یہ ہے کہ اچھی خاصی تعداد میں جیتنے والے آزاد امیدوار بھی ہمارے ہیں۔

یہ بات انتہائ مضحکہ خیز ہے،

اس بات میں کوئ دم نہیں،

کیونکہ یہ لوگ اگر پی ٹی آئ کے تھے تو پی ٹی آئ کے ٹکٹ پر کیوں نہیں جیتے؟

اگر انکا تعلق پی ٹی آئ سے تھا تو انکو ٹکٹ کیوں نہیں دئیے گئے؟

یہ بھی ایک طرح سے پی ٹی آئ کے کرتا دھرتا افراد کی نااہلی ہے۔

مطلب یہ ہوا کہ زمہ دارلوگ ٹکٹوں کی منصفانہ تقسیم میں بھی ناکام رہے؟

ٹکٹوں کی غیر منطقی اور غیر منصفانہ تقسیم ماضی میں بھی اکثر پی ٹی آئ کی کامیابیوں کے آڑے آتی رہی ہےہے۔

عمران خان کو ٹکٹ تقسیم کرنے والے افراد کے محاسبے کی بھی سخت ضرورت ہے۔

انتخابی نتائج کو ان افراد کی کارکردگی کا معیار بنایا جاۓ۔

انہیں اس فارمولے کے پیچھے چھپنے کی اجازت نہ دی جاۓ کہ آزاد بھی ہمارے ہیں۔

اگر آزاد تمہارے ہیں تو تم کس کے ہو؟

کیا تم لوگ عمران خان کے بجاۓ کسی اور کے لئے کام کر رہے ہو،

جو تمہارے ٹکٹ یافتہ ہار جاتے ہیں اور جنہیں تم ٹکٹ نہیں دیتے،

وہ جیت جاتے ہیں،

کیوں ؟

کیا یہ نااہلی نہیں ہے؟

کیا یہ کپتان کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے برابر نہیں ہے؟

اس ناقص کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو بہت سے وزرا،مشیر اور ممبران اسمبلی اپنے اپنے علاقوں سے لاتعلق ہو چکے ہیں،

ان لوگوں کے عام آدمی سے رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ن لیگی دور کی طرح پی ٹی آئ کے ان زمہ داران کے رابطے علاقہ میں اپنے ان خاص ٹاؤٹوں سے ہیں،

جو اپنی غلط کاریوں اور مال بناؤمہم سے نام کپتان کا بدنام کر رہے ہیں۔

انہیں اس سے غرض نہیں کہ لوگ خان کے نظریے سے دور ہوجائیں گے،

انہیں اگر مطلب ہے تو اپنی اپنی دیہاڑیوں سے،

جو وہ خوب کھری کر رہے ہیں۔

عمران خان کو اپنے ان ریلو کٹے ٹائپ وزرا اور مشرا کی گردنوں میں آیا ہوا سریا نکال کے عوام میں بھیجنا ہو گا،

جو ٹیگ کئے جانے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

عوامی مسائل حل کرنا تو دور کی بات،

یہ ایسی باتوں کا نوٹس تک نہیں لیتے،

سوشل میڈیا ٹیمیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اپنا سر دیوار سے ٹکرا کر انہیں مسائل سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،

مگر یہ ایسے ہی ثابت ہوتا ہے،

جیسے بھینس کے آگے بین بجانا۔

ابھی نور مقدم کیس کو ہی لے لیں۔اس کیس میں جو بربریت ہوئ،

اُس پر سوشل میڈیا پر ٹرینڈز پر ٹرینڈز کئے جا رہے ہیں،

مگر حکومتی نمائندگان مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں،

حالانکہ نور مقدم کا بیہمانہ قتل ایک انسانی المیہ ہے،

جس پر متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی حکومت وقت کا فرض ہے۔

جب تک حکومتی نمائندےعوام میں جا کر اپنے کلف والے کپڑے خراب نہیں کریں گے،

اس وقت تک پی ٹی آئ وہ زور نہیں پکڑ پاۓ گی،

جس کی اُسےاگلے عام انتخابات میں فتح کے لئے ضرورت ہے۔

اب آجاتے ہیں اُس بڑی وجہ کی طرف جو ہر موقع پر پی ٹی آئ کی کارکردگی کو گہنا رہی ہے۔

وہ ہے مہنگائ۔

یہ مہنگائ جینوئن ہے،

خود ساختہ ہے یا مافیاز کے کچھ حربوں کی بدولت۔

اس مہنگائ کے دفاع میں کم ازکم میرے پاس کوئ ایک لفظ بھی نہیں ہے۔

ہم تھک گئے ہیں لوگوں کو طفل تسلیاں دیتے ہوۓ۔

اب لوگ مزید لوریاں سُننے کو تیار نہیں ہیں،

وہ ہر لحاظ سے اس مہنگائ کی کمر پر حکومت کی طرف سے لگائ جانے والی ضرب کاری دیکھنا چاہتے ہیں۔

مہنگائ کے ستاۓ لوگوں میں اب مزید خواہ مخواہ کی تسلیاں سننے کی سکت نہیں رہی۔

مزید جھوٹی تسلیاں لوگوں کو پی ٹی آئ سے دور اور ن لیگ اور پی پی جیسے مافیاز کے نزدیک کرنے کا باعث بنیں گی۔حکومت کو کچھ کرنا ہوگا۔

لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا،

مہنگائ نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔

اب انہیں کسی قسم کا نیا لولی پاپ دینے کے بجاۓ مہنگائ کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ آئندہ کے انتخابی معرکوں میں پی ٹی آئ اور کپتان کی سوچ سُرخرو ہو سکے۔

اگر مہنگائ کے خاتمے اور کرپٹ افراد سے لوٹی دولت کی واپسی کے لئے اقدامات نہ کئے جا سکے تو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی جیسی نحوستوں کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے نہیں روکا جا سکے گا۔

لوگوں کو بیوقوف بنانا انہیں خوب آتا ہے،

انکی اب بھی کوشش ہے کہ مہنگائ کی اس موجودہ لہر کو کیش کروا کے اپنے دہائیوں کے گناہ اور کرپشن معاف کرواکر لوٹ مار کا سلسلہ پھر سے شروع کیا جا سکے۔

عوام مہنگائ کے ہاتھوں تنگ ہونے کے باوجود عمران خان کا ساتھ دینا چاہتے ہیں،

مگر اس ساتھ کو حاصل کرنے کے لئے حکومت کو بھی کچھ نہ کچھ سیر حاصل کرنا ہو گا#

تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

@lalbukhari