fbpx

بچے چیزیں یاد رکھنے میں بڑوں سے زیادہ تیز کیسے؟

بچے چیزیں یاد رکھنے میں بڑوں سے زیادہ تیز کیسے؟

چیزیں سیکھنے میں بچے بڑے بڑوں سے اچھے ہوتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ماہرین نے معمہ حل کردیا۔ زبان ہو ، جنرل نالج یا ٹیکنالوج بچے چیزوں کو سیکھنےاور یاد رکھنے میں بڑوں سے اچھے ہو تے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟ اسی وجہ کو جاننے کے لیے ماہرین نے ایک تحقیق کی ہے۔ جرمنی میں جامعہ ریجنسبرگ اور براؤن یونیورسٹی کے نیوروسائنسداں کے مطابق دماغ میں گابا نامی کیمیائی جزو چیزوں کو سیکھنے اور دیر تک یاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر تا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گیما امائنوبیوٹرک ایسڈ یا گابا نامی کیمیکل بچوں کے اکتسابی عمل میں بہت سرگرم ہوجاتا ہے اور وہ بڑے پیمانے پر معلومات و تجربات جذب کرسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کا دماغ ایک بڑے فوم کی طرح معلومات کو نہ صرف جذب کرتا ہے بلکہ وہ طویل عرصے تک ان کے حافظے اور عمل میں بھی محفوظ رہتی ہیں۔ ماہرین نے سیکھنے کے عمل میں اس کیمیکل کا عمل دخل دیکھنے کے لیے ایک تجربہ کیا اور بچوں اور بڑوں کے دماغ کا وژول کارٹیکس کے ذریعے مطالعہ کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
نائیجیریا میں ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے منتظر 32 افراد اغوا
ٹائٹن اروم نامی پھول جو 7 سے 10 سال میں ایک بار کھلتا ہے
کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی

تجربے میں 8 تا 11 برس کے 55 بچے اور 18 تا 35 برس کے 56 بالغ افراد شامل کیے گئے ۔ مختلف اوقات میں بچوں اور بڑوں کے دماغ کا جائزہ لیا گیا۔ پورے تجربے میں بڑوں کے دماغ میں گابا کی سطح یکساں رہی لیکن بچوں میں سیکھنے اور پڑھائی کے دوران گابا کی سرگرمی بھی بڑھی یہاں تک کہ سیکھنے کے عمل کے بعد بھی گابا کیمیکل بڑھا ہوا دیکھا گیا۔ ماہرین نے تجربات سے یہ بھی اخذ کیا ہے کہ بچے بڑوں کے برعکس سیکھنے کے بعد تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے اور دس منٹ بعد ہی ان کا دماغ دوبارہ سے کچھ نا کچھ سیکھنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔