fbpx

یقین کرو تم کر سکتے ہو تحریر: شمسہ بتول

ہم بچپن سے یہ الفاظ سنتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر پاٶ گے یا تم سے یہ نہیں ہو گا یا تم یہ نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود اپنی زندگی میں کچھ نہیں کر پاتے اور پھر دوسروں کے کانوں میں بھی یہی الفاظ پھونکتے ہیں۔ حلانکہ اس دنیا میں کوٸی بھی چیز نہ ممکنات میں سے نہیں ایسا نہ ممکن کہ آپ کسی کام کو کرنے کی کوشش کریں اور وہ نہ ہو۔ آپ کیا کر سکتے ہو اور کیا نہیں یہ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے لوگوں کو یہ فیصلہ نہ کرنے دیں کیونکہ اپنے بارے میں جس طرح آپ جانتے کوٸی اور نہیں جان سکتا۔ ہمارا دماغ جس میں ہر چیز ہر لفظ ٹہر جاتا ہے اب یہ آپ کے اختیار میں کہ اس میں مایوسی کو جگہ دینی ہے یا امید کو۔ اگر آپ اپنے دماغ میں ایک بات بٹھا لیں کہ میں یہ کر سکتا ہوں اللہ نے مجھے قابلیت اور صلاحیت سب کچھ عطا کیا ہے بس مجھے اب ہمت کرنی ہے اور اپنے مقصد کے لیے کوشش کرنی ہے تو آپ ضرور کامیاب ہونگے ۔اور اگر آپ خود ہی یہ سوچ لیں کے آپ کسی قابل نہیں یا آپ کچھ نہیں کر سکتے تو پھر ساری دنیا مل کر بھی آپ کو motivate نہیں کر سکتی۔ ایک بچہ پیدا ہوتے ساتھ ہی چلنا شروع نہیں کر دیتا وہ بچہ پہلے گرتا ہے
پھر اٹھتا ہے اور تین چار بار یہی ہوتا پھر آخر کار وہ آہستہ آہستہ اپنی ماں کی طرف قدم بڑھاتا جو بازو پھیلاۓ اس کی منتظر ہوتی لیکن اگر ماں بچے کے لڑکھڑانے پر اسے آکر سہارا دے دے گی تو وہ کوشش نہیں کرے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرتی وہ چاہتی کہ اپنے پیروں پہ چل کر اس کی طرف آۓ اب اور بچے کی محبت کا مرکز چونکہ ماں ہوتی وہ کیسے بھی ہمت کر کے چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوے اسکے پاس پہنچ جاتا
بلکل اسی طرح آپکا مرکز بھی آپ کا مقصد ہونا چاہیۓ آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف قدم بڑھاتے جاٸیں ہو سکتا ہے دو تین دفعہ آپکو ناکامی کا سامنا کرنا پڑھے مگر ہر بار ایسا نہیں ہو گا اور بلآخر آپ کامیاب ہو جاٸیں گے۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں دنیا کی کوٸی طاقت آپکو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتی جب تک آپ خود شکست تسلیم نہ کر لیں۔ اسلیے خود پر اعتماد رکھیں اگر آپ خود ہی اپنے اوپر اور اپنی صلاحیتوں کو تسلیم نہیں کریں گے تو کوٸی دوسرا کیسے کرے گا۔
خامی اگر آپ کے اندر کوٸی موجود بھی ہے تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ حقیر ہیں اس دنیا میں کوٸی شخص مکمل نہیں ہے ہم سب میں کوٸی نہ کوٸی خامی موجود ہوتی اصل بات تو یہ ہے کہ آپ اس سے مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔ یہ سوچنا کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچیں گے یہ سراسر بے وقوفی ہے کیونکہ لوگ تو آپ کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے دور حاضر میں زندگی اتنی مصروف ہے کہ کسی کے پاس فرصت ہی نہیں کہ وہ کسی اور کے بارے میں سوچ سکے ہاں کچھ فارغ لوگ آپکی ٹانگیں ضرور کھینچتے مگر جب آپکے اندر خود اعتمادی موجود ہو گی تو یہ سب چیزیں کوٸی معنی نہیں رکھیں گی اور آپکو خود اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنی ہے کوٸی اور آ کر آپ کے لیے یہ نہیں کرے گا۔ اپنی ذہن سے یہ جملہ نکال کر پھینک دیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ اللہ نے آپ کو اشرف المخلوقات یونہی تو نہیں بنایا اور کہا ہے۔ اس نے آپ کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے اس لیے خود پر یقین کرنا سیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ناکامیاں تو زندگی کا حصہ ہیں اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ نکمے یا ناکارہ ہیں بلکہ اسکا مطلب ہے کہ آپ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاٸیں اور پھر سے کھڑے ہوں اور دنیا کو ثابت کریں کہ اگر ہو ہمت سینوں میں تو سر کر لیے جاتیں ہیں پہاڑ بھی۔ خود سے بس ایک جملہ کہا کریں کہ آپ کر سکتے ہیں😇

@b786_s