یکجہتی فلسطین ایمان کا حصہ ہے ازقلم غنی محمود قصوری

یکجہتی فلسطین ایمان کا حصہ ہے

ازقلم غنی محمود قصوری

موجودہ دور میں ہم دیکھیں تو مسلمان مصائب میں گھرے ہوئے ہیں جہاں دیکھوں مظلوم مسلمان اور ظالم کافر ہیں
مسلمانوں کو ہر طرح سے غلام بنا کر رکھا گیا ہے جس کی وجہ ہماری جہاد جیسے اہم دفاعی و مذہبی فریضے سے دوری ہے اسی لئے آقا علیہ السلام نے فرمایا

موجودہ ذلت جہاد سے دوری کا نتیجہ ہے

"جب تم سودی کاروبار شروع کر لو گے اور گائے کی دُمیں پکڑلوگے،کھیتی باڑی پر تکیہ لگا کر بیٹھو گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ذلت کو مسلط کر دے گا اور اُس وقت تک نہیں ہٹائے گا جب تک تم اپنے اصل دین یعنی جہاد کی طرف لوٹ نہیں آتے۔”
(ابوداؤد۔کتاب الجہاد۔حدیث:2956)

آج دیکھ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پوری دنیا کا
مسلمان پستی اور زبوں حالی کا شکار ہے جس کی خالصتاً وجہ جہاد چھوڑنے کا انجام ہے کشمیر ہو یا فلسطین شام ہو یا افغانستان و عراق ہر جگہ ہی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہے
مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں میں ایک علاقہ فلسطین بھی ہے جو کہ مسلمانوں کا پہلا قبلہ اول بھی ہے

لبنان اور مصر کے درمیانی علاقے کو فلسطین کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی مسجد بیت المقدس بھی اسی علاقے فلسطین میں ہے مکہ مکرمہ سے پہلے یہی مسجد مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور مسلمان اسی کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے
عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش اور تبلیغ کا مرکز بھی یہی فلسطین ہے
مکہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریبا 1300 کلومیٹر ہے
1948 سے پہلے تک فلسطین ایک آزاد خودمختار مسلمان ریاست تھی اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا

1947 میں اس وقت کی سپر پاور برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو الجھایا ور یہودیوں کو باقاعدہ فنڈنگ کرکے انہیں مضبوط کیا تاکہ یہودی فلسطینی علاقوں پر قابض ہوجائیں وقت کی سپر پاور کی شہہ پر یہودیوں نے 14 اور 15 مئی 1948 کی درمیانی شب تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کا اعلان کر دیا جس پر عربوں اور اسرائیل کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گئے
مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھایا گیا تو مختلف ممالک نے مختلف تجاویز دیں جو کہ ساری کی ساری اسرائیلیوں کے حق میں ہی تھیں
29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس و امریکہ کی فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کو دو تہائی اکثریت سے قرار داد نمبر 181 کے تحت منظور کر لیا تاہم عربوں نے اس بات کا رد کیا جس کے نتیجے میں بعد میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم باقاعدہ جنگ میں بدل گئے تھے

1967 میں ظالم یہودی نے اپنی غلام و لونڈی سلامتی کونسل کے غیر جانبدارانہ رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا

کافروں کی لونڈی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین میں بھی اپنا کوئی کردار ادا نا کر سکی اور 29 نومبر 1977 کو عالمی یوم یکجہتی فلسطین منطور کر لیا گیا جیسا کہ یکجہتی کشمیر کے لئے 5 فروری
واضع رہے کہ بیت المقدس عیسائیوں ،یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس حدیث سے لگاتے ہیں

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟
کیا بات ہے؟
میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگا اور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شام میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔ مسند احمد 13015

اس حدیث سے ثابت ہوا دجال یہودیوں میں ظاہر ہو گا اور اس وقت یہودی اسرائیل یعنی سابقہ فلسطینی علاقوں میں رہ رہے ہیں اور مسیحیت کے پیشوا جناب عیسی علیہ السلام بھی شام و فلسطین کے علاقے لد میں آسمان سے نازل ہونگے اور امت محمدیہ کے پیروکار بن کر آئینگے جس سے موجودہ عیسائیت کی غلط بیانی کی قلعی کھلتی ہے اسی لئے برطانیہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اسرائیل کو فلسطین پر قابض کروایا تھا
نیز مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دجال کا خاتمہ بھی یہیں ہو گا ان شاءاللہ
اس لئے یہودی و عیسائی ہر حال میں فلسطین پر قابض رہنا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے فلسطینی مجاہدین و عوام 7 دہائیوں سے یہودیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے جیسا کہ کشمیری ہندوں کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں
سلامتی کونسل کی جانب سے مسئلہ کشمیر و فلسطین کو حل کرنے کی قطعاً کوشش نہیں کی جار ہی ہے اس لئے یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کا حوصلہ بڑھائے رکھے اور ان کی مدد کریں
مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کو اپنے طور پر اسرائیل کا ناطقہ بند کرنا چاہئیے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو بتانا چاہئیے کہ اس وقت پوری دنیا میں اسرائیل کے برانڈ چل رہے ہیں جن میں کولا کولا،پیپسی ،سام سنگ ،ڈیل و دیگر مشہور ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جو ہمارے ہی مسلمان ممالک سے لیسہ کما کر ہمارے مسلمان کو غلام بنائے رکھنے میں صرف کرتی ہیں نیز اسرائیل کے برانڈز کے مقابلے میں ان تمام ممالک کو مشترکہ طور پر اپنے برانڈ لگانے چائیے اور اس کی بچت فلسطینیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنی چاہئیے
آئیے جیسے 5 فروری کو پچھلے ہفتے کشمیریوں سے یکجہتی کی ایسے ہی اس ہفتے 14 فروری کو کو بطور یوم یکجہتی فلسطین منا کر فلسطینیوں کی ہمت بڑھائیں کیونکہ فلسطینیوں سے اسرائیل کو اس کی سوچ سے بڑھ کر جواب دیا ہے اور دے بھی رہے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.