fbpx

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے تحریر: ناصرہ فیصل

ہم سب اپنی روزمرہ کی زندگی میں مصروف ہیں، جہاں ہم دفتر کے کاموں، گھریلو کام کاج، دعوتوں، گھومنے پھرنے، پرسکون نیند لینے میں مصروف عمل ہیں اور ہمیں کوئی فکر نہیں کے کیسے ہم ایک آزاد ملک میں آزادی سے اپنی زندگی آرام و سکون سے گزار رہے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی نہیں کی کہ ہم کن لوگوں کی وجہ سے یہ سب اتنی آسانی سے انجواۓ کر پاتے ہیں۔ ہاں جی ہماری پاک آرمی ، جسکے جوان دن رات ہماری حفاظت کرتے ہیں ،اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں تاکہ ہم لوگ پرسکون نیند سو سکیں، جو اپنی آرام دہ زندگی چھوڑ کر خود کو بے سکون کرتے ہیں تاکہ ہم پرسکون رہ سکیں، جو اپنی خوشیوں کی پرواہ نہیں کرتے تاکہ ہم خوش رہ سکیں، جو نا صرف اپنے خاندان کا بلکہ پوری قوم کا درد اپنے سینے میں رکھتے ہیں، جو اپنی ماؤں سے ہزاروں میل دور اس لیے رہتے ہیں کہ باقی سب کی مائیں اطمینان سے رہ سکیں، جو اپنی نئی نویلی دلہن کو اس لیے اکیلا چھوڑ کرچلے جاتے ہیں تاکہ باقی سب جوڑے ہنسی خوشی رہ سکیں، جو اپنی زندگی تک قربان کر ڈالتے ہیں تاکہ ہم سب محفوظ و مطمئن زندگی گزار سکیں۔ یہ ہیں ہماری پاک افواج کے بہادر سپوت ،جن کو سلیوٹ کرنا ہم سب پر فرض کی طرح ہونا چاہیے۔ کیونکہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں ، اُن کے احسان مانتی ہیں اور انکو بلند مقام اور درجہ دیتی ہیں.

وہ لوگ جو انکے سینے پر لگے بیجز پر ہی نظر رکھتے ہیں ، ان بیجز کے پیچھے چھپی قربانیوں اور داستانوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ وہ جن کو صرف انکا پروٹوکول نظر آتا ہے اس پروٹوکول تک پہنچنے کی انکی لمبی جدوجہد کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ وہ جو انکو دی گئی سہولیات پر انگلی اٹھاتے ہیں انکی قلیل تنخواہوں کے بارے میں نہیں جانتے۔ اور جو انکے بڑے گھروں کو دیکھتے ہیں پر یہ نہی جانتے کے کیسے ہر 6 مہینے سال دو سال بعد انکو اپنا بوریا بستر باندھ کر کوچ کرنا پڑتا ہے۔

یہ اپنے لیے نہی جیتے بلکہ انکی جدوجہد، پیار، کوششیں، دیکھ بھال، وقت، دن رات حتٰی کہ انکی زندگیاں بھی صرف پاکستانی قوم کے لیے ہیں۔ یہ خاکی وردی انکو دن رات کی انتھک محنت اور کٹھن مراحل سے گزرنے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے لیکن یہ ثابت قدم رہتے ہیں پیچھے نہی ہٹتے۔ میدان جنگ میں بھی یہ صرف آگے بڑھنے کی لگن رکھ کر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اپنے وسیع سینوں پر گولیاں کھاتے ہیں، پیچھے مڑ کر دیکھتے بھی نہیں۔ اور وہ یہ سب اتنی آسانی سے کیسے کر جاتے ہیں؟ کبھی سوچا ہے؟ وہ یہ اس لیے کر پاتے ہیں کیونکہ وہ اس دھرتی سے، یہاں کے لوگوں سے، یہاں کی مٹّی سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارا فخر ، ہمارا مان ہیں۔ انکی وجہ سے کسی دشمن میں ہمت نہیں کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ بھی سکے۔
پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔ برّی برّی طاقتوں نے اپنے مذموم ارادوں میں ہمیشہ شکست کھائی کیونکہ ہماری پاک فوج کے جوان اور اسکے جانباز ہمہ وقت اس سرزمین کی حفاظت کے لیے چاق وچوبند ہیں۔ آج ہر کوئی پاکستان کی فوج کا معترف ہے کیونکہ اس فوج نے ہر میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑے ہیں اور خود کو ثابت کیا ہے۔ اسی لیے پاکستان آرمی کو دنیا کی بہترین افواج میں گردانا جاتا ہے۔ اور یہ اعزاز انہوں نے ایسے ہی حاصل نہیں کر لیا۔ اسکے لیے انہوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔اپنے آپ کو قربان کیا ہے۔ کتنے بیشمار شہیدوں کا لہو شامل ہے اس گلستاں کی آرائش میں۔ کتنی ماؤں کی گود اُجڑی ہے، کتنی سہاگنوں کے سہاگ اُجڑے ہیں، کتنی بچوں کے سر سے انکے والد کاسایہ چھینا گیا ہے تو یہ چمن بسا ہے اور یہاں پر بہار ہے۔

الحمدللہ پاکستان ایک نیوکلیئر پاور ہے۔ جو کہ پاکستان آرمی کی بہت بڑی طاقت ہے۔ اسی کی وجہ سے بھارت جیسے بڑے ملک کی ہمت نہیں کے وہ آنکھ اٹھا کر پاکستان کی طرف دیکھ بھی سکے۔۔ اسی وجہ سے بھارت ہمیشہ پیٹھ پیچھے وار کرتا ہے پر ہماری آئی ایس آئی ہمیشہ اسکے ہر وار کو ناکام بنا دیتی ہے۔
پاکستان کا بچہ بچہ اپنی افواج سے بےپناہ پیار کرتا ہے۔ انکی قدر کرتا ہے ۔ اور اسی لیے دن رات اپنی افواج کے دفاع کیلئے تیار رہتا ہے۔
علّامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے ہی بہادر ، نڈر اور بلند حوصلہ جوانوں کے متعلق فرمایا تھا،

"”یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی "”

پاک فوج زندہ باد۔
پاکستان پائندہ باد۔

‎@NiniYmz