fbpx

یہ عدالت کسی کو کوئی گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

یہ عدالت کسی کو کوئی گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ حملہ کیس کی سماعت ہوئی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے بے قصور وکلا کے گھروں پر پولیس چھاپوں کی رپورٹ طلب کر لی ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کو کل تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی،ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات اور ایس ایس پی پولیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے ،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈپٹی کمشنر اور اسلام آباد پولیس پر اظہار برہمی کیا،ڈی سی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ مجھے صبح ہی پتا چلا ہے، اسی وجہ سے ایس ایس پی کو بلایا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کسی کو کوئی گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی،اصل مجرمان کے بجائے آپ بے گناہوں کو ہراساں کررہے ہیں، جو حملے میں ملوث ہیں ان کو آپ پکڑ نہیں سکتے،

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

عدالت نے ڈی سی اسلام اباد سے استفسار کیا کہ یہ کیا مذاق ہورہا ہے؟ کون کررہا ہے یہ سب؟ پروفیشنل وکلا کو کون ہراساں کررہا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملے پر انکوائری بٹھائیں اور پتہ کریں کہ کس نے ایسا کیا اور کیوں کیا؟ ملک میں رول آف لا نہیں ہوگا تو کچھ بھی نہیں ہوگا، جو بھی اصل ملزمان کو بچانا چاہتے ہیں آپ اس عدالت کو بتائیں گے،

بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.