fbpx

اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی،یوم پیدائش عرش صدیقی

اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی
اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی

عرش صدیقی

پیدائش:21جنوری 1927ء
گرداس پور، ہندستان
وفات:08اپریل 1997ء

نام ارشاد الرحمن اور تخلص عرش تھا۔ 21؍جنوری 1927ء کو گورداس پور(مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ایم اے (انگریزی) گورنمنٹ کالج، لاہور سے کیا۔ پی ایچ ڈی ورلڈ یونیورسٹی اری زونا(امریکا) سے کیا۔ پروفیسر شعبہ انگریزی گورنمنٹ کالج ملتان، چیرمین پروفیسر شعبہ انگریزی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور رجسٹرار بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے عہدوں پر فائز رہے۔ 08اپریل 1997ء کو ملتان میں انتقال کرگئے۔ شاعری کے علاوہ افسانہ اور تنقید بھی لکھتے تھے۔ ان کی تصانیف کے چند نام یہ ہیں: ’دیدۂ یعقوب‘، ’محبت لفظ تھا میرا‘، ’ہرموج ہوا تیز‘(شعری مجموعے)، ’باہر کفن سے پاؤں‘(افسانے) پر آدم جی ایوارڈ ملا۔’تکوین‘، ’محاکمات‘، ’شعور‘، ’سائنسی شعور اور ہم‘( تنقید)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:200

اشعار
۔۔۔۔۔
ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ
ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا
اے سنگ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا

ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گے
لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئے
اپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا

دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیر
گھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا

میں پیروی اہل سیاست نہیں کرتا
اک راستہ ان سب سے جدا چاہئے مجھ کو

ایک لمحے کو تم ملے تھے مگر
عمر بھر دل کو ہم مسلتے رہے

بس یوں ہی تنہا رہوں گا اس سفر میں عمر بھر
جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جاتا ہوں میں

زمانے بھر نے کہا عرشؔ جو، خوشی سے سہا
پر ایک لفظ جو اس نے کہا سہا نہ گیا

اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی
اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی

ہم نے چاہا تھا تیری چال چلیں
ہائے ہم اپنی چال سے بھی گئے