کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

0
57
altaf

بس ایک بار وہ آیا اور اس پے یہ عالم
کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

الطاف گوہر

یوم پیدائش: 17 مارچ 1923
۔………………………………………..
آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے ممتاز ادیب، شاعر، مصنف، صحافی، دانشور اور بیوروکریٹ الطاف گوہر 17 مارچ 1923 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام راجہ الطاف حسین اور پنجابی کے جنجوعہ قبیلے سے تعلق تھا۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی مگر اردو اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور تھا۔ ابتدا میں وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے لیکن بعد ازاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے سرکاری آفیسر بن گئے۔ وہ صحافت سے بھی وابستہ رہے انگریزی اخبار ڈان کے مدیر رہے جبکہ حکومت پاکستان کے سیکریٹری اطلاعات جیسے اہم منصب پر بھی فائز رہے۔ وہ جنرل ایوب خان کے بہت قریب رہے یہی وجہ ہے کہ بدنام زمانہ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کے نفاذ کو ان کا ذہنی اختراع کہا جاتا ہے۔ انہوں نے قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ انہوں نے صحافت بھی کی اور شاعری بھی کی مولانا مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن کا انہوں نے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے سوانح نگاری بھی کی۔ 14 نومبر 2000 کو الطاف گوہر کی 77 برس کی عمر میں اسلام آباد میں وفات ہوئی۔ ان کے نمایاں قلمی کام درج ذیل ہیں ۔

گوہر گزشت (آپ بیتی)

لکھتے رہے جنوں کی حکایت

ایوب خان:فوجی راج کے پہلے دس سال

تفہیم القرآن کا انگریزی میں ترجمہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند منتخب اشعار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ صحرا کبھی تو ٹوٹے گا یہ خبط کبھی تو پھوٹے گا
یہ سناٹا یہ خاموشی مجبور فغاں ہو جائے گی

ہم تو یونہی کبھی کبھی کہتے ہیں چھیڑ سے غزل
پیشہ وروں پے کیا بنی اہل زباں کو کیا ہوا

بس ایک بار وہ آیا اوراس پے یہ عالم
کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

پھر رہے ہیں سر بازار تماشا بن کر
بد گمانی تری ظالم ابھی باقی ہے

نظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھوپ کے سائے
۔۔۔۔۔۔۔۔
شام دلہن کی طرح
اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی بیٹھی ہے
گوشۂ چشم سے کاجل کی سیاہی ابھی آنسو بن کر
بہتے غازے میں نہیں جذب ہوئی
ابھی کھوئی نہیں بالوں کی دل افروز پریشانی میں
مسکراتی ہوئی سیندور کی مانگ
گھلتے رنگوں میں ابھی کاہش جاں باقی ہے
گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے
کب مٹیں کیسے مٹیں
شب کی تاریکیاں ہر سمت بکھر جائیں تو آرام ملے
یہ چمکتے ہوئے ذرے نہ رہیں
ذوق تماشا نہ رہے
کوئی تمنا نہ رہے
اک کرن چھوڑ کے جاتی ہی نہیں
چشم گیں کرتی ہوئی کھیل رہی ہے اب تک
زرد رو گھاس کے سینے پہ تھرکتی ہوئی بڑھ جاتی ہے
سنگریزوں کی نگاہوں میں چمکتی ہوئی لوٹ آتی ہے
کوئی سمجھائے اسے جاؤ چلی جاؤ یہاں اب کیا ہے
دھوپ کے کانپتے سایوں کو ذرا بڑھنے دو
شب کی تاریکیاں چھا جانے دو
میں نے سو بار کہا ایک نہ مانی اس نے
مسکراتی ہوئی شاخوں پہ لرزتی ہی رہی
یوں بھی تڑپانے میں اک لطف تو ہے سوز تو ہے
رنگ گھلتے ہیں گھلیں گے آخر
گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے
کب مٹیں کیسے مٹیں
اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی
شام دلہن کی طرح بیٹھی رہی بیٹھی رہی

Leave a reply

Slot Malaysia Sbobet88 Demo Slot Daftar Server Luar Daftar Server Thailand Sbobet88 Daftar Server thailand Daftar Server jepang Daftar Server myanmar Daftar Server Thailand Akun Pro Myanmar Akun Pro Jepang Akun Pro Rusia Situs Luar Negeri Slot Server Pagcor Slot Bonanza Slot Server Macau PGSlot Slot Server Kamboja Slot Server Myanmar PG Slot Slot Demo Pragmatic Slot Server Thailand Link Server Luar Slot Server Luar Slot Server Thailand Slot Server Luar Slot Server Luar Slot Server Thailand PGSlot Slot Zeus Akun Pro Jepang Slot Server Kamboja Akun Pro Peru Slot Server Kamboja Slot Server Korea Slot Server Luar Slot Server Kamboja