fbpx

یوم یکجہتیِ فلسطین بقلم: حیات عبداللہ

یوم یکجہتیِ فلسطین
بقلم: حیات عبداللہ

صدیاں بِیت چلیں اس کرّہ ء ارض پر یہودی حشر سامانیاں اور فتنہ سازیاں نہ صرف امن و آشتی کو غارت کیے ہوئے ہیں بلکہ مسلمانوں کے عین جگر میں خنجر گھونپ کر ایک ناجائز یہودی ریاست کو بھی قائم کر دیا گیا۔

وہ بھی ایک یہودن تھی جس نے بکری کے گوشت میں زہر ملا کر نبیؐ کو بہ طور ہدیہ دیا تھا۔نبیؐ نے گوشت کا ٹکڑا منہ میں ڈالا اور فوراً ہی نکال کر پھینک دیا اور فرمایا کہ مجھے یہ ہڈّی بتا رہی ہے کہ اس میں زہر کی ملاوٹ ہے۔اس کے بعد اس یہودن کو بلایا گیا تو اس نے اعترافِ جرم کر لیا۔

آج اگر ساری دنیا کے یہودیوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو کراچی شہر سے بھی کم جگہ میں سما سکتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کی چالبازیوں نے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے لے کر اقوامِ متحدہ تک پنجے اتنی مضبوطی سے گاڑ رکھے ہیں کہ خفیف سی صعوبتیں بھی یہودی مفادات میں اپنے دانت گاڑنے لگیں تو عیسائیت کا دَم نکلنے کو ہو جاتا ہے۔امریکا کا کوئی بھی صدر ہو، یہودیوں کے تحفّظ کے لیے زمزمہ سنج ہونا اس کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما بھی اپنی پہلی صدارتی تقریر میں یوں نواسنج ہُوا تھا کہ ”اسرائیل، امریکا کی ذمہ داری ہے اور امریکا اپنی ذمہ داری خوب نبھائے گا۔“ ایک امریکی ایلچی جوزف بائیڈن بھی مقبوضہ بیت المقدس میں یوں ڈھنڈورچی بن کر ڈھنڈورا پِیٹ چکا ہے کہ ”امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کو سب سے بڑی فوجی طاقت دیکھنا چاہتا ہے۔“ اس نقارچی نے ایک اسرائیلی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کو یقین دلایا تھا کہ ایران سے کسی بھی تصادم کی صورت میں امریکا بھرپور طور پر اسرائیل کی مدد کرے گا۔

1880ء میں یہودی خاندان فلسطین جا کر آباد ہونے لگے اور پھر بہت جلد 1897ء میں صہیونی تحریک کی بنیاد رکھ دی گئی جس کا سب سے پہلا مقصد فلسطین پر قبضہ تھا۔1917ء فلسطین میں یہودیوں کی تعداد صرف 25 ہزار تھی مگر اگلے پانچ سال میں ان کی تعداد 38 ہزار تک پہنچا دی گئی۔ 1922ء تا 1939ء یہودیوں کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی اور پھر 14 مئی 1948ء کی تلخ وترش ساعتیں آ گئیں جب اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔فرطِ جذبات میں اسرائیل کے سامنے سب سے پہلے زانوئے تلمّذ تہ کرنے والے امریکا اور روس تھے۔ پھر یہودی سفاکیت اور فلسطینی مظلومیت بڑھتی ہی جانے لگیں۔اسرائیلی حکومت نے 1967ء میں غزہ کی پٹّی پر قبضے کے بعد اس علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے سیکڑوں منصوبے بنا کر ان پر عمل کیا مگر اقوامِ متحدہ آج تک گونگے کا گُڑ کھا کر چُپ سادھے بیٹھی اس سارے سفاکانہ کھیل سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔

1956ء میں اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کیا جس سے 3 ہزار لوگ ہلاک ہو گئے۔1967ء میں اسرائیلی حیوانیت پھر پھنکار اٹھی، جب اسرائیل نے حملہ کیا تو چھے روزہ جنگ میں 20 ہزار عرب مسلمان شہید ہو گئے۔اسرائیل کے منہ کو مسلمانوں کا خون ایسا لگا کہ پھر 1973ء میں اس نے شام اور مصر کے 18 ہزار مسلمانوں کو ہلاک کر ڈالا۔ آج تک 60 ہزار سے زائد فلسطینی مسلمان اسرائیل کے سفاک منہ کا نوالا بن چکے ہیں۔

آج فلسطین کے بچّے، بوڑھے اور جوانوں کو سکون کا سانس لینے کا حق تک حاصل نہیں، ان کی زندگیوں میں ایسے درد جھونک دیے گئے ہیں جو موت سے بھی بدتر ہیں۔آج ان کا انگ انگ فریاد کناں ہے۔انسانی حقوق کا خوبصورت اور جاذبِ نظر غلاف پہن کر یہودونصاریٰ کے حقوق کی ترجمانی اور حفاظت پر مامور اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی ظلم وستم کے خلاف سیکڑوں قراردادیں پاس ہو چکیں مگر اقوامِ متحدہ نے کبھی مسلمانوں پر ظلم و ستم کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔آج تک اقوامِ متحدہ نے اپنی سیاہ زلفوں میں سے مکھڑا نکال کر پلکیں اٹھا کر بھی یہ تک دیکھنے کی جسارت نہ کی کہ یہودوہنود امّتِ مسلمہ پر کیسے کیسے بھیانک انداز میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، البتہ اگر کسی بھی یہودی یا عیسائی جذبات واحساسات میں کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اسے فوراً ہی انسان بھی یاد آ جاتے ہیں اور انسانوں کے حقوق بھی تڑپانے لگتے ہیں۔

عالمی امن کے لیے سوہانِ روح بن جانے والی داعش کو یہودی پادری بڑے دھڑلے سے ہدیہ ء الٰہی سے تعبیر کرتے رہے ہیں اس لیے کہ داعش کا ہدف صرف اور صرف مسلمان ہیں۔فلسطین میں کچھ عرصہ قبل جب 34 مسلمان شہید کر دیے گئے تھے تو مجھے تو کچھ اخبارات پر بڑی حیرت ہوئی کہ انھوں نے خبر لگائی کہ ”یہودیوں کا مقدس مقام نذرِ آتش، غرب اردن میں کشیدگی“ یہ یہودیوں کا مقدّس مقام کیسے ہو گیا؟ یہ تو مسلمانوں کے مقامات ہیں یہودی تو قابض ہیں۔

دنیا جانتی ہے کہ اسرائیلی حکام نے 40 سال سے کم عمر فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے قدغنیں تک عائد کی ہیں۔خون آشام ظلم دیکھیے کہ ایک طرف پتھروں سے مقابلہ کرنے والے فلسطینی ہیں جب کہ دوسری جانب ہر طرح کے اسلحہ و بارود سے مسلح یہودی۔دنیا کا وہ کون سا ظلم ہے جو اہل فلسطین کے جسم و جاں میں نہیں گاڑا جا رہا مگر درد والم سے لدے کئی عشرے بیت جانے کے باوجود ان کے جذبوں کا بانکپن آج بھی دیدنی ہے۔ اہلِ عرب اور اہلِ اسلام کی جانب سے مایوسیوں کے زرد موسموں کے باوجود ان کے حوصلے چٹخے نہیں۔

معلوم نہیں کب من حیث المجموع امّتِ مسلمہ کی رگوں میں وہ حمیّت دوڑے گی جو اہلِ فلسطین کے لیے آزادیوں سے مزیّن نوید اور مسرّت لے آئے گی؟ میری گزارش فقط اتنی ہے کہ 14 فروری کے دن دلوں میں عشق ومحبت کا جو خبط امڈ آتا ہے اس کا رخ کسی کی بہن بیٹی کی طرف موڑنے کی بجائے یہ مثبت رنگ دیجیے کہ محبتوں کے اس جنون کو اپنے فلسطینی بھائیوں کی طرف موڑ دیجیے اور جب تک فلسطین کے مقہور و مظلوم مسلمان یہودی فتنہ سازوں اور صہیونی ظالموں سے آزاد نہیں ہوتے تب تک 14 فروری کو درد سے کُرلاتے اہلِ فلسطین سے منسوب کر دیجیے!

یہ نوید افزا شعر اختر شیرانی کا ہے۔

انھی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا
اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی ہو گی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.