fbpx

 یوم دفاع (۳) پاک بھارت جنگ 1965 کا پس منظر تحریر: احسان الحق

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور کٹھ پتلی حکومتی پولیس کا کشمیریوں اور حریت پسندوں کے خلاف ظلم انتہا کو پہنچ گیا. بھارتی مظالم کو دیکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں نے 08 اگست 1965 کو ایک انقلابی کونسل کے قیام کا اعلان کیا اور بھارتی سامراج کے خلاف اعلان جنگ کر دیا. ساتھ ہی "صدائے کشمیر” کے نام سے ایک خفیہ ریڈیو سٹیشن بھی قائم کیا گیا. اسی صدائے کشمیر ریڈیو سے کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے اور ہمہ گیر جنگ کے لئے پیغام دیا گیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کشمیر کی آزادی کے خلاف اور بھارت کے لئے کام کرنے والے غداروں کو سزا دی جائے گی.

جب انقلابی کونسل کے اعلان جنگ کے حوالے سے بھارتی حکومت اور فوج نے کوئی اثر قبول نہ کیا تو 9 اگست 1965 کو مجاہدین نے بھارتی فوج کی چوکیوں اور مورچوں پر شدید حملے کئے جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کو شدید جانی نقصان ہوا. اسی روز صدائے کشمیر سے ایک 4 نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا.

ا. کشمیری عوام کٹھ پتلی حکومت کو کوئی محصول نہ دیں. عنقریب انقلابی کونسل محصولات اور مال گزار ی جمع کرنے کے لئے ایک مشنری قائم کرے گی.

ب. کوئی بھی کشمیری بھارتی حکام یا کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کرے، خلاف ورزی پر گولی مار دی جائے گی.

ت. 9 اگست 1953 کے شہداء کی فہرست تیار کر لی گئی ہے اور ہر شہید کا بدلہ لیا جائے گا. 

ث. آزادی اور جمہوریت کے عالمی راہنماؤں کو تعاون کی اپیل کی جاتی ہے.

صدر آزاد کشمیر عبدالحمید خان نے بھارتی مظالم کے خلاف اعلان کیا کہ کشمیری بھارتی سامراج کو دفن کر دیں گے. صدر عبدالحمید نے انقلابی مجاہدین اور حریت پسندوں کو آزاد کشمیر کی طرف سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا. 10 اگست 1965 کو حریت پسندوں نے اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا. حریت پسند سری نگر میں داخل ہو گئے اور دوسری طرف مجاہدین جموں سے چند میل کے فاصلے پر پہنچ گئے. صدائے کشمیر ریڈیو کے مطابق سری نگر میں 9 پلوں کو تباہ کر دیا گیا اور سری نگر-جموں شاہراہ کو بند کر دیا گیا. بھارتی فوج کے کئی ڈپو اور 4 پیٹرول پمپس کو آگ لگا دی گئی. مجاہدین کی کامیابی اور بھارتی فوج کی پسپائی دیکھتے ہوئے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ غلام صادق نے بھارتی وزیراعظم لال شاستری سے ہنگامی حالت نافذ کرنے کی درخواست کر ڈالی.

10 اگست کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان نے کشمیر کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت سے احتیاط سے کام لینے کی درخواست کی. اسی روز مجاہدین نے سری نگر سے 30 میل دور بارہ مولا کے قریب بھارتی فوج کی پوری بٹالین کو جہنم واصل کر دیا. اسی علاقے میں بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر مجاہدین نے دھاوا بول کر 40 بھارتی فوجیوں کو ہلاک جبکہ 30 کو زخمی کر دیا. 4 روز کی لڑائی میں بھارت کے سو سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے جن میں 12 افسر بھی شامل تھے.

انقلابی کونسل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ

اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کے لئے کیا کیا؟

اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کر لینے سے بھارت کے خلاف کیا کیا؟

اقوام متحدہ نے ہزاروں کشمیریوں کو شہید ہونے سے کیوں نہیں بچایا؟

انقلابی کونسل نے پاکستان پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خالی خولی وعدوں کی ضرورت نہیں اور نہ پاکستان کی وکالت کی ضرورت ہے. اب کشمیری اپنے پیروں پر کھڑے ہو چکے ہیں.

11 اگست 1965 کو بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ہنگامی اجلاس طلب کیا. اجلاس کسی ایسے نتیجے پر نہیں پہنچا کہ جس سے فوری طور پر حریت پسندوں کے حملوں کو روکا جاتا. 11 اگست 1965 کو برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے لکھا کہ

"مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی اکثریت مسلمان ہے اسی لئے وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کسی بھی قیمت پر کشمیریوں کو رائے شماری کا حق نہیں دے گا”

پانچ روز کی شدید لڑائی کے بعد حریت پسندوں کی لڑائی کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا. 13 اگست 1965 کو مجاہدین نے سری نگر کے ریڈیو سٹیشن اور ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے کے لئے بھرپور حملہ کیا. مجاہدین کی تعداد لگ بھگ 50 تھی اور اس حملے میں 4 بھارتی فوجی شدید زخمی ہوئے. اس شدید حملے کے بعد بھارتی وزیر دفاع گلزای لال نندا انقلابیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے سری نگر کے دورے پر آئے. 

13 اگست 1965 کو بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کو دھمکی دے دی. حریت پسندوں کے شدید حملوں کی وجہ سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا جواب طاقت سے دیا جائے گا. 14 اگست کو مجاہدین نے سری نگر کے قریب زبردست حملہ کرتے ہوئے متعدد بھارتیوں کو ہلاک کر دیا.

پے درپے شکستوں کے بعد بھارتی فوج اپنی بزدلی کا بدلہ لینے کے لئے عام اور نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کی انتہا کر دی. سری نگر کی نواحی بستی میں 300 لکڑی کے مکانوں کو نذر آتش کر دیا جس سے 250 سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے. 15 اگست کو مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان سری نگر سے کچھ دور خونریز جنگ ہوئی جس میں 150 بھارتی ہلاک اور 35 سے زیادہ زخمی ہوئے. مجاہدین نے ایک بھارتی افسر اور تین فوجیوں کو قیدی بھی بنا لیا. 16 اگست 1965 کو بھارتی فوج آزاد کشمیر میں داخل ہو کر کارگل کی تین چوکیوں پر قبضہ کر لیا قبل ازیں مئی میں بھارت نے انہیں چوکیوں پر قبضہ کیا تھا جو کہ اقوام متحدہ کی مداخلت سے بھارت نے قبضہ چھوڑ دیا تھا. 16 اگست کو مجاہدین سری نگر کو فتح کرنے کے نزدیک تھے مگر بھارت جنگی طیاروں کو میدان میں لے آیا، بھارتی دعوے کے مطابق 141 مجاہدین شہید جبکہ 60 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے. 16 اگست کو چین نے حریت پسندوں کے حملوں کو قانونی قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی.

17 اگست کو مجاہدین نے سرینگر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے کے لئے چاروں اطراف سے دھاوا بول دیا اور آٹھ چوکیوں پر قبضہ کر لیا اور سینکڑوں فوجیوں کو ہلاک کر دیا. 17 اگست کو آزاد کشمیر کی اسٹیٹ کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کی مدد کرنے کے لئے اعادہ کیا. 18 اگست کو مجاہدین کے ایک اور کامیاب حملے میں 33 بھارتی ہلاک ہوگئے.

18 اگست 1965 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان نے پاکستان اور ہندوستان کے نمائندوں سے بات کی. 19 اگست کو پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت کو خبردار کیا کیا دھمکیاں دینا بند کرو، جموں وکشمیر پاکستانی علاقہ ہے گوا، جونا گڑھ اور حیدرآباد کی طرح کشمیر پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے. اسی روز 19 اگست کو بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے جموں وکشمیر میں گوریلا جنگ چھیڑ رکھی ہے لہذٰا پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی. 19 اگست کو مجاہدین کے ہاتھوں 92 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے. سکھوں کی بٹالین کو حریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کہا گیا مگر انہوں نے انکار کر دیا. کٹھ پتلی وزیراعلیٰ جی ایم صادق نے آزاد کشمیر پر حملے کرنے کی دھمکی دی.

20 اگست 1965 کو حکومت نے کہا کہ بھارت کے جنگی طیاروں نے گزشتہ دس دنوں میں 12 مرتبہ پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی. 20 اگست کو ایک جھڑپ میں 32 فوجی ہلاک ہوئے اور دو اعلیٰ افسر گرفتار کر لئے گئے. 20 اگست کو روس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کی. 30 اگست کو بھارتی فوجوں نے ٹیٹوال سیکٹر میں حملے کئے.

یکم ستمبر 1965 کو پاکستانی فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو گئی اور جنگ بندی لائن سے 8 میل دور دو چوکیوں "چھب” اور "دیوا” پر قبضہ کر لیا. یکم ستمبر کو 8 گھنٹوں کی جنگ کے بعد مجاہدین نے دیوا، مونا وال، خیر وال، جوڑیاں، چھارپانی، پالن وال اور چھب پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا. اس کے بعد مجاہدین اکھنور اور جموں کی طرف پیش قدمی کرنے لگے.

یکم ستمبر کو بھارتی وزیر اعظم نے ایک بار پھر پاکستان کو دھمکی دی. 2 ستمبر کو اوتھان نے پاکستان اور بھارت کو جنگ بندی کی اپیل کی. اسی روز مجاہدین نے پونچھ کے شمال میں ایک بھارتی بٹالین کا صفایا کر دیا. 2 ستمبر کو جوڑیاں کی چوکی پر قبضہ کر لیا.

پاکستان کے ہیرو میجر محمد سرور شہید جنگ 1965 کے پہلے پاکستانی شہید ہیں، انہوں نے بہادری سے چھب سیکٹر سے آگے پیش قدمی کرتے ہوئے 2 ستمبر کو جوڑیاں کا قلعہ فتح کرتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرا دیا. 5 ستمبر کو پاک فوج اکھنور سے اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور فوج اکھنور کے نواح میں پہنچ گئی جس کا اعتراف آل انڈیا ریڈیو نے اپنی نشریات میں کیا.

6 ستمبر 1965 کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آرتھر گولڈ برگ کی زیر صدارت ہوا. مندوبین نے ایک قرارداد منظور کی. قرارداد کی سفارشات اور تجاویز کے مطابق

ا. تمام علاقوں میں فوری جنگ بندی کی جائے.

ب. تمام فوجی دستے 5 اگست 1965 سے پہلے والی جگہوں پر چلے جائیں. 

ت. سیکرٹری جنرل اس قرارداد کو تمام متاثرہ علاقوں میں عمل کروائیں.

ث. معاملے پر گہری نظر رکھی جائے تاکہ سلامتی کونسل غور کرے کہ اس علاقے کے لئے آئندہ کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے.

(جاری ہے)

@mian_ihsaan