fbpx

یوم دفاع (۲) ریاست جموں وکشمیر کے تنازعہ کا تاریخی پس منظر تحریر: احسان الحق

روز اول سے ہندوستان برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے خلاف تھا. تقسیم برصغیر کے بعد، ہندوستان پاکستان کے خلاف ہو گیا اور مختلف طریقوں سے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے پاکستان کے وجود کو نقصان پہنچانے میں مصروف عمل رہا ہے.

برصغیر کی تقسیم کے کچھ دن بعد دونوں ممالک کے درمیان، ریاست جونا گڑھ، رن کچھ، حیدرآباد دکن اور ریاست کشمیر کے قبضے اور الحاق پر جھگڑا ہو گیا. پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کی اہم ترین اور پیچیدہ ترین وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ "مسئلہ کشمیر” ہے. یہ غلط نہ ہوگا اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام جنگوں کی وجہ بھی مسئلہ کشمیر ہے. مسئلہ کشمیر کو سمجھنے کے لئے اس کے تاریخی پس منظر کو جاننا لازمی ہے.

14 اگست 1947 کو تقسیم برصغیر کے وقت تاج برطانیہ کا راج ختم ہو گیا. برصغیر میں موجود 562 ریاستوں کو اپنی مرضی سے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے یا خودمختار ریاست کی حیثیت سے رہنے کا حق حاصل ہو گیا. ریاست جوناگڑھ کے حکمران نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا. ریاست میں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور اسی بنیاد پر ہندوستان نے فوج کشی کرتے ہوئے جونا گڑھ پر ناجائز قبضہ کر لیا. حیدرآباد دکن خود مختار حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی تھی مگر بھارت نے ستمبر 1948 میں ریاست حیدرآباد دکن پر ناجائز قبضہ کر لیا. ریاست رن کچھ پر کافی سال تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ چلتا رہا، چھوٹی بڑی کافی جھڑپیں بھی ہوئیں. خیر، رن کچھ کا مفصل موضوع ہے جس کی تفصیل یہاں مناسب نہیں.

ریاست کشمیر کا مسئلہ جونا گڑھ، رن کچھ اور حیدرآباد کی ریاستوں سے مختلف ہے. ریاست کشمیر کا حکمران ہندو تھا مگر یہاں کی 80 فیصد آبادی مسلمان تھی. جغرافیائی لحاظ سے بھی یہ علاقہ پاکستان کے ساتھ ملا ہوا تھا. مذہبی، سیاسی، جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے ریاست کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ بنتا تھا اسی لئے مہاراجہ کشمیر نے معاہدہ جاریہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا. ریاست کے تمام امور اور فرائض پاکستانی حکومت نے سنبھال لیے. اس معاہدے کے پیچھے ایک سازش تھی کہ وقتی طور پر مسلم اکثریتی آبادی کو کسی قسم کی بغاوت یا تحریک سے باز رکھا جائے تاکہ اندر کھاتے ریاست کشمیر کا الحاق بھارت سے کیا جا سکے. جواہر لال نہرو اور گاندھی کی ملی بھگت سے مہاراجہ کشمیر نے یہ چال چلی تاکہ مسلم اکثریت آبادی مہاراجہ سے اعلان بغاوت نہ کر دے. پاکستان اور کشمیری مسلمانوں کو بیوقوف بناتے ہوئے درپردہ وہ ہندوستان سے الحاق چاہتا تھا. جب کشمیری مسلمانوں پر اصلیت عیاں ہوئی تو مسلمانوں نے اپنی مدد کے بل بوتے پر 24 اکتوبر 1947 کو کشمیر کا کچھ حصہ آزاد کروا لیا. جس کو آزاد کشمیر کا نام دیا گیا اور اس کے پہلے صدر ابراہیم منتخب ہوئے. ہندو مہاراجہ وادی کشمیر سے بھاگ کر جموں میں روپوش ہو گیا جہاں اس نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو خط لکھا کہ بھارتی فوج کی مدد درکار ہے. چونکہ قانونی طور پر کشمیر پاکستان سے ملحق تھی اس لئے بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل نہیں ہو سکتی تھیں. مہاراجہ نے لکھا کہ ریاست کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں. چنانچہ غیر قانونی طور پر 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہو گئی اور جموں وکشمیر کو مقبوضہ بنا لیا.

یکم جنوری 1948 کو بھارت نے سلامتی کونسل کے سامنے کشمیر کے مسئلے کو پیش کیا مگر اس سے پہلے مکار ہندوستان کشمیر پر قبضہ کر چکا تھا. 16 جنوری کو پاکستان نے بھی رجوع کر لیا. سلامتی کونسل نے دونوں فریقین کی شکایات سنیں اور حسب روایت ضروری نصیحت کی کہ ایک دوسرے کے خلاف انتہائی قدم اٹھانے سے پرہیز کیا جائے اور ہندوستان کو فوج کے انخلاء کا کہا گیا مگر بھارت کی طرف سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ دیکھتے ہوئے پاکستان نے بھی مئی 1948 کو اپنی فوج کشمیر میں اتار دی. سلامتی کونسل نے ایک کمیشن تشکیل دیا جس کو "کمیشن برائے پاک وہند” کا نام دیا گیا. کمیشن کی کوششوں سے فریقین یکم جنوری 1949 کو جنگ بندی پر راضی ہو گئے.

جنگ بندی کے بعد ایڈمرل ٹمنز کو ناظم استصواب رائے مقرر کیا گیا، 7 ماہ بعد 27 جولائی 1949 کو خط متارکہ جنگ کا تعین بھی کر دیا گیا مگر بھارت کے مسلسل انکار کی وجہ سے یہ سمجھوتہ بھی سود مند ثابت نہ ہوا.

مارچ 1949 کو کمیشن برائے پاک وہند نے فریقین کے ساتھ مل کر فوج کے انخلاء پر اتفاق کیا. پاکستان فوجی انخلاء پر راضی ہو گیا مگر بھارت نے پہلے مہلت مانگی اور بعد میں انکار کر دیا. کمیشن نے تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی پاس شدہ قراردادوں پر پیدا شدہ اختلافات کو ناظم رائے شماری ایڈمرل ٹمنز کے سامنے ثالثی کے لئے پیش کیا جائے. امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیراعظم اٹیلی نے دونوں فریقین کو مزکورہ تجویز پر آمادہ کرنے کی کوشش کی. اس تجویز کو پاکستان مان گیا مگر بھارت نے ایک بار پھر انکار کر دیا.

دسمبر 1949 کو اس وقت کے صدر سلامتی کونسل جنرل میکناٹن ریاست جموں وکشمیر سے فوجوں کے انخلاء کی تجویز پیش کی مگر بھارت نے ہمیشہ کی طرح انکار کر دیا جبکہ پاکستان رضامند ہو گیا. مارچ 1950 میں سلامتی کونسل نے ڈکسن کو اپنا نمائندہ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ 5 ماہ کے اندر اندر فوجیوں کے انخلاء کو یقینی بنائیں. ڈکسن فریقین سے ملتے رہے اور آخر کار اپنی تجاویز مرتب کیں اور سلامتی کونسل میں پیش کیں. ان تجاویز کو پاکستان نے قبول کیا مگر بھارت پھر انکاری رہا.

جنوری 1951 میں دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم نے ریاست جموں وکشمیر میں غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے کی پیش کش کی اور مندرجہ ذیل تجاویز پیش کیں.

1. آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دولت مشترکہ کی طرف سے فوج مہیا کریں گے.

2. بھارت اور پاکستان کی مشترکہ فوج

3. مقامی لوگوں کی فوج جسے ناظم رائے شماری تیار کرے.

پاکستان نے تینوں تجاویز مان لیں اور بھارت نے تینوں تجاویز کو ماننے سے انکار کر دیا. مارچ 1951 میں برازیلی سفیر نے تجویز پیش کی اور اسی دوران سلامتی کونسل نے بھی اپنی قرارداد کے ذریعے فوجوں کے انخلاء کے متعلق تجویز دی مگر اسکو بھی بھارت نے رد کر دیا. 20 مارچ 1951 سے 22 دسمبر 1951 کے درمیان اقوام متحدہ کے نمائندے ڈاکٹر فرینک گراہم نے متعد تجاویز دیں کہ کسی طرح جموں وکشمیر سے فوجوں کا انخلاء ہو اور رائے شماری کرائی جا سکے مگر ہمیشہ کی طرح بھارت ہٹ دھرمی دکھاتا رہا. دسمبر 1951 سے مارچ 1956 تک مختلف اوقات میں مختلف ذرائع اور مختلف طریقوں سے پاکستان کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے مگر بھارت مکروہ چہرہ دکھاتا رہا. 

29 مارچ 1956 کو لوک سبھا میں نہرو نے تقریر کی اور کہا کہ "پاکستان کو امریکی امداد کا حصول، معاہدہ بغداد اور جنوب مشرقی ایشیاء کی رکنیت نے خطے کی سیاست تبدیل کر دی ہے لہذا مسئلہ کشمیر کو ازسر نو دیکھنے کی ضرورت ہے”. اپریل 1956 میں قومی اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر عام بحث ہوئی اور وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ براہ راست مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، مسئلے کے حل کے لئے دوبارہ سلامتی کونسل میں جانے کی ضرورت ہے. مسئلے کو حل کرنے کے لئے پاکستان نے براہ راست آخری کوشش کے طور پر جولائی 1956 میں پاکستانی وزیراعظم نے لندن میں جواہر لال سے ملاقات کی مگر نہرو نے صاف انکار کر دیا. نومبر 1956 سے لیکر اپریل 1958 تک مختلف اوقات میں سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کے حل کرنے کے حوالے سے بات ہوتی رہی.

1960 میں جب نہرو نے پاکستان کا دورہ کیا تو صدر ایوب خان نے مسئلہ کشمیر پر بات کی مگر ہمیشہ کی طرح بے سود ثابت ہوئی. یکم فروری 1962 کو مسئلہ کشمیر ایک بار پھر سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا. روس نے بھارت کے حق میں قرارداد کو ویٹو کر دیا. جون 1962 میں آئرلینڈ کے نمائندے نے قرارداد پیش کی مگر ایک بار پھر روس نے ویٹو کر دیا. فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کی کوششوں سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے 27 اکتوبر 1962 تا 16 مئی 1963 کے دوران، کراچی، راولپنڈی، نئی دہلی اور کلکتہ میں وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت ہوتی رہی مگر بے نتیجہ.

16 دسمبر 1963 میں بھارتی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ریاست جموں وکشمیر کے 85000 مربع میل رقبے میں سے 34000 مربع میل کا علاقہ پاکستان کو دینے کے لئے تیار ہیں مگر وزیر خارجہ ذوالفقار بھٹو نے انکار کر دیا. 20 جنوری 1964 کو سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب ظفراللہ خان نے 15 صفحاتی یاداشت جمع کروائی جس میں کہا گیا تھا کہ 30 مارچ 1951 اور 24 جنوری 1957 کی قراردادوں پر عمل کروایا جائے. سلامتی کونسل میں 100ویں مرتبہ مسئلہ کشمیر اٹھایا جا رہا تھا. 1965 میں صدر جنرل ایوب خان نے روس کا دورہ کیا جہاں روس نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان کو اپنی مدد اور حمایت کا یقین دلایا.

(جاری ہے)

@mian_ihsaan